آسٹریلیا کا تاریخی دورۂ پاکستان، پیٹ کمنز حفاظتی انتظامات سے مطمئن

یہ دورہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل طور پر واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا

0 701

ملک میں اِس وقت پاکستان سپر لیگ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن اصل کرکٹ شائقین کو انتظار ہے اس کے بعد آسٹریلیا کے دورے کا۔ ایک ایسا تاریخی دورہ جو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل طور پر واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

ٹیم آسٹریلیا تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ پر مشتمل ایک بھرپور سیریز کے لیے آئندہ چند روز میں سرزمینِ پاک پر اترے گی اور کپتان پیٹ کمنز کہتے ہیں کہ وہ دورۂ پاکستان کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔

پاک-آسٹریلیا سیریز کا باضابطہ آغاز 4 مارچ کو راولپنڈی میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا، جس کے بعد کراچی اور لاہور میں بھی ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ محدود اوورز کے مقابلوں میں تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی شامل ہوگا جو سب راولپنڈی میں ہوں گے۔

آسٹریلیا کا دورۂ پاکستان 2022ء

بمقابلہ بمقام بتاریخ
پاکستان پہلا ٹیسٹ آسٹریلیا راولپنڈی ‏4 تا 8 مارچ 2022ء
پاکستان دوسرا ٹیسٹ آسٹریلیا کراچی ‏12 تا 16 مارچ 2022ء
پاکستان تیسرا ٹیسٹ آسٹریلیا لاہور ‏21 تا 25 مارچ 2022ء
پاکستان پہلا ون ڈے آسٹریلیا راولپنڈی ‏29 مارچ 2022ء
پاکستان دوسرا ون ڈے آسٹریلیا راولپنڈی ‏31 مارچ 2022ء
پاکستان تیسرا ون ڈے آسٹریلیا راولپنڈی ‏2 اپریل 2022ء
پاکستان واحد ٹی ٹوئنٹی آسٹریلیا راولپنڈی ‏5 اپریل 2022ء

یہ 1998ء کے بعد آسٹریلیا کا پہلا دورۂ پاکستان ہوگا، یعنی پورے 24 سال کے بعد۔ اس سے اس دورے کی تاریخی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کمنز کہتے ہیں کہ ہم اس وقت بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں اور ایک مرتبہ پاکستان پہنچنے کے بعد ہماری پوری توجہ صرف کرکٹ پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ

"یہ ایک بہت خاص دورہ ہوگا کیونکہ ہم کئی چیزوں کا پہلی بار تجربہ اٹھائیں گے۔ ہم سب اس دورے پر بہت خوش ہیں۔"

پاکستان کرکٹ عرصہ دراز تک بین الاقوامی کرکٹ سے محروم رہی ہے۔ نائن الیون اس کا نقطہ آغاز تھا ، جس کے بعد پاکستان میں کرکٹ کے انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔ بہرحال، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں نے پاکستان کے دورے کیے، یہاں تک کہ ایشیا کپ کی صورت میں ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ بھی یہاں منعقد ہوا لیکن 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے کرکٹ کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے۔ یہاں تک کہ پاکستان 2011ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی سے بھی محروم ہو گیا اور سالہا سال تک اسے اپنے میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑے۔

پاکستان کو عرصہ دراز تک اپنی تمام ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑیں

حالات معمول پر آنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ بحال ہونے لگی اور گزشتہ سال نیوزی لینڈ نے دورۂ پاکستان کیا اور پہلے میچ کے دن اچانک نامعلوم خدشات کی بنیاد پر کھیلنے سے انکار کر دیا اور وطن واپسی کی راہ لے لی۔ نیوزی لینڈ کے اس فیصلے سے پاکستان کو بہت دھچکا پہنچا کیونکہ اس کے بعد انگلینڈ نے بھی طے شدہ دورۂ پاکستان ملتوی کر دیا۔ ان فیصلوں پر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید ہوئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ان ٹیموں نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان کیا بلکہ آسٹریلیا نے بھی پاکستان آنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

پاک-نیوزی لینڈ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی تک ہو چکی تھی لیکن ۔۔۔۔۔

ویسے آسٹریلیا اس وقت اپنی بہترین فارم میں ہے۔ گزشتہ ماہ اس نے روایتی حریف انگلینڈ کو ایشیز میں ‏4-0 سے شکست دی تھی۔ وراولپنڈی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کی الیون بھی تقریباً انہی کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی کہ جنہوں نے انگلینڈ کو ہرایا تھا۔ جیسا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے عثمان خواجہ ڈیوڈ وارنر کے ساتھ اوپننگ کریں گے۔

پیٹ کمنز نے تصدیق کی ہے کہ اسٹیو اسمتھ سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں زخمی ہونے کے بعد اب تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور بدستور دورۂ پاکستان کا حصہ ہوں گے۔

پھر کمنز کے ہمراہ جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک ہوں گے جو پَیس اٹیک سنبھالیں گے جبکہ اسپن میں نیتھن لاین نمایاں ہوں گے۔

پاکستان میں اسپن باؤلرز کو ملنے والی ممکنہ مدد کے پیش نظر آسٹریلیا آشٹن ایگر یا مچل سویپسن کو بھی کھلا سکتا ہے، جو پاکستان آنے والے اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔

ٹیم آسٹریلیا اِس وقت میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں دورۂ پاکستان کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہی ہے اور کپتان کہتے ہیں کہ اگر ہم خود کو ٹیسٹ میں نمبر ایک ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں برصغیر میں کچھ کر دکھانا ہوگا۔

آسٹریلیا انگلینڈ کو ایشیز میں ‏4-0 سے ہرا کر پاکستان آ رہا ہے