راولپنڈی میں پاکستان کا غلبہ، آسٹریلیا سے غلطی کہاں ہوئی؟

پاکستان تین جبکہ آسٹریلیا صرف ایک اسپنر کے ساتھ میدان میں اترا

0 748

پاک-آسٹریلیا تاریخی ٹیسٹ سیریز کا آغاز راولپنڈی میں ہو چکا ہے جہاں ٹاس جیتنے کے بعد پورا دن پاکستان کا غلبہ رہا۔

پہلے دن کا کھیل مکمل ہوا تو اسکور بورڈ پر 245 رنز موجود تھے، صرف اور صرف ایک وکٹ کے نقصان پر۔ اگر عبد اللہ شفیق ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ نہ دیتے تو شاید آسٹریلیا دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد کچھ حاصل نہ کر پاتے۔

پاکستان نے شاید ہی کبھی آسٹریلیا کے خلاف کسی مقابلے میں کے پہلے ہی دن ایسا غلبہ حاصل کیا ہو۔ اس میں بہت سے عوامل کا کردار ہے، جیسا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا، ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ لیکن چند ماہرین کہتے ہیں کہ آسٹریلیا نے ٹیم کے انتخاب میں بھی ایک غلطی کی ہے۔

پاکستان آنے والے دستے میں تین اسپنرز موجود ہیں جن میں سے صرف ایک باؤلر کو ٹیم میں شامل کیا گیا یعنی لائن کو۔ مچل سویپسن اور آشٹن ایگر میں سے کسی کی جگہ نہیں بنائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آسٹریلیا کو ابتدائی 20 اوورز ہی میں پارٹ ٹائم باؤلرز کا رخ کرنا پڑا۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کمنٹیٹر کیری او کیف کہتے ہیں کہ تین فاسٹ باؤلرز اور ساتھ نیتھن لائن، یہ آسٹریلیا کا فارمولا ہے جو عرصے سے کامیاب ہے۔ پھر راولپنڈی کی بھی اپنی تاریخ یہی ہے کہ یہاں فاسٹ باؤلرز کو مدد ملتی ہے۔ اسی لیے آسٹریلیا صرف ایک اسپن باؤلر کے ساتھ میدان میں اترا اور نتیجہ یہ نکلا کہ 17 واں اوور ٹریوس ہیڈ سے کروانا پڑا۔

آسٹریلیا نے پہلے دن اپنے 8 باؤلرز کو آزمایا، لیکن یہ سب مل کر بھی آسٹریلیا کو ایک سے زیادہ وکٹ نہ دلا سکے۔ صرف وکٹ کیپر اور اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ ہی باؤلنگ کے "شرف" سے محروم رہے۔

اُن کے مقابلے میں پاکستان تین اسپنرز کے ساتھ کھیل رہا ہے: ساجد خان، نعمان علی اور افتخار احمد بلکہ ٹاس جیتنے کے بعد بابر اعظم نے تو یہ تک کہا کہ ایک اسپنر میں بھی ہوں۔

اب آسٹریلیا کو اپنے پارٹ ٹائم یعنی جُز وقتی باؤلرز پر انحصار کرنا پڑے گا۔ مارنس لبوشین، ٹریس ہیڈ اور اسٹیون اسمتھ کو بھی گیند پکڑانا ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان کا ہوم گراؤنڈ پر ریکارڈ بہت اچھا ہے بلکہ جب عرب امارات کو اپنا مسکن بنایا تھا تو وہاں بھی خوب فتوحات سمیٹی تھیں۔ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان آنے والے یہاں پہنچ کر بُری طرح ہارے بھی ہیں۔ مثلاً 2005ء میں آسٹریلیا کو تاریخی ایشیز ہرانے والے انگلینڈ کو پاکستان نے ‏2-0 سے شکست دی تھی، اس لیے آسٹریلیا کو سنبھل کر کھیلنا ہوگا ورنہ یہ میچ بلکہ سیریز بھی ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔