راولپنڈی کی پچ، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟

0 1,000

پاک-آسٹریلیا تاریخی ٹیسٹ میچ بہت تیزی سے ڈرا کی جانب گامزن ہے۔ راولپنڈی میں آخری دن کوئی انہونی ہو جائے تو الگ بات ورنہ اس بے جان پچ پر تو کوئی فیصلہ آنے والا نہیں ہے۔

کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے تو پہلے ہی دن سمجھ گئے تھے جب اسٹارک، کمنز اینڈ کمپنی دن بھر کی جدوجہد کے بعد پاکستانی بلے بازوں کی صرف 1 وکٹ لے پائی تھی۔

تب سے اب تک چار دنوں کے کھیل میں 925 رنز بن چکے ہیں اور صرف 11 وکٹیں گری ہیں۔ ان میں سے اگر چوتھے دن کی وکٹیں نکال دیں تو یہ تین دن میں کُل چھ وکٹیں بنتی ہیں۔ یعنی کہ حد ہی ہو گئی!

پاکستان (پہلی اننگز) 476/4 ڈ
اظہر علی 185 رنز361 گیندیں
امام الحق 157 رنز358 گیندیں
آسٹریلیا (پہلی اننگز )449/7
عثمان خواجہ 97 رنز159 گیندیں
مارنس لبوشین90 رنز158 گیندیں

ایک طرف جہاں پاکستان نے 2.93 فی اوور کی شرح سے رنز بنائے تو آسٹریلیا بھی 3.27 سے آگے نہیں بڑھا۔ یعنی جس ٹیسٹ کے لیے ہم دن گن رہے تھے، وہ حالیہ تاریخ کا سب سے زیادہ بور کرنے والا مقابلہ ثابت ہو رہا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کے اس دور میں جب ٹیسٹ کو ویسے ہی بقا کا مسئلہ درپیش ہے، ایسے میچز کرکٹ کی کوئی خدمت نہیں کریں گے۔ عموماً دنیا بھر میں، بلکہ خود پاکستان میں بھی ٹیسٹ مقابلوں کو دلچسپ بنانے کے لیے اب ایسی وکٹیں بنائی جاتی ہیں جہاں بلے بازوں کے علاوہ باؤلرز کو بھی کچھ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں سال انٹرنیشنل کرکٹ میں کھیلے گئے اب تک کے 9 ٹیسٹ میچز میں سے صرف ایک ڈرا ہوا ہے، اور وہ ڈرا بھی ایسا کہ سالوں یاد رہے گا۔

سال 2022ء میں اب تک کھیلے گئے ٹیسٹ میچز

بمقابلہمارجنبمقامبتاریخ
نیوزی لینڈ*بنگلہ دیش‏8 وکٹیںماؤنٹ مونگانوئییکم جنوری 2022ء
*جنوبی افریقہبھارت‏7 وکٹیںجوہانسبرگ‏3 جنوری 2022ء
آسٹریلیاانگلینڈڈراسڈنی‏5 جنوری 2022ء
*نیوزی لینڈبنگلہ دیشاننگز اور 117 رنزکرائسٹ چرچ‏9 جنوری 2022ء
*جنوبی افریقہبھارت‏7 وکٹیںکیپ ٹاؤن‏11 جنوری 2022ء
*آسٹریلیاانگلینڈ‏146 رنزہوبارٹ‏14 جنوری 2022ء
*نیوزی لینڈجنوبی افریقہاننگز اور 276 رنزکرائسٹ چرچ‏17 فروری 2022ء
نیوزی لینڈ*جنوبی افریقہ‏198 رنز کرائسٹ چرچ ‏یکم مارچ 2022ء
*بھارتسری لنکااننگز اور 222 رنزموہالی ‏4 مارچ 2022ء

*فاتح ٹیم


یہ سڈنی میں کھیلا گیا ایشیز سیریز کا چوتھا ٹیسٹ تھا جس میں انگلینڈ 388 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا۔ تعاقب کیا بس یہ دیکھنا باقی تھا کہ وہ کتنے رنز سے ہارتا ہے۔ لیکن زیک کرالی اور بین اسٹوکس کی نصف سنچریاں اور آخر میں جانی بیئرسٹو کے غیر معمولی 41 رنز سے انگلینڈ میچ بچانے کی پوزیشن میں آ گیا۔ جب آخری دن کے اختتامی لمحات میں جیک لیچ کی صورت میں انگلینڈ کی نویں وکٹ گری تو سب کی جان حلق میں آ گئی تھی۔ یہاں اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن نے کسی نہ کسی طرح آخری دو اوورز نکال لیے اور انگلینڈ کو شکست سے بچا لیا۔

تو یہ تھا اِس سال کا ڈرا ہونے والا واحد ٹیسٹ!

راولپنڈی میں تو ہمیں اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، کم از کم پچ کو دیکھتے ہوئے تو بالکل بھی نہیں۔

اس واحد ڈرا کے سوا رواں سال کھیلے گئے تمام ٹیسٹ میچز نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔ نئے سال کے آغاز پر بنگلہ دیش کی نیوزی لینڈ کے خلاف اپ سیٹ فتح سے لے کر پنڈی ٹیسٹ کے ساتھ شروع ہونے والے بھارت-سری لنکا موہالی ٹیسٹ تک۔ بلکہ یہ آخری ٹیسٹ تو صرف تین دن میں ہی ختم ہوا۔

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کو اب دو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس پورے عرصے میں صرف وہی ٹیسٹ ڈرا ہوا جو سب سے پہلے کھیلا گیا تھا یعنی دسمبر 2019ء میں ہونے والا پاک-سری لنکا راولپنڈی ٹیسٹ۔ اس کے بعد سے پاک سرزمین پر ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا جو نتیجہ خیز نہ ہو، یہاں تک کہ بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف اسی راولپنڈی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچز بھی۔

تو آخر آسٹریلیا کے خلاف ایسی وکٹ بنائی کیوں گئی؟ کیا شکست کے خوف سے ایسا کیا گیا؟ آسٹریلیا کی باؤلنگ طاقت بلاشبہ اِس وقت بہت زیادہ ہے۔ اگر واقعی اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسی وکٹ بنائی گئی ہے تو پھر پاکستان کے لیے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس سوچ کے ساتھ آسٹریلیا تو کجا زمبابوے کو بھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کو بے باک اور بے خوف ہو کر آسٹریلیا کا مقابلہ کرنا ہوگا، ورنہ نتیجہ وہ بھی نکل سکتا ہے جو آسٹریلیا کے آخری دورۂ پاکستان میں نکلا تھا، یعنی کراری شکست!