کراچی ایکسپریس، جو کبھی پٹری نہیں چڑھ سکی

0 826

یہ 2001ء میں 8 مارچ یعنی آج ہی کا دن تھا جب محمد سمیع کو پاکستان کی ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی۔ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں 8 وکٹیں لے کر انہوں نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ لگ رہا تھا کہ پاکستان کی 'پَیس فیکٹری' سے ایک اور پروڈکٹ نکلی ہے۔ آکلینڈ ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بعد انہیں "مستقبل کا میلکم مارشل" تک کہا گیا، وہ بھی کسی دوسرے کی طرف سے نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ پاکستان کرکٹ کا سر بستہ راز ہے، یعنی ایسا راز جو آج تک نہیں کُھل سکا۔

جب سمیع نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا تھا تو وسیم اکرم اور وقار یونس کا آخری زمانہ شروع ہو چکا تھا۔ پاکستان کو مستقبل کے لیے نئے باؤلرز کی ضرورت تھی۔ بہت سے آئے لیکن جس نے سب سے زیادہ مایوس کیا وہ محمد سمیع تھے۔ کچھ حلقے اس فہرست میں محمد آصف اور شعیب اختر کو بھی شامل کرتے ہیں، محمد آصف کو اپنی حرکتوں کی اور شعیب اختر کو فٹنس کی وجہ سے، لیکن سمیع کو تو کبھی اِن مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ بھرپور فٹنس رکھتے تھے لیکن سوائے چند ایک لمحوں کے وہ کبھی اپنی افادیت اور اہمیت ثابت نہیں کر سکے۔

اب ایسا بھی نہیں کہ انہیں مواقع نہیں دیے گئے، 36 ٹیسٹ کم نہیں ہوتے لیکن ذرا اعداد و شمار دیکھیں۔ 36 میچز میں 52.74 کے بھاری بھرکم اوسط کے ساتھ صرف 85 وکٹیں۔ اتنا زیادہ ایوریج تو 30 سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے شاید ہی کسی باؤلر کا ہو۔

محمد سمیع کا انٹرنیشنل کیریئر

فارمیٹمیچزوکٹسبہترین باؤلنگاوسط5 وکٹیں
ٹیسٹ36855/3652.742
ون ڈے871215/1029.471
ٹی ٹوئنٹی13213/1618.420

انٹرنیشنل کیریئر میں کئی مواقع ایسے آئے جب پاکستان کو محمد سمیع کے باؤلنگ تجربے کی ضرورت تھی لیکن انہوں نے سخت مایوس کیا۔ ایشیا کپ 2004ء میں ہی جب انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ایک میچ میں 17 گیندوں کا اوور پھینکا تھا، تب ایک جھلک نظر آئی تھی۔ پھر جون 2012ء میں سری لنکا کے خلاف آخری اوور میں 15 رنز کا دفاع نہ کر پانا ہو یا ایشیا کپ 2016ء میں بنگلہ دیش کے خلاف بھی اتنے ہی رنز کھا کر پاکستان کی جیت کو شکست میں بدلنا، ایسا لگتا ہے کہ سمیع دباؤ برداشت نہیں کر پاتے تھے۔

محمد سمیع کی چند نمایاں کارکردگیاں ضرور ہیں، بلکہ شاید آپ کو سُن کر حیرت ہوگی کہ وہ ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنلز دونوں میں ہیٹ ٹرک بھی کر چکے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نہ سہی لیکن 2012ء کی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے ذریعے وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ضرور ہیٹ ٹرک رکھتے ہیں۔ یعنی ایک لحاظ سے وہ تینوں طرز کی کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تاریخ کے واحد باؤلر ہیں۔

کبھی کبھار سمیع چلتے تھے، کوئی ایک گیند، کوئی ایک اوور، کوئی ایک وکٹ ایسی کہ جو ہمیشہ کے لیے ذہن پر نقش ہو جائے۔ ہاشم آملا کا یہ کلین بولڈ

اور بغیر ہیلمٹ کے بہادر بننے والے رکی پونٹنگ کی ٹھوڑی پر یہ باؤنسر واقعی ہمیشہ یاد رہے گا!