آسٹریلیا نے پاکستان کو فالو آن پر مجبور کیوں نہیں کیا؟

0 735

پاک-آسٹریلیا سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کا تیسرا دن، ایک ایسا دن کہ جس میں آسٹریلیا کے بھاگ کُھل گئے۔ اس کے باؤلرز جو راولپنڈی میں 217 اوورز کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی صرف 4 وکٹیں حاصل کر پائے تھے، اِس دن جس گیند کو ہاتھ لگایا، وہ وکٹ بن گئی۔ پاکستان کے بلے بازوں کی ناقص شاٹ سلیکشن اپنی جگہ لیکن میزبان کو صرف 148 رنز پر آل آؤٹ کرنے کا کریڈٹ آسٹریلیا کے باؤلرز کو بھی ملنا چاہیے۔

لیکن اس موقع پر حیرت انگیز پاکستان کی بیٹنگ نہیں بلکہ آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز کا فیصلہ تھا جو انہوں نے پاکستان کو آل آؤٹ کرنے کے بعد کیا کہ وہ پہلی اننگز میں 408 رنز کی تاریخی برتری حاصل کرنے کے باوجود خود بیٹنگ کرنے کے لیے دوبارہ میدان میں آئیں گے۔ یعنی انہوں نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اپنے باؤلرز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔

لیکن کیوں؟ کمنز کا یہ فیصلہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید کرکٹ میں فالو-آن کے بعد حریف کو ایک مرتبہ بیٹنگ دینے کا رجحان ذرا کم ہو گیا ہے۔

ماضی میں تو ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ مخالف کو فالو-آن پر مجبور نہ کیا جائے لیکن پھر کرکٹ میں جدّت آ گئی۔ اب جیت کو قریب دیکھ کر کوئی اتاؤلا نہیں ہوتا بلکہ حریف کو فالو-آن پر مجبور کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

اگر یہ خدشہ ہو کہ پچ مزید خراب ہوگی تو کوئی نہیں چاہے گا کہ اسے چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنا پڑے۔ جیسا کہ اگر کراچی میں کوئی معجزہ ہو جائے اور پاکستان پہلی اننگز کا خسارہ پورا کرنے کے بعد آسٹریلیا کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کر دے تو آسٹریلیا کو آخری دن کی پچ سہنا پڑے گی۔

اسے آپ دفاعی حکمتِ عملی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ پہلی اننگز میں حریف کو ٹھکانے لگانے کے بعد تھکے ماندے باؤلرز کو دوبارہ اسی کام پر لگا دینا نئے کپتان ٹھیک نہیں سمجھتے۔ اگر باؤلرز زیادہ تھک گئے ہوں تو ان کے لیے حریف کو دوبارہ آؤٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یوں مخالف کو میچ میں واپس آنے کا موقع مل سکتا ہے۔

آسٹریلیا (پہلی اننگز) 556/9 ڈ
عثمان خواجہ160369فہیم اشرف2-5521
پاکستان (پہلی اننگز)148
بابر اعظم3679مچل اسٹارک3-2913
آسٹریلیا (دوسری اننگز)81-1
مارنس لبوشین3738حسن علی1-144

دنیا کی دیگر ٹیموں کی طرح آسٹریلیا بھی اب زیادہ تر فالو-آن پر مجبور نہیں کرتا۔ مثلاً حال ہی میں کھیلی گئی ایشیز سیریز کے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں اس نے 473 رنز بنا کر انگلینڈ کو 236 رنز پر ڈھیر کیا اور فالو-آن کرنے کے بجائے دوبارہ خود بیٹنگ کی اور آخر میں میچ بھی جیتا۔

اس سے پہلے وہ 2019ء میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز میں بھی ایسا کر چکا ہے اور فالو-آن نہ کرنے کے باوجودد میچ میں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کے خلاف دیکھیں تو ‏2016-17ء میں ہوم سیریز میں آسٹریلیا نے دو مرتبہ پاکستان کو فالو-آن کے باوجود دوبارہ بلے بازی پر نہیں بلایا۔ ان میں سے سیریز کا پہلا ٹیسٹ تو ناقابلِ یقین تھا۔ برسبین میں آسٹریلیا کے 492 رنز کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز صرف 142 رنز پر ہی سمٹ گئی تھی۔ آسٹریلیا نے مطمئن ہو کر دوسری اننگز صرف 202 رنز پر ہی ڈکلیئر کر دی اور پاکستان کو 490 رنز کے تعاقب میں چھوڑ دیا۔

سب یہی سمجھ رہے تھے کہ آسٹریلیا با آسانی جیتے گا کیونکہ 490 تو بہت بڑا ہدف ہے۔ لیکن پاکستان اسد شفیق کی 137 رنز کی تاریخی اننگز اور ٹیل اینڈرز کی غیر معمولی مزاحمت کی بدولت ہدف کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ اسے جیت سامنے نظر آنے لگی، لیکن منزل سے صرف 40 رنز کے فاصلے پر اسد شفیق آؤٹ ہو گئے اور پاکستان یہ میچ تو ہار گیا لیکن سب کے دل ضرور جیت لیے۔

لیکن یاد رکھیں کہ ایسے میچز کبھی کبھی ہی ہوتے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تقریباً 150 سالہ تاریخ میں صرف 3 ٹیسٹ میچز ایسے ہیں، جن میں فالو-آن پر مجبور ہونے کے باوجود کوئی ٹیم ٹیسٹ جیت گئی ہو۔ جبکہ ایسے میچز کی تعداد تو صرف 2 ہے کہ جن میں کوئی ٹیم حریف کو فالو-آن پر مجبور نہ کرنے کے بعد میچ ہار گئی ہو۔ ایسا ایک ٹیسٹ 1950ء کا جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کا ڈربن ٹیسٹ جبکہ دوسرا 2000ء کا تاریخی اور بدنامِ زمانہ جنوبی افریقہ-انگلینڈ سنچورین ٹیسٹ، جس میں دونوں ٹیموں نے اپنی ایک، ایک اننگز سے دستبردار ہو کر میچ کو فیصلہ کُن بنایا تھا۔

کیا کراچی بھی اس فہرست میں آ سکتا ہے؟ کرکٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔