[آج کا دن] کرائسٹ چرچ میں آیا اِک طوفان

0 326

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے تو کوئی جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور کوئی ہار کر بھی دل فتح کر لیتا ہے۔ سن ‏2002ء میں آج یعنی 16 مارچ کے دن کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ جب نیوزی لینڈ کے نیتھن ایسٹل نے ٹیسٹ تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری بنائی تھی۔ وہ ایک ہمالیہ جیسے ہدف کو پانے میں کامیاب تو نہیں ہو پائے لیکن اس اننگز نے دلوں کو فتح کر لیا تھا اور یہ تو آپ جانتے ہیں جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ!

یہ انگلینڈ کے دورۂ نیوزی لینڈ کا پہلا ٹیسٹ تھا جو کرائسٹ چرچ میں کھیلا گیا تھا۔ پہلی اننگز میں انگلینڈ کے 228 رنز کے جواب میں نیوزی لینڈ صرف 147 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا۔

پہلی اننگز میں 81 رنز کی برتری پانے کے بعد انگلینڈ کے حوصلے ایسے بلند ہوئے کہ اس نے دوسری باری میں 468 رنز بنا ڈالے اور نیوزی لینڈ کو دیا 550 رنز کا ایسا ہدف جو کبھی کوئی حاصل نہیں کر پایا۔

نیوزی لینڈ کے پاس وقت تو بہت تھا، لیکن ساڑھے پانچ سو رنز بنانا اور دو دن تک انگلینڈ کی باؤلنگ کا مقابلہ کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ چوتھے دن کی صبح انہوں نے ہدف کے تعاقب کا آغاز کیا۔ 119 رنز پر 3 وکٹیں گریں تو نیتھن ایسٹل میدان میں اترے۔ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے۔ مارک رچرڈسن اور کپتان اسٹیون فلیمنگ کے سوا کوئی ان کا خاص ساتھ نہیں دے سکا۔

جب اسکور 333 رنز پر پہنچا تو نویں وکٹ بھی گر گئی اور ایسٹل نے فیصلہ کر لیا "اب خود کچھ کرنا پڑے گا"۔ اُس وقت وہ 134 رنز پر کھیل رہے تھے اور دوسرے اینڈ پر زخمی کرس کیرنز تھے۔

یہاں ایسٹل نے آر یا پار شروع کر دیا۔ انہوں نے پہلے میتھیو ہوگرڈ کو صرف دو اوورز میں 41 رنز مارے اور پھر اینڈی کیڈک کو 7 گیندوں پر 38 رسید رسید کیے، جن میں تین مسلسل گیندوں پر لگائے گئے شاندار چھکے بھی شامل تھے۔  

ایسٹل نے اپنی سنچری 114 گیندوں پر مکمل کی تھی لیکن ڈبل سنچری تک پہنچنے میں صرف 39 مزید گیندوں کا استعمال کیا۔

نیوزی لینڈ کی اننگز کو پر تو لگ گئے تھے لیکن 9 وکٹیں گرنے کی وجہ سے یہ پرواز کسی بھی وقت ختم ہو سکتی تھی۔ بالآخر جب نیوزی لینڈ ہدف سے 99 رنز کے فاصلے پر تھا تو ایسٹل آؤٹ ہو گئے اور نیوزی لینڈ کی اننگز 451 رنز پر مکمل ہو گئی۔

دسویں وکٹ پر ایسٹل اور کیرنز نے صرف 11 اوورز میں 118 رنز کا اضافہ کیا تھا۔ اس دوران ایسٹل نے 153 گیندوں پر ٹیسٹ تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری بھی مکمل کی۔ وہ 168 گیندوں پر 222 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے صرف ایک مہینے پہلے بنایا گیا آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ کا ریکارڈ توڑا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف 212 گیندوں پر ڈبل سنچری بنائی تھی۔

ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچریاں

گیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
نیتھن ایسٹل153انگلستانکرائسٹ چرچمارچ 2002ء
بین اسٹوکس163جنوبی افریقہکیپ ٹاؤنجنوری 2016ء
وریندر سہواگ168سری لنکاممبئیدسمبر 2009ء
وریندر سہواگ182پاکستانلاہورجنوری 2006ء
برینڈن میک کولم186پاکستانشارجہنومبر 2014ء
وریندر سہواگ194جنوبی افریقہچنئیمارچ 2008ء