مسلسل چوتھی کامیابی، جنوبی افریقہ کا ایک قدم سیمی فائنل میں

0 426

ویمنز ورلڈ کپ نے تو سنسنی خیزی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔  ایک کے بعد دوسرا مقابلہ ہے جو آخری حدوں تک جا رہا ہے۔ میزبان نیوزی لینڈ اور ورلڈ کپ میں ناقابلِ شکست جنوبی افریقہ کا میچ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ مریزان کاپ کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ نے اس میچ میں صرف 2 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور اب اس کا ایک قدم سیمی فائنل میں ہے۔

ہیملٹن میں کھیلے گئے اِس مقابلے میں ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا اور پہلے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا ہی میں سوزی بیٹس کی وکٹ گرنے کے باوجود امیلیا کیر اور کپتان سوفی ڈیوائن نے معاملات سنبھال لیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 35 اوورز مکمل ہوئے تو نیوزی لینڈ تین وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنا چکا تھا اور نظریں ایک بڑے اسکور کی طرف تھیں۔

یہاں پر جنوبی افریقہ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور سنچری کی جانب رواں دواں حریف کپتان ڈیوائن کی وکٹ حاصل کر کے تہلکہ مچا دیا۔ ڈیوائن صرف 7 رنز کی کمی کی وجہ سے ورلڈ کپ میں ایک اور سنچری بنانے سے محروم رہ گئیں۔ انہوں نے 101 گیندوں پر 12 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 93 رنز بنائے۔

یہیں سے مقابلہ نیوزی لینڈ کی گرفت سے نکلنے لگا۔ جب ڈیوائن کی صورت میں پانچویں وکٹ گری تو 41 واں اوور چل رہا تھا اور اسکور بورڈ پر 198 رنز موجود تھے۔ لیکن نیوزی لینڈ کی چھ وکٹیں صرف 30 رنز کے اضافے سے گریں اور اننگز 48 ویں اوور میں صرف 228 رنز پر تمام ہوئی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے شبنم اسماعیل اور آیابونگا کھاکا نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

ویمنز ورلڈ کپ - میچ نمبر 16

نیوزی لینڈ بمقابلہ جنوبی افریقہ

نتیجہ: جنوبی افریقہ 2 وکٹوں سے جیت گیا

نیوزی لینڈ228
سوفی ڈیوائن93101
امیلیا کیر4258
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
شبنم اسماعیل91273
آیابونگا کھاکا8.51313

جنوبی افریقہ 🏆229-8
لارا وولفارٹ6794
سون لوس5173
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
امیلیا کیر101503
فرانسس میک کے8.30492

ویسے آغاز جنوبی افریقہ کا بھی اچھا تھا، بلکہ وہ تقریباً اسی پوزیشن پر پہنچا جہاں پہلے نیوزی لینڈ تھا۔ 35 اوورز میں 3 وکٹوں پر 161 رنز۔ اب اسے 90 گیندوں پر 68 رنز کی ضرورت تھی۔

یہاں نیوزی لینڈ نے صرف 37 رنز کے اضافے پر چار وکٹیں ہتھیا لیں کہ جن میں مسلسل تیسری نصف سنچری بنانے والی لارا وولفارٹ اور ایک ہاف سنچورین کپتان سون لوس کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔

یہ ایسا دھچکا تھا، جس سے سنبھلنا مشکل لگتا تھا۔ لیکن یہاں مریزان کاپ نے میدان سنبھالا اور اس میچ کو آخری اوور تک لے گئیں۔ جب جنوبی افریقہ کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں، تب انہوں نے اپنی شاندار بیٹنگ کے ذریعے جنوبی افریقہ کو کامیابی دلائی۔

آخری 10 گیندوں پر جب 12 رنز درکار تھے تو کاپ نے مڈ آف پر ایک شاندار چوکا لگایا اور آخری اوور کی پہلی گیند پر بھی باؤنڈری حاصل کر کے جنوبی افریقہ کی کامیابی یقینی بنا دی۔

کاپ نے پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے دو شکار بھی کیے تھے اور پھر 35 گیندوں پر ناقابلِ شکست 34 رنز بنائے اور یوں میچ کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

یہ ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی مسلسل چوتھی کامیابی ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ جنوبی افریقہ ایسی شاندار کامیابیاں حاصل کرے گا؟ پھر یہ ورلڈ کپ تاریخ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ان کی پہلی جیت تھی، یعنی ہر لحاظ سے تاریخی فتح۔

اب جنوبی افریقہ آسٹریلیا کے برابر پوائنٹس حاصل کر چکا ہے یعنی چار مقابلوں میں 8 پوائنٹس۔ بس نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے اس سے پیچھے ہے کیونکہ آسٹریلیا کے مقابلے میں جنوبی افریقہ نے بیشتر میچز بہت ہی سنسنی خیز انداز میں جیتے ہیں یعنی بہت کم مارجن سے۔ اب جنوبی افریقہ کو صرف ایک میچ جیتنا ہے اور اس کی سیمی فائنل کی نشست پکّی ہو جائے گی۔ ویسے اس کا اگلا مقابلہ آسٹریلیا ہی سے ہے یعنی یہ نمبر وَن پوزیشن حاصل کرنے کی لڑائی ہوگی۔

اس کے مقابلے میں نیوزی لینڈ کی حالت خراب ہے اور اب تو اس کے ناک آؤٹ مرحلے سے باہر ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے پانچ میچز میں سے صرف دو جیت پایا ہے۔