[آج کا دن] جب لاہور کولمبو بن گیا

0 695

یہ ورلڈ کپ کا فائنل تھا اور اس کے لیے ماحول بہت ہی گرم تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا؟ آخر آسٹریلیا اور سری لنکا جو مدِ مقابل تھے۔ وہی آسٹریلیا کہ جس نے ورلڈ کپ 1996ء میں گروپ مرحلے میں اپنا میچ کھیلنے کے لیے سری لنکا جانے سے انکار کر دیا تھا اور یوں آسٹریلیا-لنکا تعلقات میں ایک نئی دراڑ ڈال دی تھی۔

لیکن فائنل میں اسی آسٹریلیا کا سامنا ارجنا راناتنگا سے تھا، جو آسٹریلین کھلاڑیوں کی روایتی اکڑ فُوں اور ان کے کھلاڑیوں کی حرکتوں کو پسند نہیں کرتے تھے، پھر آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کا مرلی دھرن کی گیندوں کو نو-بال قرار دینے کا وہ واقعہ بھی تھا جس نے ہمیشہ کے لیے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا سخت حریف بنائے رکھا۔

بہرحال، سری لنکا کوارٹر فائنل میں انگلینڈ اور سیمی فائنل میں بھارت کو بُری طرح شکست دے کر فائنل تک پہنچا تھا جبکہ آسٹریلیا سیمی فائنل میں بڑی مشکل سے ویسٹ انڈیز کو چت کر کے لاہور پہنچا تھا۔

جی ہاں! ورلڈ کپ 1996ء کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا، 17 مارچ کو یعنی آج ہی کے دن۔

یہ پاکستان میں کھیلا گیا پہلا ڈے اینڈ نائٹ میچ بھی تھا۔ جسے دیکھنے کے لیے قذافی اسٹیڈیم میں تِل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ سری لنکا نے ٹاس جیتا اور ایک مرتبہ پھر ہدف کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔

ورلڈ کپ 1996ء - فائنل

سری لنکا بمقابلہ آسٹریلیا

‏17 مارچ 1996ء

قذافی اسٹیڈیم، لاہور

سری لنکا 7 وکٹوں سے جیتا

آسٹریلیا241-7
مارک ٹیلر 7483
رکی پونٹنگ4573
سری لنکا باؤلنگامرو
اروِنڈا ڈی سلوا90423
چمندا واس61301

سری لنکا 🏆245-3
ارونڈا ڈی سلوا107124
اسانکا گروسنہا6599
آسٹریلیا باؤلنگامرو
ڈیمیئن فلیمنگ60431
پال رائفل100491

اُس زمانے میں سری لنکا کا کھیلنے کا خاص انداز تھا۔ ایک تو انہیں ہدف کا تعاقب کرنا بہت پسند تھا۔ پھر ان کا "اسٹائل" ہی الگ تھا: ابتدائی 15 اوورز کا بھرپور استعمال کرنے کے لیے سنتھ جے سوریا کے ساتھ وکٹ کیپر رمی شکالووِتھارنا کو بھیجا جاتا اور دونوں میدان میں اترتے ہی حریف باؤلرز پر پل پڑتے۔ ایسی دھواں دار بیٹنگ کرتے کہ دوسری ٹیم کو پھر سر اُٹھانے کا موقع تک نہ ملتا۔

یہاں بھی سری لنکن کپتان راناتنگا نے یہی سوچ کر اور لاہور میں شام کے اوقات میں پڑنے والی اوس کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔

صرف ایک وکٹ پر 137 رنز بنانے کے بعد آسٹریلیا مطمئن تھا جب گیند اس دن کے ہیرو ارونڈا ڈی سلوا کو تھمائی گئی۔ ارونڈا اس دن مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے تو وہ سونا بن جاتی۔ انہوں نے گیند تھامی تو مارک ٹیلر، رکی پونٹنگ اور این ہیلی کی قیمتی وکٹیں ملیں، فیلڈنگ میں کھڑے ہوئے تو اسٹیو واہ اور اسٹورٹ لا کے کیچز پکڑے اور بلے بازی کے لیے آئے تو بہت نازک مرحلے پر ایسی اننگز کھیلی جسے آج بھی ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کی بہترین اننگز میں شمار کیا جاتا ہے۔

دراصل 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 23 رنز پر سری لنکا کے دونوں شعلہ فشاں اوپنرز آؤٹ ہو چکے تھے۔ یہی وہ موقع تھا جب ارونڈا ڈی سلوا میدان میں اترے۔ پہلے اسانکا گروسنہا کے ساتھ مل کر 125 رنز کی شراکت داری قائم کی جس میں اسانکا 99 گیندوں پر 65 رنز کے بعد آؤٹ ہوئے اور پھر اتنے ارجنا راناتنگا! جن کو آسٹریلیا سے بہت پرانے بدلے چکانے تھے۔

دونوں نے باقی ماندہ 94 رنز کے لیے قدم آگے بڑھانا شروع کیے اور معاملہ آخری 10 اوورز میں 51 رنز تک آ گیا۔ لیکن ارونڈا-ارجنا شراکت داری کو روکنا آسٹریلیا کے بس کی بات نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے مواقع بھی ضائع کیے اور ماحول بھی ان کے لیے سازگار نہیں تھا۔ نہ موسم اور نہ ہی میدان، جس میں موجود ہر ہر شخص سری لنکا کے نعرے بلند کر رہا تھا۔

بالآخر 47 ویں اوور کی دوسری گیند پر سری لنکا نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی، وہ پہلی بار عالمی چیمپیئن بن گیا۔

اس کامیابی میں سب سے نمایاں کردار ارونڈا ڈی سلوا کا تھا جنہوں نے شاندار باؤلنگ اور فیلڈنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور 124 گیندوں پر 107 رنز بنا کر ناقابلِ شکست میدان سے لوٹے۔ دوسری جانب کپتان ارجنا راناتنگا نے 37 گیندوں پر 47 رنز کا بہترین اضافہ کیا۔

ارونڈا ڈی سلوا میچ اور سنتھ جے سوریا ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

پاکستان کی اُس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو فائنل کی مہمانِ خصوصی تھیں جنہوں نے ارجنا کو ورلڈ کپ کی خوبصورت ٹرافی دی۔

لاہور میں سری لنکا کی جیت کی خوشی میں لوگ پاکستان کا غم بھول گئے۔ بقول شخصے اُس دن تو لاہور کولمبو کا منظر پیش کر رہا تھا۔

ورلڈ کپ 1996ء کا فائنل سری لنکا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ وہ سری لنکا جو اس سے پہلے زمبابوے کے ساتھ دنیائے کرکٹ کی کمزور ترین ٹیم شمار ہوتا تھا، اس کے بعد ایلیٹ کلاس میں آ گیا۔ یہاں تک کہ بعد میں 2007ء اور 2011ء میں بھی ورلڈ کپ فائنل تک پہنچا لیکن بد قسمتی سے پھر کبھی جیت نہیں پایا۔ یعنی 1996ء سری لنکا کا پہلا، اور اب تک کا آخری ورلڈ کپ ہے۔