بنگلہ دیش نے فتح کے ساتھ نئی تاریخ رقم کر دی

0 353

بنگلہ دیش نے اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ 36 سال پہلے کھیلا تھا لیکن ان ساڑھے تین دہائیوں میں بھی وہ تمام ممالک میں کم از کم ایک ون ڈے جیتنے کا کارنامہ انجام نہیں دے پایا تھا، لیکن اب اس نے سنچورین میں تاریخ رقم کر دی ہے۔ جہاں جنوبی افریقہ کو پہلے ون ڈے میں 38 رنز سے شکست دے کر اس نے جنوبی افریقی سرزمین پر اپنی فتوحات کا دروازہ بھی کھول دیا ہے۔

اب بنگلہ دیش ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں تمام ممالک میں کم از کم ایک میچ ضرور جیت چکا ہے۔

دورۂ جنوبی افریقہ کے پہلے ون ڈے میں ٹاس میزبان نے جیتا اور بنگلہ دیش کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ ایک مشکل مرحلے پر ان دونوں نے اپنے حواس برقرار رکھے اور 95 رنز کی افتتاحی شراکت جوڑی۔ کپتان تمیم اقبال 41 اور لٹن داس 50 رنز بنانے کے بعد یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوئے اور کچھ ہی دیر میں تجربہ کار مشفق الرحیم کی وکٹ کا دھچکا بھی سہنا پڑا۔

یہاں پر شکیب الحسن اور نوجوان یاسر علی نے معاملات اپنے ہاتھوں میں لیے اور نہ صرف انتہائی ضروری سنچری پارٹنرشپ کی بلکہ سُست رن ریٹ کو بھی کافی بہتر کر دیا۔ ان کی ساجھے داری سے پہلے بنگلہ دیش 28 اوورز میں صرف 124 رنز بنا پایا تھا لیکن شکیب-یاسر شراکت داری میں صرف 82 گیندوں پر 115 رنز کا اضافہ ہوا۔

شکیب 64 گیندوں پر 77 اور ان کے کچھ ہی دیر بعد یاسر علی 44 گیندوں پر 50 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ بعد ازاں بعد محمود اللہ اینڈ کمپنی نے آٹھ اوورز میں 71 رنز کا اضافہ کر کے بنگلہ دیش کو 314 رنز تک پہنچا دیا جو ابتدائی حالات کو دیکھتے ہوئے کافی اچھا مجموعہ تھا۔

بنگلہ دیش کا دورۂ جنوبی افریقہ - پہلا ون ڈے

جنوبی افریقہ بمقابلہ بنگلہ دیش

نتیجہ: بنگلہ دیش 38 رنز سے جیت گیا

بنگلہ دیش🏆314-7
شکیب الحسن7764
یاسر علی5044
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
کیشو مہاراج100562
مارکو یانسن 101572

جنوبی افریقہ276
رسی وان ڈیر ڈوسن8698
ڈیوڈ ملر7957
بنگلہ دیش باؤلنگامرو
مہدی حسن90614
تسکین احمد101363

توقعات سے زیادہ کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو ابتدا ہی میں زبردست دھچکے سہنے پڑے۔ تسکین احمد اور شریف الاسلام نے ٹاپ آرڈر کو ہلا کر رکھ دیا۔ صرف نویں اوور تک 36 رنز تک جنوبی افریقہ یانیمن ملان، کائل ورائنا اور آئیڈن مارکرم تینوں سے محروم ہو چکا تھا بلکہ مارکرم تو صفر کی ہزیمت کا شکار بنے۔

تجربہ کار تمبا باووما کی مزاحمت بھی 31 رنز سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ البتہ رسی وان ڈیر ڈوسن اور ڈیوڈ ملر نے ویسا کھیل پیش کیا، جس کی ان سے توقع تھی۔ ڈوسن نے 98 گیندوں پر 86 رنز بنائے اور اس دوران اس طرح زندگی بھی پائی، جو عموماً بلے بازوں کو ملتی نہیں۔ وہ تھرڈ امپائر کی نظروں سے بچ گئے حالانکہ رن آؤٹ تھے اور ان کا بلّا ہوا میں تھا۔ بہرحال، اس کے بعد بھی زیادہ دیر قیام نہیں کر سکے اور یاسر علی کے ایک شاندار کیچ کا نشانہ بن گئے۔

البتہ ڈیوڈ ملر کی اننگز طوفانی تھی، 57 گیندوں پر 79 رنز جنوبی افریقہ کو کافی آگے تو لے آئے لیکن نہ انہیں دوسرے اینڈ سے کسی کا ساتھ ملا اور نہ ہی وہ خود میچ کو آخر تک لے جا سکے۔ 46 ویں اوور میں ان کے آؤٹ ہوتے ہی آخری امید بھی ختم ہو گئی حالانکہ اس وقت بھی جنوبی افریقہ کو مزید 73 رنز کی ضرورت تھی جو ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھے۔

بالآخر 49 ویں اوور میں جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 276 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور بنگلہ دیش 38 رنز سے جیت گیا۔

ویسے وکٹیں تو زیادہ مہدی حسن نے لیں، لیکن بہترین باؤلنگ تسکین احمد کی تھی جنہوں نے ورائنا، مارکرم اور وان ڈیر ڈوسن کو آؤٹ کیا۔

بنگلہ دیش اور ون ڈے انٹرنیشنل، ملک بہ ملک

میزبان ملکمیچزفتوحاتشکستیں
بنگلہ دیش1818297
زمبابوے311615
ویسٹ انڈیز231013
انگلینڈ26718
آئرلینڈ1173
کینیا835
سری لنکا33328
متحدہ عرب امارات1138
آسٹریلیا1028
بھارت927
نیوزی لینڈ17116
پاکستان15114
اسکاٹ لینڈ211
جنوبی افریقہ15113

سیریز کا دوسرا ون ڈے 20 مارچ کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ تین ون ڈے میچز کے بعد ٹیسٹ سیریز 31 مارچ سے شروع ہوگی۔