[آج کا دن] ملتان کے سلطان کی آمد کا اعلان

0 664

ورلڈ کپ 1992ء میں پاکستان کو ابتدائی مقابلوں میں پے در پے شکستیں ہوئیں۔ ویسٹ انڈیز سے پہلا مقابلہ 10 وکٹوں سے ہارا، زمبابوے سے جیتا تو انگلینڈ نے 72 رنز پر ڈھیر کر دیا اور بارش نے یقینی شکست سے بچایا۔ پھر بھارت اور جنوبی افریقہ سے دو اہم میچز میں شکست کھائی اور یوں ٹورنامنٹ سے اخراج کے دہانے پر پہنچ گیا۔ یہاں ایک تو غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی، وہیں سیمی فائنل تک رسائی کے لیے دیگر مقابلوں کے نتائج کا بھی انتظار کرنا تھا۔ پھر ایک معجزہ ہو گیا!

پھر پاکستان نے مسلسل تین میچز میں آسٹریلیا، سری لنکا اور ناقابلِ شکست نیوزی لینڈ کو ہرایا۔ جبکہ آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر کہا، 'ہم تو ڈوبے صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے' کیونکہ اس شکست کے ساتھ آسٹریلیا کے ساتھ ویسٹ انڈیز بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا اور پاکستان کی سیمی فائنل کھیلنے کی راہ ہموار ہوئی۔

یہ 1992ء میں 21 مارچ یعنی آج ہی کا دن تھا جب پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل کھیلا۔

ماضی میں پاکستان مسلسل تین ورلڈ کپ سیمی فائنلز میں پہنچ کر شکست کھا چکا تھا، یہاں تک کہ 1987ء میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہوم کراؤڈ کے سامنے ہار کھائی اور کروڑوں دل ٹوٹ گئے۔

ورلڈ کپ 1992ء- پہلا سیمی فائنل

نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان

نتیجہ: پاکستان 4 وکٹوں سے جیت گیا

نیوزی لینڈ262-7
مارٹن کرو9183
کین ردرفرڈ5068
پاکستان باؤلنگامرو
وسیم اکرم 100402
مشتاق احمد100402

پاکستان 🏆264-6
انضمام الحق6037
جاوید میانداد5769
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
ولی واٹسن102392
دیپک پٹیل101501

اب پانچ سال بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر قسمت کے بل بوتے پر سیمی فائنل کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ اس نیوزی لینڈ کے خلاف کہ جس نے راؤنڈ رابن مرحلے میں تمام میچز جیتے، سوائے پاکستان کے خلاف آخری مقابلے کے۔ ہوم گراؤنڈ، ہوم کراؤڈ، ہوم کنڈیشنز کا ایڈوانٹیج تو اپنی جگہ، مارٹن کرو الیون اس وقت جس فارم میں تھی، اسے دیکھتے ہوئے بھی پاکستان کا جیتنا مشکل لگتا تھا۔

پھر جب نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 262 رنز بھی بنا ڈالے۔ 263 رنز کا ہدف اُس زمانے میں کافی سے زیادہ سمجھا جاتا تھا۔ تعاقب میں جب 35 ویں اوور میں سلیم ملک کی صورت میں پاکستان کی چوتھی وکٹ گری، تب بھی اسکور بورڈ پر صرف 140 رنز موجود تھے یعنی پاکستان کو 95 گیندوں پر 124 رنز کی ضرورت تھی۔ درکار رن ریٹ تقریباً 8 کو چھو رہا تھا۔

تب صرف 22 سال کے نوجوان انضمام الحق میدان میں اترے۔ ورلڈ کپ سے پہلے ان کے کیریئر پر صرف 7 ون ڈے میچز تھے۔ وہ اس دن واقعی ایک 'کارنرڈ ٹائیگر' کی طرح کھیلے۔ ان کا ہر ہر شاٹ میدان میں موجود مقامی تماشائیوں کا شور کم کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ صرف 37 گیندوں پر 63 رنز بنا ڈالے۔ انہوں نے نائب کپتان جاوید میانداد کے ساتھ مل کر صرف 10 اوورز میں 87 رنز کا اضافہ کیا یعنی درکار اوسط سے بھی زیادہ۔

انضی اس وقت آؤٹ ہوئے جب پاکستان کو 32 گیندوں پر 36 رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں معین خان کے 11 گیندوں پر 20 رنز فیصلہ کن ثابت ہوئے اور پاکستان تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں پہنچ گیا۔

انضمام کے 60 رنز کے بعد دوسری نمایاں ترین اننگز جاوید میانداد کی تھی جنہوں نے 69 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 57 رنز بنائے۔ لیکن سب یاد کرتے ہیں آج بھی انضمام کی اننگز کو، جنہوں نے اس کے بعد پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اپنے 15 سالہ انٹرنیشنل کیریئر میں انضمام نے کُل 378 ون ڈے میچز کھیلے اور 11,739 رنز بنائے، 10 سنچریوں اور 83 نصف سنچریوں کے ساتھ۔ یعنی وہ آج بھی ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستانی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں "ملتان کا سلطان" کہا جاتا تھا۔