[اعداد و شمار] پاکستان آسٹریلیا کے شکنجے میں

0 408

پاکستان نے 1986ء کے آسٹریلیشیا کپ فائنل میں جاوید میانداد کے تاریخی چھکے کی بدولت بھارت کو ایک یادگار شکست دی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کو بھارت پر ایسی نفسیاتی برتری ملی کہ لمبے عرصے تک بھارت کے لیے پاکستان کے خلاف جیتنا مشکل ہو گیا تھا۔

اسی طرح لگتا ہے کہ ورلڈ کپ 1999ء کا فائنل بُری طرح ہارنے بعد سے آج تک پاکستان آسٹریلیا کے خلاف سر اٹھا کر نہیں کھیل سکا۔ صرف گزشتہ 20 سال کی تاریخ ہی دیکھ لیں، نہ صرف پاکستان آسٹریلیا کے خلاف کوئی ون ڈے سیریز نہیں جیت پایا بلکہ اس دوران کھیلے گئے 44 میچز میں سے صرف 8 جیتے ہیں۔

پاکستان نے آخری بار آسٹریلیا کے خلاف کوئی سیریز 2002ء کے دورۂ آسٹریلیا میں جیتی تھی۔ ‏2-1 کی اس کامیابی کے بعد سے آج تک ہونے والی تمام باہمی سیریز میں پاکستان کو شکست ہوئی ہے، بلکہ بہت بُری طرح بھی ہارا ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف صرف سیریز ہی نہیں بلکہ کوئی ایک ون ڈے میچ جیتے ہوئے بھی پاکستان کو عرصہ ہو چکا ہے۔ 2017ء کے بعد سے اب تک پاکستان آسٹریلیا کے ہاتھوں مسلسل 9 ون ڈے ہار چکا ہے جو حیران کن لگتا ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین مجموعی طور پر 104 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں سے پاکستان نے صرف 32 جیتے ہیں اور 68 میں ناکامی کا منہ دیکھا ہے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا، ون ڈے انٹرنیشنل میں

بمقابلہمیچزجیتےہارےٹائیبے نتیجہ
پاکستان آسٹریلیا104326813

اگر باہمی سیریز کی بات کریں تو 2002ء کے دورۂ آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز جیتنے کے بعد سے پاکستان 2005ء، 2009ء، 2010ء، 2012ء، 2014ء، 2017ء اور 2019ء میں سیریز ہار چکا ہے۔ ان سیریز میں کھیلے گئے 31 میچز میں سے پاکستان کو صرف 5 میں کامیابی ملی۔

‏2019ء میں عرب امارات میں کھیلی گئی آخری پاک-آسٹریلیا سیریز میں تو پاکستان کو ‏5-0 کی ناقابلِ یقین شکست ہوئی۔

اگر ہم آسٹریلیا کے دورۂ پاکستان کی بات کریں تو آخری بار جب 1998ء میں آسٹریلیا پاکستان آیا تھا تب بھی ‏3-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

صرف ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی کارکردگی دیکھیں تو پاکستان نے پہلی بار آسٹریلیا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر 1982ء میں ون ڈے سیریز کھیلی تھی جس میں تین میں سے دو ون ڈے جیتے تھے۔

پھر 1988ء کا دورۂ پاکستان تھا جسے تاریخ کے مایوس کن ترین دوروں میں سے ایک کہہ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک کے سیاسی حالات سنگین تھے اور قدرتی آفات نے بھی اس دورے کو بُری طرح متاثر کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تین میں سے صرف ایک میچ ہی ممکن ہو پایا، وہ بھی ٹائی ہو گیا تھا۔ لیکن کیونکہ پاکستان کی وکٹیں کم گری تھیں، اس لیے اسے فاتح قرار دیا گیا۔ یوں پاکستان نے سیریز بھی ‏1-0 سے جیت لی۔

اس کے بعد سے آج تک پاک سرزمین پر ہونے والی تمام سیریز بھی آسٹریلیا ہی کے نام رہی ہیں۔ 1994ء اور 1998ء دونوں میں آسٹریلیا نے بالترتیب ‏2-1 اور ‏3-0 سے کامیابیاں حاصل کیں۔

آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے کارکردگی

بمقابلہمیچزجیتےہارےٹائیبے نتیجہ
پاکستان آسٹریلیا114601

اب پاکستان کے پاس تاریخ کا دھارا پلٹنے کا موقع ہے۔ ایک کمزور آسٹریلوی دستے کے خلاف پاکستان بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ماضی کے داغ دھو سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے پاس نہ ڈیوڈ وارنر ہیں، نہ گلین میکس ویل، نہ ہی اسٹیون اسمتھ کھیل رہے ہیں، باؤلنگ میں نہ پیٹ کمنز، نہ جوش ہیزل ووڈ اور نہ ہی مچل اسٹارک۔ پھر مچل مارش بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ تو ان 7 اہم ترین کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں پاکستان کے پاس بہترین موقع ہوگا کہ یہ سیریز جیتے۔