[آج کا دن] برائن لارا ہارے ہوئے لشکر کا بہادر

0 534

ایک زمانہ تھا کہ دنیائے کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کے سامنے کوئی ٹک نہ پاتا تھا لیکن ہر عروج کو زوال ہے جناب! بالآخر کالی آندھی کا زور بھی ٹوٹ گیا اور یہ ہوا کا جھکڑ بن کر رہ گئی۔

لیکن جاتے جاتے انفرادی سطح پر ہی سہی، لیکن کئی بڑے نام ویسٹ انڈیز کے پاس رہے، جن میں سب سے نمایاں تھے برائن لارا۔ وہی لارا کہ جنہوں نے آج ہی کے دن یعنی 12 اپریل کو ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا تھا جو آج بھی ٹوٹتا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کی طویل ترین اننگز اور واحد کواڈرپل سنچری تھی۔ لیکن 400 رنز اننگز کی کہانی شروع ہوتی ہے 10 سال پہلے۔

اپریل 1994ء میں سینٹ جانز، اینٹیگا میں انگلینڈ کے خلاف برائن لارا نے 375 رنز کی ایک یادگار اننگز کھیلی تھی۔ 538 گیندوں پر 45 چوکوں کی مدد سے 375 رنز بنا کر لارا نے ویسٹ انڈیز ہی کے سر گارفیلڈ سوبرز کا 36 سال پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا تھا۔ انہوں نے 1958ء میں پاکستان کے خلاف 365 رنز بنائے تھے۔ اس اننگز نے 24 سالہ لارا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

اگلے 9 سال تک لارا کا یہ طویل ترین ٹیسٹ اننگز کا ریکارڈ برقرار رہا، یہاں تک کہ آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن کی ایک دھواں دار اننگز نے اس کا خاتمہ کر دیا۔ ہیڈن نے اکتوبر 2003ء میں زمبابوے کے خلاف 380 رنز بنائے تھے اور یہ بات لارا کو بالکل پسند نہیں آئی۔ اسی طرح جیسے شاہد آفریدی کو کوری اینڈرسن کے ہاتھوں اپنا تیز ترین ون ڈے سنچری کا ریکارڈ ٹوٹنا اچھا نہیں لگاتا تھا۔

خیر، تو لارا نے اپنے کھوئے ہوئے اعزاز کی جستجو شروع کر دی اور پھر اپریل 2004ء میں سینٹ جانز کے اسی میدان پر، لارا نے تاریخ کی پہلی 400 رنز کی انفرادی اننگز کھیل ڈالی۔ بد قسمت حریف ایک بار پھر انگلینڈ ہی تھا جو ہمیشہ لارا کے ہاتھوں تختہ مشق بنتا رہا۔

‏582 گیندوں پر مشتمل اس اننگز میں لارا نے 4 چھکے اور 43 چوکے لگائے اور اپنا نام تاریخ میں امر کر دیا۔

برائن لارا کی 400 رنز کی تاریخی اننگز

رنزگیندیںمنٹچوکےچھکے
400*582778434

ویسے لارا فرسٹ کلاس میں 501 رنز کی اننگز کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں یعنی وہ کرکٹ تاریخ کے واحد بیٹسمین ہیں، جن کے کیریئر میں سنچری، ڈبل سنچری، ٹرپل سنچری، کواڈرپل سنچری اور کونٹپل سنچری سب شامل ہیں۔

لیکن 400 رنز کی تاریخی  اننگز محض ایک انفرادی سنگِ میل ثابت ہوئی۔ ویسٹ انڈیز پہلے ہی سیریز ابتدائی تینوں مقابلے جیت چکا تھا۔ پھر جب چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں ڈھائی دن تک بیٹنگ کی تو ویسے ہی میچ کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ بہرحال، ویسٹ انڈیز کے 751 رنز کے جواب میں انگلینڈ پہلی اننگز میں 285 رنز پر ڈھیر ہوا لیکن پھر سنبھل گیا اور دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں پر 422 رنز بنا کر میچ ڈرا کر دیا۔

اس تاریخی مقابلے کا اسکور کارڈ

انگلینڈ کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2004ء - چوتھا ٹیسٹ

میچ کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہوا

انگلینڈ سیریز ‏3-0 سے جیت گیا

ویسٹ انڈیز (پہلی اننگز) 751-5 ڈ
برائن لارا400*582گیرتھ بیٹی2-18552
انگلینڈ (پہلی اننگز)285
اینڈریو فلنٹوف102224پیڈرو کولنز4-7626
انگلینڈ (فالو آن)422-5
مائیکل وان 140267رامنریش سروان2-2612

برائن لارا کا 26 سالہ کیریئر دسمبر 2006ء میں کراچی میں پاکستان کے خلاف اختتام پذیر ہوا اور یوں کرکٹ کے ایک عظیم عہد کا خاتمہ ہوا۔ لیکن ان کی 375 اور 400 رنز کی اننگز ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

برائن لارا کے کیریئر کا ایک جائزہ

فارمیٹمقابلےرنزاوسطبہترین اننگز10050
ٹیسٹ1311195352.88400*3448
ون ڈے 2991040540.481691963
فرسٹ کلاس2612215651.88501*6588
لسٹ اے4291460239.671692786
ٹی ٹوئنٹی39933.006501