[آج کا دن] شارجہ کا "وہ" چھکا!

0 1,000

‏"میں 113 گیندوں پر 110 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھا اور گیند مجھے بخوبی نظر آ رہی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ گیند بلّے پر آئی تو اس کی منزل باؤنڈری ہی ہوگی۔ میں نے فیلڈنگ کا ایک مرتبہ پھر معائنہ کیا۔ اعصابی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی اور اللہ سے دعا کی۔

بیچارہ چیتن شرما۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نے یارکر پھینکنے کی کوشش کی اور گیند اس کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ یا یوں کہہ لیں کہ میں کریز سے کہیں آگے کھڑا تھا جس کی وجہ سے اس کی لینتھ بگڑ گئی۔ بہرحال، آخری گیند کے پیچھے جو بھی راز تھا، وہ میرے اور پاکستان کے لیے ایک پرفیکٹ بال بنی – ایک فل ٹاس بالکل اس جگہ پر جہاں ہونی چاہیے تھی، مجھے بس بلّا گھمانا پڑا اور گیند میدان سے باہر۔ کیا میچ تھا وہ بھی، میری زندگی کی بہترین یادوں میں سے ایک۔"  

یہ وہ الفاظ ہیں جو جاوید میانداد نے اپنی آپ بیتی "Cutting Edge" میں اُس یادگار لمحے کے لیے ادا کیے، جو آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ وہی آخری گیند اور وہی آخری چھکا!

یہ 1986ء میں آج ہی کا دن تھا، یعنی 18 اپریل۔ شارجہ کی گرمی میں آسٹریلیشیا کپ کا گرما گرم فائنل تھا کہ جس میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت مقابل تھے۔ پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت نے 7 وکٹوں پر 245 رنز بنائے تھے جس کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز بہت مایوس کن تھا۔

صرف 61 رنز پر تین وکٹیں گر چکی تھیں۔ مدثر نذر 5، رمیز راجا 10 اور محسن خان 36 رنز بنا کر آؤٹ ہو چکے تھے اور جاوید میانداد اور باقی ماندہ بلے بازوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی۔ میانداد نے سلیم ملک اور عبد القادر کے ساتھ مل کر اسکور کو 181 رنز تک پہنچایا۔ دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد انہیں کپتان عمران خان کی سخت ضرورت تھی، لیکن وہ محض 7 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور پاکستان کی امیدوں کا چراغ بجھنے لگا۔

بہرحال، جاوید میانداد کسی نہ کسی طرح معاملے کو آخری اوور میں 10 اور آخری گیند پر 4 رنز تک لے آئے جبکہ پاکستان کی صرف ایک وکٹ باقی تھی۔

آخری گیند پر چیتن شرما کی فل ٹاس نے جاوید میانداد کو وہ تاریخی چھکا لگانے کا موقع فراہم کر دیا، جسے ہم آج بھی یاد کرتے ہیں۔

آسٹریلیشیا کپ 1986ء - فائنل

بھارت بمقابلہ پاکستان

نتیجہ: پاکستان 1 وکٹ سے جیت گیا

بھارت245-7
سنیل گاوسکر92134
کرس سری کانت7580
پاکستان باؤلنگامرو
وسیم اکرم101423
عمران خان102402
پاکستان 🏆248-9
جاوید میانداد116*114
محسن خان3653
بھارت باؤلنگامرو
چیتن شرما90513
مدن لال100532

کرکٹ میں بہت سے سنسنی خیز مقابلے ہوئے، اب تو ہیجان خیز مقابلوں کی بھرمار ہے، لیکن جو لافانی حیثیت اس میچ کو حاصل ہے، شاید ہی کسی دوسرے کو ملی ہو۔

اس تاریخی کامیابی کی بدولت پاکستان کو بھارت پر وہ نفسیاتی برتری حاصل ہوئی کہ بھارت کبھی پاکستان کے سامنے دوبارہ سر نہ اٹھا سکا۔ اگلے 10 سال میں یعنی اپریل 1986ء سے 1996ء کے دوران پاکستان نے بھارت کے خلاف 29 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے، 22 میں کامیابی حاصل کی اور صرف 6 میں شکست کھائی۔ پاک-بھارت ون ڈے مقابلوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو یہی برتری اور غلبہ ہمیں آج بھی نظر آتا ہے۔ شارجہ کے چھکے کے بعد سے آج تک کُل 116 پاک-بھارت ون ڈے ہوئے ہیں جن میں سے 66 پاکستان نے جیتے ہیں اور بھارت نے 47 میں کامیابی حاصل کی ہے۔