پولارڈ کی چند یادگار ترین اننگز

0 658

ویسٹ انڈیز کے شعلہ فشاں بیٹسمین کیرون پولارڈ بھی بالآخر انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ گئے۔ 15 سالوں پر محیط بین الاقوامی کیریئر میں انہوں نے 123 ون ڈے اور 101 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے، جن میں کُل 4,275 رنز بنائے اور 97 انٹرنیشنل وکٹیں بھی حاصل کیں۔

کیرون پولارڈ کے انٹرنیشنل کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسطاسٹرائیک ریٹسنچریاںنصف سنچریاں
ون ڈے 123270611926.0194.41313
ٹی ٹوئنٹی101156975*25.30135.1406

ڈیڑھ دہائی پر پھیلے اس کیریئر میں پولارڈ نے کئی مرتبہ ایسی کارکردگی دکھائی، جو یادگار کہلائی۔ سب سے نمایاں ہے چھ گیندوں پر چھ چھکے!

چھ گیندوں پر چھ چھکے!

پولارڈ نے یہ منفرد کارنامہ مارچ 2021ء میں سری لنکا کے خلاف انجام دیا۔ یہ سری لنکا کے دورۂ ویسٹ انڈیز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی تھا، جس میں ویسٹ انڈیز 132 رنز کے تعاقب میں ناقابلِ یقین آغاز لے چکا تھا۔ صرف تین اوورز میں لینڈل سیمنز اور ایون لوئس اسکور کو 48 رنز تک لے آئے۔

یہاں بازی نے یکدم پلٹا کھایا۔ سری لنکن اسپنر اکیلا داننجیا نے مسلسل تین گیندوں پر لوئس، کرس گیل اور نکولس پورن کو آؤٹ کر کے تہلکہ مچا دیا۔

ہیٹ ٹرک کے بعد عموماً مقابلہ باؤلنگ کرنے والی ٹیم کی گرفت میں آ جاتا ہے لیکن سامنا جب پولارڈ سے ہو تو کچھ ایسا ہو جاتا ہے۔ اسے داننجیا کی بد قسمتی کہہ لیں کہ ایک اوور میں ہیٹ ٹرک کے بعد اگلے اوور میں اُن کا پالا کیرون پولارڈ سے پڑ گیا۔ جنہوں نے داننجیا کو ایک، دو نہیں بلکہ تمام چھ گیندوں پر چھکے رسید کیے۔

یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی پوری تاریخ میں صرف دوسرا موقع تھا کہ کسی بلے باز نے ایک اوور کی تمام گیندوں پر چھکے لگائے ہوں۔

ویسے پولارڈ کچھ ہی دیر بعد 11 گیندوں پر 38 رنز کے ساتھ آؤٹ ہو گئے لیکن ان کے ان چھکوں نے ویسٹ انڈیز کو جو حوصلہ دیا، اس کی بنیاد پر وہ بعد میں یہ مقابلہ ضرور جیت گیا۔


پولارڈ از اے چیمپیئن!

کیرون پولارڈ ویسٹ انڈیز کے اُس اسکواڈ کا حصہ تھے جس نے 2012ء میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ کامیابی کی اس داستان میں پولارڈ کا بھی اہم حصہ تھا، جنہوں نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کے دوران جب 16 ویں اوور میں ڈیوین براوو کی صورت میں تیسری وکٹ گری تو اسکور بورڈ پر 140 رنز موجود تھے۔ یہاں ویسٹ انڈیز کو ضرورت تھی ایک ایسی اننگز کی جو مقابلے کو آسٹریلیا کی گرفت سے کہیں دُور لے جائے۔ یہاں یہ کام کیا پولارڈ نے!

انہوں نے صرف 15 گیندیں کھیلیں اور تین چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 38 رنز بنائے۔ اس طوفانی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز 205 رنز تک پہنچ گیا۔ آخری اوور میں پولارڈ کی جانب سے ژاویئر ڈوہرٹی کو لگائے گئے تین گیندوں پر تین چھکے کوئی نہیں بھلا سکتا۔

یہی نہیں بلکہ پولارڈ نے اس میچ کا فیصلہ کُن اوور بھی کروایا۔ اپنے واحد اوور میں انہوں نے صرف 6 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کے جیتنے کے تمام امکانات کا خاتمہ کر دیا۔

بعد ازاں ویسٹ انڈیز نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا۔


پہلی سنچری

ون ڈے انٹرنیشنل میں کیرون پولارڈ نے اپنی پہلی سنچری دسمبر 2011ء میں بھارت کے خلاف چنئی میں بنائی تھی۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز 268 رنز کے تعاقب میں تھا اور اس کے صرف 78 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ تب پولارڈ نے 110 گیندوں پر 10 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 119 رنز بنائے تھے۔

پولارڈ تنِ تنہا ویسٹ انڈیز کو مقابلہ جتوانے جا رہے تھے۔ آخری چھ اوورز میں 35 رنز کی ضرورت تھی جب وہ آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی بنے۔ کامیابی تو نہ دلا سکے لیکن اُن کی یہ اننگز آج بھی یاد کی جاتی ہے۔


دوسری سنچری

مارچ 2012ء میں آسٹریلیا کے دورۂ ویسٹ انڈیز کا چوتھا ون ڈے گروس آئی لیٹ میں کھیلا گیا۔ یہاں ویسٹ انڈیز 36 ویں اوور تک 146 رنز پر ہی اپنی آدھی ٹیم سے محروم ہو چکا تھا۔ شکست منہ کھولے سامنے کھڑی تھی جب پولارڈ نے اپنے کیریئر کی یادگار ترین اننگز کھیلی۔

انہوں نے صرف 70 گیندوں پر 8 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 102 رنز بنائے اور آخری اوور میں جا کر آؤٹ ہوئے۔ اس طوفانی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز 294 رنز تک پہنچ گیا۔ پولارڈ کی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز نے آخری 86 گیندوں پر 148 رنز کا اضافہ کیا اور پھر مقابلہ 42 رنز سے جیتا بھی۔


آکلینڈ کبھی نہیں بھولے گا!

یہ نومبر 2020ء میں ویسٹ انڈیز کے دورۂ نیوزی لینڈ کا پہلا ٹی ٹوئنٹی تھا۔ وہ صرف 59 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا اور تمام تر ذمہ داری کپتان کیرون پولارڈ پر تھی۔ یہاں انہوں نے ایسی دھواں دار اننگز کھیلی کہ آکلینڈ کے تماشائی تا عمر یاد رکھیں گے۔ صرف 37 گیندوں پر 8 چھکے، 4 چوکے اور ناٹ آؤٹ 75 رنز۔ ویسٹ انڈیز جو 100 رنز تک پہنچتا نظر نہیں آتا تھا، اس دھواں دار اننگز کی بدولت 16 اوورز تک محدود اس مقابلے میں 180 رنز تک پہنچ گیا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود ویسٹ انڈیز جیت نہیں پایا۔ باؤلرز کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے اسے پانچ وکٹوں سے شکست ہوئی۔ البتہ اس میچ کی ناقابلِ فراموش کارکردگی پولارڈ کی اننگز ہی تھی۔