کاؤنٹی کرکٹ میں پاکستانیوں کا دن

0 423

انگلینڈ کے میدانوں پر کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے مختلف مقابلوں میں حسن سے حارث اور شان سے شاہین تک، سب خوب کھیل رہے ہیں اور اپنی اہمیت ثابت کر رہے ہیں۔

جمعرات کو کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے مقابلوں کا اگلا مرحلہ شروع ہوا جس میں سب سے نمایاں کارکردگی حسن علی نے دکھائی۔ لنکاشائر کی جانب سے ہمپشائر کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے صرف 45 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

یوں رواں سیزن میں حسن علی کی وکٹوں کی تعداد 19 تک جا پہنچی ہے، وہ بھی صرف پانچ اننگز میں۔

پہلے انہوں نے کینٹ کے خلاف 58 رنز دے کر دو اور 36 رنز دے کر  تین وکٹوں کی کارکردگی دکھائی۔ پھر گلوسسٹرشائر کے خلاف شاندار کامیابی میں  47رنز دے کر چھ اور دوسری اننگز میں نازک ترین مرحلے پر 49 رنز دے کر تین وکٹوں سے اپنا حصہ ڈالا۔ اب ہمپشائر کے خلاف بھی پانچ وکٹیں لے لی ہیں،  جن کی بدولت حریف ٹیم پہلی اننگز میں 246 رنز پر ہی آل آؤٹ ہو گئی۔  

حسن کے علاوہ شان مسعود بھی کاؤنٹی چیمپیئن شپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ اب تک محض پانچ اننگز میں تین نصف سنچریاں اور دو ڈبل سنچریاں بنا چکے ہیں۔ ڈربی شائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے پہلے مقابلے میں مڈل سیکس کے خلاف 91 اور 62 رنز کی باریاں کھیلیں۔ پھر مسلسل دو میچز میں دو ڈبل سنچریاں بنا کر نئی تاریخ رقم کی:  سسیکس کے خلاف واحد اننگز میں 239 اور لیسٹرشائر کے خلاف 219 رنز بنائے۔   اب گلیمورگن کے خلاف 113 گیندوں پر 60 رنز بھی بنا ڈالے ہیں۔ مائیکل ہوگن کے اپنی ہی گیند پر ایک کمال کیچ نے شان کی اننگز کا اچانک خاتمہ کر دیا ورنہ وہ جس فارم میں چل رہے ہیں ایک اور سنچری بننے جا رہی تھی۔

پھر شاہین آفریدی ہیں، اور شاہین تو پھر شاہین ہے! اس کی بلند پروازی لارڈز میں بھی نظر آئی جہاں حریف لیسٹرشائر پہلی اننگز میں صرف 149 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ شاہین نے ایک مرتبہ پھر ابتدا ہی میں ایک نہیں بلکہ دو وار کیے۔ اننگز کے پانچویں اوور میں انہوں نے مسلسل دو گیندوں پر حسن آزاد اور حریف کپتان کولن ایکرمین کو آؤٹ کیا۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے لوئس کمبر کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی اور یوں ابتدائی تینوں وکٹیں شاہین کے ہاتھ لگیں۔  

انہوں نے 16 اوورز میں 54 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ٹام ہیلم نے 23 رنز دے کر تین وکٹیں لیں۔ شاہین اب تک پانچ اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جن میں دو مرتبہ دنیا کے نمبر ایک بلے باز مارنس لبوشین کو آؤٹ کرنا بھی شامل ہے۔

اُدھر حارث رؤف بھی خوب کمالات دکھا رہے ہیں۔ کینٹ کے خلاف لیڈز میں مقابلے کے پہلے دن انہوں نے 52 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس میں اوپنرز بین کومپٹن، زیک کرالی اور کپتان جیک لیننگ کی قیمتی وکٹیں شامل تھیں۔ حارث نے صرف 20 رنز پر کینٹ کو تین وکٹوں سے محروم کر دیا تھا البتہ کینٹ مقابلے میں کافی حد تک مقابلے میں واپس آ گیا اور 6 وکٹوں پر 270 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

پاکستان کے دیگر کھلاڑی کچھ خاص پرفارم نہیں کر پائے۔ محمد عامر تقریباً تین سال بعد پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیل رہے ہیں لیکن سرے کے خلاف  گلوسسٹرشائر کی نمائندگی کرتے ہوئے کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھا پائے اور 45 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے سرے پہلے دن صرف 4وکٹوں پر 294 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا اور یوں گلوسسٹرشائر مشکلات سے دوچار نظر آتا ہے۔

عامر پاکستان ہی کے نسیم شاہ کی جگہ کھیلنے آئے ہیں  جو کندھے کی انجری کی وجہ سے سیزن سے باہر  ہو گئے تھے۔ عامر نے آخری بار کوئی فرسٹ کلاس میچ بھی کاؤنٹی ہی میں کھیلا تھا، جب اگست 2019ء میں انہوں نے ایسکس کی نمائندگی کی تھی۔

عامر کے علاوہ پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین اظہر علی کی بھی کاؤنٹی میں کارکردگی مایوس کن نظر آ رہی ہے۔ وہ وارسسٹرشائر کی جانب سے اب تک کچھ خاص پرفارمنس نہیں دکھا پائے اور چار اننگز میں صرف 29 رنز بنا سکے ہیں۔

لیسٹرشائر کے خلاف دو اننگز میں تین اور سسیکس کے خلاف صرف 20 رنز بنانے کے بعد اب ناٹنگھم شائر کے مقابلے میں پہلی اننگز میں وہ صرف 6 رنز پر آؤٹ ہو گئے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا بلے باز بھی چل نہیں پایا جس کی وجہ سے وارسسٹرشائر کی پہلی اننگز صرف 159 رنز پر تمام ہو گئی۔