[آج کا دن] ون ڈے کرکٹ کا عظیم ترین فِنشر

0 797

اگر آپ نے 90ء کی دہائی میں کرکٹ دیکھنا شروع کی تھی تو 'فنشر' کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہوگا: مائیکل بیون!

جب 2007ء میں بیون نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تو وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں واحد بلے باز تھے کہ جن کا اوسط 50 سے زیادہ تھا۔ انہوں نے  10 سال پر محیط ون ڈے کیریئر کے دوران 232 میچز کھیلے اور 53.58 کے ناقابلِ یقین اوسط کے ساتھ 6,912 رنز بنائے۔ ان میں 6 سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں اور کئی اننگز ایسی تھیں جو آسٹریلیا کی کامیابی کی ضامن بنیں۔

دو مرتبہ کے ورلڈ چیمپیئن بیون کا یہ بیٹنگ ایوریج آج بھی 200 سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والوں میں ویراٹ کوہلی کے 58.07 کے بعد کسی بھی بلے باز کا سب سے زیادہ اوسط ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اپنی 196 میں سے 67 اننگز میں وہ ناقابلِ شکست میدان سے واپس آئے اور کئی بار تو ایسے کہ آسٹریلیا صرف ایک یا دو وکٹوں سے جیتا۔

بیون کی پہلی یادگار اننگز وہ تھی جب 1996ء میں سالِ نو کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو ایک وکٹ سے ہرایا تھا۔ 43 اوورز فی اننگز تک محدود ہو جانے والے ورلڈ سیریز کے اس مقابلے میں آسٹریلیا کو 173 رنز کا ہدف ملا۔ 74 رنز پر 7 وکٹیں گر جانے کے بعد کوئی امید نظر نہیں آتی تھی جب بیون نے ہدف حاصل کر کے دکھا دیا۔ انہوں نے آخری گیند پر چوکا لگا کر آسٹریلیا کو کامیابی دلائی اور 88 گیندوں پر 78 رنز  کے ساتھ ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے۔

پھر 1997ء میں پاکستان کے خلاف ایک اور ایسی ہی کارکردگی دکھائی۔ اس بار بھی آسٹریلیا 182 کے بظاہر معمولی ہدف کے تعاقب میں تھا۔ لیکن وسیم اکرم، وقار یونس اور ثقلین مشاق کے سامنے اس کی وکٹیں گرتی رہیں۔ یہاں تک کہ 148 رنز تک پہنچتے پہنچتے سات بیٹسمین آؤٹ ہو گئے۔ یہاں بیون ایک اینڈ پے ایسے جمے کہ آخر تک انہیں کوئی آؤٹ نہیں کر پایا۔ انہوں نے 142 گیندیں کھیلیں، صرف چار چوکے لگائے اور ناٹ آؤٹ 79 رنز کے ساتھ آسٹریلیا کو آخری اوور میں فتح سے ہمکنار کر دیا، صرف تین وکٹوں سے۔

جنوری 2002ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف وی بی سیریز کے ایک مقابلے میں بیون نے جو سنچری بنائی، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 246 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا صرف 65 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ یہاں پر بیون ایک اینڈ سے جم گئے۔ انہوں نے صرف 95 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 102 رنز بنائے اور آخری اوور میں آسٹریلیا کو کامیابی سے ہمکنار کیا، جب صرف دو وکٹیں باقی رہ گئی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ انہیں 'چَیز کا بادشاہ' کہا جاتا تھا۔ پہلے بیٹنگ کے مقابلے میں دوسری اننگز میں ان کا بیٹنگ اوسط کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے اپنی 115 اننگز میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے کھیلیں جن میں 51.66 کے اوسط سے رنز بنائے جبکہ ہدف کے تعاقب میں 81 اننگز میں ان کا ایوریج 56.50 ہے۔ پھر اگر جیتے گئے مقابلوں میں دیکھیں تو اُن کا یہ اوسط مزید بڑھتے ہوئے 65.24 تک پہنچ جاتا ہے یعنی وہ ایک حقیقی میچ وِنر کھلاڑی تھے۔

بیون نے سب سے زیادہ بیٹنگ چھٹی پوزیشن پر بیٹنگ کرتے ہوئے کی کہ جہاں انہوں نے 87 اننگز کھیلی اور 56.71 کے ایوریج سے 3 ہزار سے زیادہ رنز بنائے۔

بیون  کوئی جارح مزاج بیٹسمین نہیں تھے۔ شاذ ہی ان کے ہاتھوں سے کوئی بلند و بالا چھکا نظر آتا تھا لیکن وہ ایک اسمارٹ پلیئر تھے۔ سخت ترین فیلڈنگ میں شاٹ کہاں سے نکالنا ہے، ایک  کو دو رن میں کیسے بدلنا ہے اور کس طرح اسٹرائیک اپنے پاس رکھ کر قدم بقدم ہدف کی جانب بڑھنا ہے، یہ بیون کا انداز تھا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے آسٹریلیا کو کوئی  یادگار فتوحات دلائیں۔ وہ ایک کارآمد باؤلر بھی تھے اور ایک عمدہ فیلڈر بھی۔ 36 وکٹوں کے علاوہ ان کے ون ڈے ریکارڈ میں 69 کیچز بھی شامل ہیں۔

مائیکل بیون کے انٹرنیشنل کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسطسنچریاںنصف سنچریاں
ٹیسٹ187859129.0706
ون ڈے 2326912108*53.58646

ویسے بیون نے 18 ٹیسٹ میچز بھی کھیلے، جن میں پہلا ٹیسٹ 1994ء کا مشہور زمانہ کراچی ٹیسٹ تھا  لیکن وہ اس فارمیٹ میں کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے، اس لیے ون ڈے اسپیشلسٹ کے طور پر ہی ٹیم کے ساتھ رہے۔

بیون نے 2004ء میں اپنا آخری انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا اور اس کے تین سال بعد 2007ء میں  دنیائے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔