نووجوت سدھو کو ایک سال قید کی سزا ہو گئی

0 187

بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق کرکٹر اور موجودہ سیاست دان نووجوت سنگھ سدھو کو ایک دہائیوں پرانے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

بھارت کی عدالت عظمیٰ کے مطابق 1988ء میں پیش آنے والے ایک واقعے میں سدھو کے عمل کی وجہ سے 65 سالہ گرنام سنگھ کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اسی مقدمے میں سدھو کو 2018ء میں قتلِ خطا کے زیادہ سنگین الزام سے بری کیا گیا تھا۔

اب سابق رکن پارلیمان سدھو کے پاس قانونی راستے بہت کم بچے ہیں اور خدشہ یہی ہے کہ انہیں پٹیالہ جیل میں وقت گزارنا ہی پڑے گا۔

سدھو کو 1988ء میں قتلِ خطا کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا جب پٹیالہ میں ایک جھگڑے کے دوران وہ 65 سالہ گرنام سنگھ سے الجھے تھے، جن کی کچھ گھنٹوں بعد موت واقع ہو گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سدھو کا بھارت کے ابھرتے کھلاڑی تھے اور قومی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کر چکے تھے۔ بہرحال، یہ مقدمہ چلتا رہا، یہاں تک کہ 1999ء میں عدالت نے سدھو کو بری قرار دے دیا، یعنی اسی سال جب انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

البتہ ریاست نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی اور 2006ء میں انہیں قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا گیا۔ یوں وہ امرتسر میں اپنی پارلیمانی نشست سے بھی محروم ہور گئے کیونکہ بھارتی قانون کے تحت مجرم عوامی نمائندہ نہیں بن سکتا۔

سدھو نے اس فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں درخواست دائر کی، جس نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور انہیں ضمنی انتخابات کے ذریعے اپنی نشست واپس لینے کی اجازت دے دی۔ 2018ء میں عدالت نے انہیں اس جرم سے بری کر دیا لیکن انہیں "مظلوم شخص کو نقصان پہنچانے" کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ہزار روپے جرمانہ کیا جس کے خلاف گرنام سنگھ کے خاندان نے اپیل کی اور گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جرمانے کے ساتھ ایک سال قید کی سزا بھی سنا دی۔

یہ قید سدھو کے سیاسی کیریئر کے لیے بڑا دھچکا ہوگی۔ ویسے ہی پنجاب میں کانگریس پارٹی کی شکست کے بعد وہ جماعت کے صوبائی سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔

سدھو نے 51 ٹیسٹ اور 136 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھارت کی نمائندگی کی اور کُل 7,615 انٹرنیشنل رنز بنائے۔ کرکٹ چھوڑنے کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی اور ان کی طرف سے پارلیمنٹ کے رکن بھی بنے۔

پھر وہ کرکٹ کمنٹیٹر اور ٹیلی وژن پریزینٹر کی حیثیت سے کافی مقبول ہوئے۔ ان کا منفرد انداز بہت مشہور ہوا لیکن 2014ء میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے باوجود انہیں پارٹی نے کوئی عہدہ نہیں دیا جس پر وہ دلبرداشتہ ہو گئے اور 2016ء میں بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے، جس میں انہیں صوبہ پنجاب میں پارٹی کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔