[آج کا دن] سعید انور اور وہ ڈبل سنچری جو بن نہ سکی

0 990

کرکٹ تاریخ میں جو افسانوی حیثیت سر ڈان بریڈمین کے 99.94 کے بیٹنگ اوسط کو حاصل ہے، شاید ہی کسی کو حاصل ہو۔ ڈان آخری اننگز میں صفر پر آؤٹ نہ ہوتے تو ان کا ٹیسٹ ایوریج یقیناً 100 تک پہنچ جاتا۔ لیکن کیا پھر اس ایوریج کو یہ افسانوی حیثیت حاصل ہوتی؟ شاید نہیں!

کچھ یہی کہانی سعید انور کی بھی ہے۔ 21 مئی 1997ء کو یعنی آج ہی کے دن انہوں نے بھارت کے خلاف بھارت میں 194 رنز کی اننگز کھیلی، یعنی ڈبل سنچری سے صرف ایک شاٹ کی دُوری تک پہنچے لیکن آؤٹ ہو گئے۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی پہلی ڈبل سنچری تو نہیں بنا سکے لیکن بنا لیتے تو شاید اس اننگز کو وہ لیجنڈری حیثیت نہ ملتی جو اب حاصل ہے۔

مئی کا وہ گرم دن، چنئی کا شہر، جہاں پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا، تب بیمار سعید انور کی یہ اننگز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

یہ آزادی کپ کا ایک میچ تھا یعنی بھارت کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر کھیلا گیا تھا۔ آج تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت کی آزادی کی خوشی میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں پاکستان شریک ہو۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کی گولڈن جوبلی پر بھارت نے ستمبر 1997ء میں تین ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کا رخ کیا تھا۔ بہرحال، بھارت میں ہونے والے انڈپینڈنس کپ کا چھٹا مقابلہ تو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

تب پاکستانیوں کے دل صرف فاسٹ باؤلرز کے ہاتھوں لڑھکتی ہوئی وکٹوں کے ساتھ دھڑکتے تھے، یا پھر سعید انور کے آف سائیڈ پر لگائے گئے شاٹس پر۔ اُس دن سعید انور طبیعت خراب ہونے کے باوجود ترنگ میں دکھائی دیے۔  اُس زمانے میں جب 150 رنز بنانا بھی ناممکنات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا، سعید انور نے صرف 146 گیندوں پر 194 رنز کی اننگز کھیلی۔ اس میں 22 چوکے اور 5 چھکے بھی شامل تھے یعنی صرف 118 رنز تو انہوں نے باؤنڈریز سے ہی لے لیے تھے۔

اس تاریخی اننگز کی سب سے نمایاں جھلک تھی، وہ 41 واں اوور جس میں سعید انور نے انیل کمبلے کو مسلسل تین چھکے لگائے۔ تیسری گیند پر انہوں نے لانگ آن کی طرف جو چھکا لگایا، وہ سنیل جوشی کے ہاتھوں کیچ بن سکتا تھا لیکن ان کی غفلت کی وجہ سے ہاتھوں کے درمیان سے نکلتا ہوا چھکا ہو گیا۔ لیکن اگلی دو گیندوں پر انہوں نے جو شاٹ لگائے، وہ دیکھنے کے قابل تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب انیل کمبلے اپنے عروج پر تھے۔ 1996ء میں 32 ون ڈے میچز میں 61 وکٹیں لے چکے تھے، وہ بھی صرف 20.24 کا اوسط سے۔ ان کا سعید انور کے ہاتھوں ایک اوور میں 24 رنز کھانا حیرت انگیز تھا۔

سعید انور 194 رنز پر پہنچے تو سچن تنڈولکر کی گیند پر سارو گانگلی نے ان کا ایک شاندار کیچ لیا اور یہ اس شاہکار اننگز کا خاتمہ کر دیا جو بلاشبہ ڈبل سنچری کی جانب جا رہی تھی۔

یوں سعید انور نے ویوین رچرڈز کا 184 رنز کی سب سے بڑی ون ڈے اننگز کا ریکارڈ ضرور توڑ ڈالا جو انہوں نے 1984ء میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔

پاکستان ان کی اس یادگار اننگز کی بدولت 5 وکٹوں پر 327 رنز بنانے میں کامیاب ہوا اور بعد میں یہ میچ 35 رنز سے جیت گیا۔

آزادی کپ 1997ء - چھٹا مقابلہ

بھارت بمقابلہ پاکستان

‏21 مئی 1997ء

ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم، چنئی، بھارت

نتیجہ: آسٹریلیا 3 وکٹوں سے جیت گیا

پاکستان 🏆327-5
سعید انور194146
انضمام الحق3933
بھارت باؤلنگامرو
سچن تنڈولکر90612
روبن سنگھ90501
بھارت292
راہُل ڈریوڈ107116
ونود کامبلی6580
پاکستان باؤلنگامرو
عاقب جاوید100615
ثقلین مشتاق9.20462

پھر سچن نے ہی 13 سال بعد فروری 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف گوالیار میں 200 رنز بنا کر سعید انور کا ریکارڈ بھی توڑا اور تاریخ کی پہلی ون ڈے ڈبل سنچری بھی بنائی۔

اس کے بعد تو گویا ڈبل سنچری بننا معمول ہی بن گیا۔ 12 سال میں 7 مزید ڈبل سنچریاں بنیں کہ جن میں سے تین بھارت کے روہت شرما نے بنائیں جبکہ ایک وریندر سہواگ، ایک کرس گیل اور ایک مارٹن گپٹل نے۔ یہاں تک کہ جولائی 2018ء میں پاکستان کے فخر زمان نے 210 رنز کی اننگز کھیل سعید انور کا سب سے بڑی ون ڈے انٹرنیشنل اننگز کا قومی ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ کسی بھی پاکستانی بلے باز کی پہلی ون ڈے ڈبل سنچری تھی۔ ویسے فخر اپریل 2021ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف بھی ڈبل سنچری کے بہت قریب پہنچے، لیکن 193 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔

لیکن جتنی بھی ڈبل سنچریاں بن جائیں، ڈان بریڈمین کے 99.94 کے اوسط کی طرح سعید انور کی 194 رنز کی اننگز بھی امر رہے گی، 'پرفیکٹ' نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی منطقی منزل تک نہ پہنچنے کی وجہ سے۔