آشون کئی "فاشٹ" باؤلرز سے بھی تیز، لیکن کیسے؟

0 558

اتنے دھوکے پاکستان کے سیاست دانوں نے نہیں دیے ہوں گے، جتنے اِس سال انڈین پریمیئر لیگ میں ٹیکنالوجی نے دیے ہیں۔ ایک، دو نہیں بلکہ کئی بار ایسا ہوا کہ گیند بلّے کو چھوئی تک نہیں لیکن 'الٹرا ایج' مستیاں کرتا ہوا نظر آیا اور کبھی ایسا ہوا کہ گیند بلّے کو لگی ہے لیکن یہ ٹیکنالوجی 'سوتی' رہی۔

یہی نہیں بلکہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ڈی آر ایس کا استعمال ہی نہیں کیا جا سکا۔ یعنی لوگ خواہ مخواہ پاکستان سپر لیگ کو غریبوں کی لیگ کہتے ہیں؟

اب تو ایک نئی کانی بھی میدان میں آ گئی ہے۔ گجرات ٹائیٹنز اور راجستھان رائلز کے درمیان کوالیفائر کے دوران اسپنر روی چندر آشوِن کی ایک گیند 131.6 کلومیٹرز فی گھنٹے کی رفتار تک پہنچ گئی۔ یعنی بھارت کے کئی "فاشٹ" باؤلرز کی گیندوں سے بھی تیز۔ لیکن حیران مت ہوں، یہ بھی اسی "ٹیکنالوجی" کی مرہونِ منت تھا۔

یہ ٹائیٹنز کی اننگز کا آٹھواں اوور تھا جس میں آشوِن نے ایک گیند پھینکی، سیدھی سادی سی گیند تھی، ہوگی کوئی 90 کلومیٹرز فی گھنٹے کی۔ لیکن جب اسکرین پر اس کی رفتار دکھائی گئی تو یہ کیا بھیا؟ یہ تو 130 کلومیٹرز کا ہندسہ بھی پار کر گئی! اس گیند کا سامنا کر رہے تھے میتھیو ویڈ، جنہوں نے "پلک جھپکتے" میں اسے کھیل لیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا 😜

خیر، یہ حرکت بھی پہلی بار سرزد نہیں ہوئی۔ اسی سیزن میں دلّی کیپٹلز اور ممبئی انڈینز کے میچ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہوا تھا۔ کلدیپ یادَو کی ایک گیند کو اسپیڈ گن نے 116 کلومیٹرز فی گھنٹے کی گیند قرار دیا۔ کلدیپ ضرور اپنی گیند کی رفتار میں اونچ نیچ لاتے ہیں لیکن ان کی گیندیں زیادہ تر 100 کلومیٹرز فی گھنٹہ کے قریب قریب ہی رہتی ہیں۔

تو دنیا کی سب سے مہنگی لیگ کروانے والے "امیر" بھائیو! کچھ پیسے خرچ کر لو اور اچھی ٹیکنالوجی کمپنی کو یہ ذمہ داری دے دو، پلیز!