[آج کا دن] جب پاکستان جیت کر بھی جیت نہ پایا

0 712

ابھی چند روز پہلے ہم یاد کر رہے تھے مصباح الحق اور یونس خان کے آخری ٹیسٹ کو۔ کیا یادگار دن تھا وہ بھی، لگتا تھا 17 سال پرانے زخموں پر گویا مرہم رکھ دیا ہے۔ 2017ء کا دورۂ ویسٹ انڈیز مصباح اور یونس کا آخری دورہ تھا، جس کے آخری ٹیسٹ کے آخری لمحات میں پاکستان نے ناقابلِ یقین انداز میں کامیابی حاصل کی تھی اور یوں تاریخ میں پہلی بار ویسٹ انڈیز کو اُس کی سرزمین پر سیریز میں شکست دینے میں کامیاب ہوا تھا۔

عمران خان سے لے کر وسیم اکرم اور جاوید میانداد سے معین خان تک، سب نے سر توڑ کوششیں کیں، لیکن کبھی کوئی کیربیئن سرزمین پر سیریز نہیں جیت پایا۔ ان میں سے معین خان جیت کے سب سے زیادہ قریب پہنچے، 2000ء میں آج ہی کے دن یعنی 29 مئی کو۔

یہ سینٹ جانز، اینٹیگا میں پاک-ویسٹ انڈیز سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ تھا۔ اگر اسے تاریخ کے دلچسپ ترین ٹیسٹ میچز میں سے ایک کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک طرف وسیم اکرم کی شاندار باؤلنگ تھی اور دوسری طرف جمی ایڈمز کی ڈھیٹ اننگز، جسے امپائروں کی پوری پشت پناہی حاصل رہی۔ پاکستانی باؤلرز نے شاید دو مرتبہ حریف ٹیم کو آؤٹ کیا ہوگا، جمی بھی کم از کم پانچ بار تو آؤٹ ہوئے، لیکن پھر بھی پاکستان ایک وکٹ سے میچ ہار گیا اور ساتھ ہی سیریز بھی گئی۔

پاکستان کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2000ء - تیسرا ٹیسٹ

‏25 تا 29 مئی 2000ء

اینٹیگا ریکریئشن گراؤنڈ، سینٹ جانز، اینٹیگا

ویسٹ انڈیز 1وکٹ سے میچ جیت گیا

ویسٹ انڈیز سیریز میں ‏1-0 سے کامیاب

پاکستان (پہلی اننگز) 269
یوسف یوحنا103*231کورٹنی والش5-8326
انضمام الحق5589کرٹلی ایمبروز2-3014
ویسٹ انڈیز (پہلی اننگز)273
شیونرائن چندرپال89218وسیم اکرم6-6126.2
جمی ایڈمز60180مشتاق احمد2-6824
پاکستان (دوسری اننگز) 219
انضمام الحق68124ریون کنگ4-4823
یوسف یوحنا42175کرٹلی ایمبروز3-3921
ویسٹ انڈیز (ہدف: 216 رنز) 216-9
ویول ہائنڈز63129وسیم اکرم5-4930
جمی ایڈمز48*212عبد الرزاق1-1411

پاکستان یوسف یوحنا اور انضمام الحق کی بدولت پہلی اننگز میں 269 رنز بنانے میں کامیاب رہا جس کے بعد وسیم اکرم کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے ویسٹ انڈیز 273 تک ہی محدود رہا، یعنی صرف چار رنز کی برتری ملی۔

اب پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ پہلی اننگز کی غلطیوں کا ازالہ کرے، لیکن یہ کیا؟ ذمہ داری پھر وہی انضمام اور یوسف پر آن پڑی؟ کورٹنی واش، کرٹلی ایمبروز، ریون کنگ اور فرینکلن روز کی باؤلنگ کے سامنے کسی دوسرے پاکستانی بیٹسمین کی ایک نہیں چلی۔

بہرحال، انضمام اور یوسف کی پارٹنرشپ جب 80 رنز تک پہنچ چکی تھی۔ اسکور بورڈ پر 129 رنز موجود تھے اور یہی وہ لمحہ تھا جب ہمیں اندازہ ہوا کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ اس مقام پر 'انٹری' ہوئی میچ کے ایک اہم ترین کردار امپائر بلی ڈاکٹروو کی۔ انضی 68 پر کھیل رہے تھے کہ ایک زور دار اپیل پر ڈاکٹروو نے انہیں کیچ آؤٹ قرار دے دیا، حالانکہ گیند بلّے کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔

بہرحال، پاکستان کی اننگز 219 رنز پر تمام ہوئی اور ویسٹ انڈیز کو ملا 216 رنز کا ہدف۔ ویول ہائنڈز اور شیونرائن چندرپال کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے چوتھے دن کا اختتام اس طرح کیا کہ اسے صرف 72 رنز کی ضرورت تھی، اور اس کی چھ وکٹیں اب بھی باقی تھیں۔ یعنی میزبان میچ پر چھایا ہوا تھا۔

پھر شروع ہوا میچ کا آخری دن، 29 مئی کا دن، بلی ڈاکٹروو کا دن! جو قسم کھا کر آئے تھے کہ آج انہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ نہیں دینا۔ ابھی ویسٹ انڈیز 157 پر ہی پہنچا تھا کہ انہوں نے رامنریش سروان کو وسیم اکرم کی واضح ایل بی ڈبلیو اپیل سے بچایا، البتہ اسی اوور کی آخری گیند پر انہیں انگلی فضا میں بلند کرنا پڑی۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس دن وسیم اکرم جوبن پر تھے۔ حریف بیٹسمین ان کے رحم و کرم پر نظر آ رہے تھے۔ وہ ایک اوور میں انہیں کئی کئی مرتبہ آؤٹ کر رہے تھے لیکن اف! یہ امپائر کی انگلی، جو اٹھ کر ہی نہیں دے رہی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی ڈوبتی اننگز کو تنکے یعنی امپائر ہی کا سہارا حاصل تھا۔ رڈلی جیکبز اور جمی ایڈمز کے خلاف کئی زور دار اپیلیں ہوئیں، لیکن سب مسترد۔

بالآخر پاکستان نے رن آؤٹ کے ذریعے چھٹی وکٹ حاصل کی، البتہ فرینکلن روز کی صورت میں ساتویں وکٹ بھی مل جاتی، لیکن امپائر ایل بی ڈبلیو کھا گئے۔ بہرحال، روز کی وکٹ مشتاق احمد نے لی اور ایمبروز میدان میں آ گئے۔

ویسٹ انڈیز کو 22 رنز کی اب بھی ضرورت تھی اور صرف دو وکٹیں باقی تھیں۔ ایک اینڈ پر کپتان جمی ایڈمز کھیل رہے تھے، 147 گیندوں پر صرف 33 رنز کے ساتھ۔

کھانے کے وقفے کے بعد پہلے ہی اوور میں وسیم اکرم نے جمی ایڈمز کو تین مرتبہ آؤٹ کیا، ایک بار ایل بی ڈبلیو اور دو مرتبہ وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ، لیکن بلی ڈاکٹروو اس دن پاکستان کے لیے ولن بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے آؤٹ نہیں دینا تھا، نہیں دیا۔

وسیم اکرم کا غصہ عروج پر تھا، جب انہوں نے ریون کنگ کو کلین بولڈ کیا۔ کیا ہی خوبصورت گیند تھی وہ بھی۔ پاکستان اب فتح سے صرف ایک وکٹ کی دُوری پر تھا جبکہ ویسٹ انڈیز کو 17 رنز درکار تھے۔

کورٹنی والش آخری وکٹ کی صورت میں میدان میں آئے۔ ان کے پاس ٹیسٹ تاریخ میں  سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ ہے۔ اُس دن بھی ہو جاتے، اگر امپائر نہ ہوتے۔ ثقلین کی ایک گیند واضح طور پر اُن کے بلّے کو چھوتی ہوئی پیڈ پر لگی اور قریب کھڑے فیلڈر کے ہاتھوں میں کیچ بنی، لیکن امپائر وہی صمٌ بکمٌ عمیٌ۔

نہ صرف امپائر، بلکہ اس دن قسمت بھی پاکستان کے خلاف تھی، خاص طور پر ثقلین کے۔ ایسا لگتا تھا انہوں نے کھانے کے وقفے میں مکھن والے پراٹھے کھائے تھے۔ ایک نہیں، دو مرتبہ انہوں نے ایسے رن آؤٹ ضائع کیے جب دونوں بیٹسمین کریز میں ایک ہی اینڈ پر جمع ہو گئے تھے لیکن پھر بھی وہ انہیں رن آؤٹ نہیں کر پائے۔

آخر میں تماشائیوں کے نعروں کی گونج میں بالآخر جمی ایڈمز نے فاتحانہ رن لیا اور پاکستان گھٹیا ترین امپائرنگ، اور اپنی ناقص فیلڈنگ کی وجہ سے بھی، یہ میچ صرف اور صرف ایک وکٹ سے ہار گیا۔ ویسٹ انڈیز 13 کھلاڑیوں کی مدد سے، یعنی دونوں امپائروں کو ملا کر یہ سیریز ‏1-0 سے جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس تاریخی ٹیسٹ میچ کے آخری لمحات کی چند جھلکیاں یہاں دیکھیں: