[آج کا دن] دِلوں کا فاتح محمد رضوان

0 356

آپ کو شاید جان کر حیرت ہوگی کہ آج یعنی یکم جون کو پیدا ہونے  والے محمد رضوان نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز 2015ء میں کیا تھا، یعنی 7 سال پہلے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ یہ ایک طویل داستان ہے۔

اصل میں پاکستان کرکٹ کی ایک روایت ہے، ہر ورلڈ کپ کے بعد ایک "انقلاب" برپا ہوتا ہے۔ تبدیلی کا ایک ایسا ہی عمل ورلڈ کپ 2015ء کے بعد بھی شروع ہوا۔ کوارٹر فائنل میں شکست اور مصباح الحق اور شاہد آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نیا سیٹ اپ بنا، جس میں پہلی بار سرفراز احمد کی جگہ بنی۔ وہ پہلے نائب کپتان اور پھر کپتان بنے اور یوں رضوان، جنہوں نے انہی دنوں میں اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا، پسِ منظر میں چلے گئے۔

وکٹ کیپرز کا معاملہ عجیب ہی ہوتا ہے۔ بیٹسمین اور باؤلر ہو تو کسی نہ کسی جگہ فٹ ہو ہی جاتا ہے۔ کبھی کنڈیشنز ایسی ہو جاتی ہیں کہ اس کا چانس بن سکتا ہے لیکن وکٹ کیپر تو پوری ٹیم میں ایک ہی ہوتا ہے اور اگر وہی کپتان ہو تو سمجھیں باقی وکٹ کیپرز کے لیے تو دروازے ہی بند ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ رضوان بین الاقوامی کیریئر شروع ہونے کے باوجود تین سال تک ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے جبکہ سرفراز احمد ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے رہے اور چیمپیئنز ٹرافی 2017ء کی کامیابی کے بعد تو ان کا راج تھا، لیکن پھر ورلڈ کپ آ گیا اور انہیں بھی کھا گیا۔

ورلڈ کپ، کسی کے لیے رحمت، کسی کے لیے زحمت

ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستان کی ناکامی کا ملبہ ایک مرتبہ پھر کپتان پر ہی پڑا۔ سرفراز کی چھوٹی بڑی ہر خامی کھل کر سامنے آ گئی۔ کچھ ہی عرصے میں وہ نہ صرف قیادت سے ہٹے بلکہ ٹیم سے بھی باہر ہو گئے۔ تبھی رضوان کی جگہ پکّی ہوئی، پورے تین سال بعد اور رضوان آ گئے تے چھا گئے!

ویسے تو رضوان اکّا دکّا میچز اور سیریز کھیلتے آئے تھے لیکن سرفراز کی موجودگی میں ان کی جگہ بنتی نہیں تھی۔ الّا یہ کہ کوئی بڑی مشکل سیریز آئے اور کسی کھلاڑی کو بلّی چڑھانا ہو۔ یہ بھی پاکستان کی ایک بڑی پرانی روایت ہے۔ تو ورلڈ کپ 2019ء سے پہلے دورۂ آسٹریلیا میں رضوان کو بالکل ویسے ہی طلب کیا گیا جیسے 2010ء کے دورۂ آسٹریلیا میں سرفراز احمد کا اچانک بلاوا آیا تھا۔

بہرحال، رضوان نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں دو سنچریاں داغیں اور پھر جب سرفراز احمد کو قیادت سے ہٹا دیا گیا تو آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں، اپنے پہلے ٹیسٹ میں ہی 95 رنز کی شاندار اننگز کھیل ڈالی۔

بعد ازاں رضوان کی کارکردگی نکھرتی چلی گئی اور سرفراز احمد پر قومی ٹیم کے دروازے بند ہوتے چلے گئے۔ خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی تو ایسا فارمیٹ ثابت ہوا جو لگتا تھا بنا ہی رضوان کے لیے ہے۔ آپ اعداد و شمار ہی دیکھ لیں:

56 میچز میں 50.36 کے اوسط اور تقریباً 129 کے اسٹرائیک ریٹ سے 1662 رنز۔ جی ہاں! ٹی ٹوئنٹی میں 50 سے زیادہ کا اوسط۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 1326 رنز انہوں نے صرف سال 2021ء میں بنائے۔

رضوان کا سال

‏2021ء سال جسے رضوان کا سال کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ اس ایک سال میں رضوان نے 73 سے زیادہ کے اوسط اور تقریباً 135 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سال کے بہترین ٹی ٹوئنٹی کھلاڑیوں پر مشتمل 'مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر' میں شامل کیا۔ یہی نہیں بلکہ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹر آف دی ایئر بھی قرار پائے۔

سال 2021ء میں رضوان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کارکردگی

میچزرنزبہترین اننگزاوسطاسٹرائیک ریٹ10050
291326104*73.66134.89112

اعداد و شمار

رضوان اب تک 22 ٹیسٹ، 44 ون ڈے اور 56 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کے ناقابلِ یقین اعداد و شمار کے علاوہ وہ ٹیسٹ میں بھی خوب چلے ہیں۔ اب تک 22 ٹیسٹ میچز میں دو سنچریوں اور 7 نصف سنچریوں کی مدد سے اور 42.76 کے اوسط سے 1,112 رنز بنا چکے ہیں۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں وہ ذرا پیچھے ہیں، جہاں ان کا اوسط صرف 28 ہے اور رنز کی تعداد ابھی ایک ہزار تک بھی نہیں پہنچی۔ البتہ دو سنچریاں ان کی یہاں بھی ہیں۔ یعنی وہ تینوں فارمیٹس میں سنچریاں بنانے والے چند پاکستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

محمد رضوان کے انٹرنیشنل کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسطاسٹرائیک ریٹ10050
ٹیسٹ221112115*42.7650.6627
ون ڈے 4489711528.0387.0824
ٹی ٹوئنٹی291326104*73.66134.89112

رضوان ایک بہت عمدہ فیلڈر بھی ہیں اور وکٹ کیپنگ کرنے کے علاوہ متعدد بار بطور اسپیشلسٹ بیٹسمین اور فیلڈر ٹیم میں شامل ہو چکے ہیں۔ وہ اب تک انٹرنیشنل میچز میں 129 کیچز پکڑ چکے ہیں جبکہ 11 اسٹمپنگز بھی ان کے ریکارڈز پر ہیں۔

یادگار ترین اننگز

رضوان چاہے جتنے بڑے کارنامے انجام دے ڈالیں، لیکن بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کھیلی گئی 79 رنز کی اننگز کوئی کبھی نہیں بھلا سکے گا۔ ایک ایسی اننگز جس نے تاریخ کا دھارا پلٹ دیا۔ پاکستان جو کبھی کسی ورلڈ کپ کے میچ میں بھارت کو شکست نہیں دے سکا تھا، 55 گیندوں پر چھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے بنائی گئی 79 رنز اننگز کی بدولت 10 وکٹوں سے جیتا یعنی اگلے پچھلے سارے حساب چکتا کر دیے۔ اس دوران رضوان نے کپتان بابر اعظم کے ساتھ 152 رنز کی شراکت داری کی۔

پھر رواں سال کا وہ کراچی ٹیسٹ آتا ہے جسے فراموش کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ آسٹریلیا پاکستان کے تاریخی دورے پر تھا جس کا دوسرا ٹیسٹ کراچی میں ہوا۔ آسٹریلیا کے 556 رنز کے جواب میں قومی ٹیم صرف 148 رنز پر ڈھیر ہو گئی یعنی پہلی اننگز میں 408 رنز کا خسارہ اور آخر میں سامنے تھا 506 رنز کا ہدف۔ جب 277 رنز پر فواد عالم کی صورت میں چوتھی وکٹ گری تو رضوان میدان میں اترے اور بابر اعظم کے ساتھ مل کر اسکور کو 392 رنز تک پہنچا دیا۔ رضوان نے 177 گیندوں پر 104 رنز بنائے یعنی جیت کا حقیقی امکان پیدا کر کے گئے۔ پاکستان مقابلہ جیت تو نہیں پایا لیکن اس میچ کو ڈرا کرنا بھی جیت سے بڑا تھا۔

ریکارڈز

محمد رضوان کے پاس جو 'مہان' ریکارڈ ہے وہ ہے ایک سال میں سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے کا۔ انہوں نے 2021ء میں 29 میچز میں 73 سے زیادہ کے اوسط اور لگ بھگ 135 کے اسٹرائیک ریٹ سے 1326 رنز بنائے۔ ان میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک سنچری کے علاوہ 12 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں، بشمول بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنائی گئی کئی سنچریوں پر بھاری ایک نصف سنچری اننگز کے۔

پھر رضوان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اوسط ہے جو 50.36 ہے۔ یہ بھارت کے ویراٹ کوہلی کے بعد کسی بھی بلے باز کا سب سے زیادہ بیٹنگ ایوریج ہے۔ ویراٹ 51.50 کا بیٹنگ اوسط رکھتے ہیں جبکہ رضوان ان سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ باقی دنیا کا کوئی بیٹسمین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 50 سے زیادہ کا بیٹنگ ایوریج نہیں رکھتا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زيادہ بیٹنگ اوسط رکھنے والے بیٹسمین

میچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
ویراٹ کوہلی97329694*51.50030
بابر اعظم561662104*50.36113
رمیش ساتھیسن2377592*45.5807
بابر اعظم74268612245.52126
منیش پانڈے3970979*44.3103

اس کے علاوہ رضوان بابر اعظم کے ساتھ مل کر کسی بھی وکٹ کے لیے پاکستان کی جانب سے سب سے طویل پارٹنرشپ کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپریل 2021ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں 197 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کی تھی۔

آپ ذرا نيچے پاکستان کے لیے سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی پارٹنرشپس کا ریکارڈ دیکھیں۔ پہلے چاروں نمبروں پر محمد رضوان اور بابر اعظم ہیں، بلکہ انہوں نے یہ سارے ریکارڈ ہی ایک سال میں بنائے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی پارٹنرشپس

بلے بازرنزوکٹبمقابلہبمقامبتاریخ
محمد رضوان، بابر اعظم197پہلیجنوبی افریقہسنچورین‏14 اپریل 2021ء
محمد رضوان، بابر اعظم 171*پہلیویسٹ انڈیزکراچی‏16 دسمبر 2021ء
محمد رضوان، بابر اعظم 158پہلیبھارتدبئی‏24 اکتوبر 2021ء
محمد رضوان، بابر اعظم 152*پہلیانگلینڈناٹنگھم‏16 جولائی 2021ء
احمد شہزاد، محمد حفیظ150دوسریزمبابوےہرارے‏24 اگست 2013ء

اعزازات

محمد رضوان انٹرنیشنل کرکٹ میں اب تک کسی ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، چیمپیئنز ٹرافی، ایشیا کپ یا کسی بڑے اعزاز سے محروم ہیں لیکن انفرادی سطح پر انہوں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ مثلاً 2021ء میں انہی کی زیرِ قیادت ملتان سلطانز ناقابلِ یقین انداز میں چیمپیئن بنا۔ ملتان نے اپنے ابتدائی پانچ میچز میں صرف ایک کامیابی حاصل کی تھی لیکن آخری پانچ مقابلوں میں سے چار جیتا اور بعد میں پی ایس ایل ٹرافی بھی اٹھائی۔

‏2021ء میں رضوان نے صرف پی ایس ایل میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی نے انہیں 'ٹی ٹوئنٹی پلیئر آف دی ایئر' قرار دیا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پی سی بی ایوارڈز میں انہیں 'موسٹ ویلیو ایبل کرکٹر' کا اعزاز ملا۔

غالباً یہ رضوان جیسے کھلاڑی کی آمد اور بابر اعظم کی قیادت ہے کہ جس نے دیگر عوامل کے ساتھ مل کر پاکستان کو عرصے بعد تمام طرز کی کرکٹ میں ٹاپ 5 میں پہنچایا ہے۔ پاکستان اس وقت ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل کی درجہ بندی میں پانچویں اور ٹی ٹوئنٹی میں تیسرے نمبر پر ہے۔