لارڈز ، انگلینڈ نے میدان مار لیا

0 746

ایک ایسا ٹیسٹ جس کے پہلے دن 17 وکٹیں گری ہوں، پہلی دونوں اننگز میں کُل ملا کر صرف 273 رنز بنے ہوں، اس میں اگر 277 رنز کا ہدف مل جائے اور پھر 69 رنز پر 4 آؤٹ بھی ہو جائیں تو ۔۔۔۔۔۔ پریشان مت ہوں، جو روٹ ہے نا! قیادت چھوڑنے کے بعد پہلے ہی ٹیسٹ میں روٹ نے ناقابلِ شکست سنچری کی مدد سے انگلینڈ کو ایک یادگار کامیابی دلا دی ہے۔

یہ وہی انگلینڈ ہے کہ جو پہلی اننگز میں صرف 8 رنز کے اضافے پر پانچ وکٹیں گنوا چکا تھا، لیکن جب لگتا تھا کہ مقابلہ اس کی گرفت سے نکل چکا ہے، تب دوڑ میں واپس آیا اور یہ تاریخی کامیابی حاصل کی۔ تاریخی اس لیے کیونکہ یہ گزشتہ 18 ٹیسٹ میچز میں انگلینڈ کی محض دوسری جیت ہے۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ انگلینڈ 2022ء - پہلا ٹیسٹ

انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏2 تا 5 جون 2022ء

لارڈز، لندن، برطانیہ

انگلینڈ 5 وکٹوں سے جیت گیا

نیوزی لینڈ (پہلی اننگز) 132
کولن ڈی گرینڈہوم4250میتھیو پوٹس4-139.2
ٹم ساؤتھی2623جیمز اینڈرسن4-6616
انگلینڈ (پہلی اننگز) 141
زیک کرالی4356ٹم ساؤتھی4-5514
ایلکس لیس2577ٹرینٹ بولٹ3-2113.5
نیوزی لینڈ (دوسری اننگز) 285
ڈیرل مچل108203میتھیو پوٹس3-5520
ٹام بلنڈیل96198اسٹورٹ براڈ3-7626
انگلینڈ (ہدف: 277 رنز) 279-5
جو روٹ115*170کائل جیمیسن4-7925
بین اسٹوکس54110ٹرینٹ بولٹ1-7324

سیریز کا آغاز نیوزی لینڈ کے ٹاس جیتنے اور خود بیٹنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا، جو اسی وقت غلط ثابت ہو گیا جب 45 رنز پر اس کی سات وکٹیں گر گئیں۔ جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کی واپسی تو اس میچ میں ہوئی ہی، ساتھ ہی پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے میتھیو پوٹس نے بھی خوب جلوے دکھائے۔ جنہوں نے ٹیسٹ میں اپنے پہلے ہی اوور میں کین ولیم سن کی قیمتی وکٹ ہتھیائی۔

بہرحال، کولن ڈی گرینڈہوم کے 42 اور ٹم ساؤتھی کے 26 رنز کی بدولت نیوزی لینڈ بمشکل تہرے ہندسے میں داخل ہوا۔ یہاں تک کہ 40 اوورز میں پوری ٹیم محض 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

ڈیبیوٹنٹ پوٹس باؤلرز میں سب سے نمایاں رہے جنہوں نے صرف 13 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ اینڈرسن نے 4 وکٹوں کے عوض 66 رنز دیے جبکہ ایک، ایک وکٹ اسٹورٹ براڈ اور بین اسٹوکس کو بھی ملی۔

جواب میں انگلینڈ نے آغاز تو اچھا لیا لیکن پھر اس پر بھی دورہ طاری ہو گیا، وہی جو نیوزی لینڈ ہوا تھا۔ ابتدائی 24 اوورز میں صرف ایک وکٹ پر 75 رنز کے بعد انگلینڈ کی وکٹیں ایسی گرنا شروع ہوئیں کہ آخر تک سلسلہ رکنے میں ہی نہیں آیا۔ خاص طور پر جب جو روٹ آؤٹ ہوئے، تب اسکور بورڈ پر 92 رنز موجود تھے اور صرف دو وکٹیں گری تھیں لیکن 100 رنز تک پہنچتے پہنچتے سات آؤٹ ہو گئے یعنی صرف 8 رنز کے اضافے سے پانچ وکٹیں۔ جب پہلے دن کا کھیل مکمل ہوا تو اسکور بورڈ پر 116 رنز پر 7 آؤٹ کا ہندسہ جگمگا رہا تھا۔ یعنی لارڈز میں پہلے ہی دن 17 وکٹیں گر چکی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ میچ دو، ڈھائی دن ہی میں ختم ہو جائے گا۔

بہرحال، انگلینڈ دوسرے دن اپنی اننگز میں صرف 25 رنز کا اضافہ کر پایا اور پوری ٹیم 141 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ یعنی برتری تو لی، لیکن محض 9 رنز کی۔ زیک کرالی کے 43 رنز سب سے نمایاں رہے جبکہ ان کے ساتھی اوپنر ایلکس لیس نے 25 رنز بنائے۔ آنے والے بلے بازوں میں صرف جو روٹ 11 رنز کے ساتھ دہرے ہندسے میں پہنچے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے 4 وکٹیں ٹم ساؤتھی نے لیں اور ٹرینٹ بولٹ نے تین شکار کیے۔

اب نیوزی لینڈ کے لیے موقع تھا کہ وہ اپنے اوسان بحال کرے اور دوسری اننگز کا آغاز ذرا سنبھل کر کرے۔ لیکن ایسا ہو نہیں پایا، صرف 56 رنز پر چار وکٹیں گر چکی تھیں۔ پوٹس ایک مرتبہ پھر دو قیمتی شکاروں کے ساتھ نمایاں تھے، جنہوں نے حریف کپتان ولیم سن کی دوبارہ وکٹ حاصل کی۔

یہاں پر میچ نے کروٹ لی، ایسا پلٹا کہ گویا اب کسی نئی وکٹ پر کھیلا جا رہا ہے۔ ڈیرل مچل اور ٹام بلنڈیل نے پانچویں وکٹ پر 195 رنز کی شراکت داری جڑ دی۔ یہاں تک کہ اسکور 251 رنز پر پہنچ گیا، یعنی جتنے رنز پہلی دو اننگز میں ملا کر نہیں بنے تھے، تقریباً اتنے اسکور بورڈ پر موجود تھے اور ابھی چھ وکٹیں بھی باقی تھیں۔ نیوزی لینڈ میچ پر چھایا ہوا تھا کہ مچل 108 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور یہیں سے مقابلہ انگلینڈ کے حق میں پلٹتا چلا گیا۔ اگلی ہی گیند پر کولن ڈی گرینڈہوم رن آؤٹ ہوئے اور پھر کائل جیمیسن اسٹورٹ براڈ کی کمال گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ اس ایک اوور نے، بلکہ صرف تین گیندوں نے انگلینڈ کو وہ حوصلہ دیا، جو آخر تک ٹوٹ نہیں سکا۔

نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز محض 285 رنز پر تمام ہو گئی یعنی آخری چھ وکٹیں اسکور میں صرف 34 رنز کا اضافہ کر سکیں۔

اسٹورٹ براڈ کے علاوہ پوٹس نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں جیمز اینڈرسن نے لیں۔

اب انگلینڈ کے سامنے 277 رنز کا ہدف تھا اور کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ خاص طور پر جب 69 رنز پر چار وکٹیں گر چکی تھی۔ پہلی اننگز کی کارکردگی دیکھیں تو لگتا تھا نیوزی لینڈ میدان مار لے گا لیکن قسمت انگلینڈ کے ساتھ تھی۔ کپتان بین اسٹوکس اننگز کے ابتدائی مرحلے میں ہی آؤٹ ہو گئے، لیکن کولن ڈی گرینڈہوم کی وہ گیند نو-بال قرار پائی۔ جس کے بعد انہوں نے سابق کپتان جو روٹ کے ساتھ مل کر 90 رنز کی شراکت داری کی۔

چوتھے دن کا کھیل شروع ہوا تو انگلینڈ پانچ وکٹوں پر 216 رنز کے ساتھ بہت مضبوط پوزیشن پر تھا۔ جو روٹ 77 رنز کے ساتھ کھیل رہے تھے جبکہ دوسرے اینڈ پر بین فوکس بھی جمے ہوئے تھے۔ نیوزی لینڈ کو واحد آسرا چوتھے دن صبح کے سیشن میں باؤلنگ کے لیے سازگار حالات کا تھا لیکن روٹ اور فوکس نے حریف باؤلرز کی ایک نہ چلنے دی۔ یہاں تک کہ ایک وکٹ تک نہیں دی اور ہدف تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

جو روٹ 170 گیندوں پر 115 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ میدان سے واپس آئے۔ 328 منٹوں پر محیط اس اننگز کے دوران انہوں نے 12 چوکے لگائے اور یوں قیادت سے دستبردار ہونے کے بعد پہلے ہی مقابلے میں اہمیت ثابت کر دی۔ انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔

اس دوران جو روٹ نے اپنے 10 ہزار ٹیسٹ رنز بھی مکمل کیے۔ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے محض دوسرے بیٹسمین بنے ہیں، جنہیں دس ہزاری منصب ملا ہے۔ ان سے قبل صرف ایلسٹر کک نے 10 ہزار ٹیسٹ رنز کا سنگِ میل عبور کر رکھا تھا۔

ویسے یہ گزشتہ 18 مقابلوں میں انگلینڈ کی محض دوسری کامیابی ہے۔ ان میچز میں سے 11 ایسے ہیں جن میں انگلینڈ کو شکست ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ آخری دورۂ ویسٹ انڈیز میں بھی بُری طرح ناکام ہوا اور نتیجہ کوچ سے لے کر کپتان تک سب کے اخراج کی صورت میں نکلا۔

یہ بین اسٹوکس کی کپتانی اور برینڈن میک کولم کی کوچنگ کے دور کا ایک شاندار آغاز ہی، جس میں جو روٹ کی اہمیت و اہلیت بھی اپنی جگہ مسلّم نظر آتی ہے۔

بہرحال، ایک نئے دور کا آغاز بہت خوش کن انداز میں ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ کو بہت غور و فکر کرنا ہوگا، ان سے کہاں غلطیاں ہوئیں، کس طرح میچ ان کی گرفت میں آنے کے بعد ہاتھ سے نکل گیا اور آخر ابتدائی وکٹیں لینے کے بعد ان کے باؤلرز کیوں حتمی وار نہیں کر پائے؟

ان سب سوالوں کے جوابات ملیں گے دوسرے ٹیسٹ میں جو 10 جون سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں کھیلا جائے گا۔ تین ٹیسٹ میچز کی یہ سیریز 23 جون سے لیڈز میں شروع ہونے والے ٹیسٹ کے ساتھ اپنی تکمیل کو پہنچے گی۔