ملر اور ڈسن نے میدان مار لیا، بھارت کو تاریخی شکست

0 300

کسی سیانے نے کیا خوب کہا تھا "دلّی کے شیشے ٹوٹیں گے" اور کئی ماہ بعد بالآخر یہ پیش گوئی جنوبی افریقہ نے پوری کر دی ہے۔ رسی وان ڈیر ڈسن اور ڈیوڈ ملر کی دھواں دار بیٹنگ نے بھارت کو دلّی میں چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ وہ بھی کچھ اس طرح کہ جنوبی افریقہ نے اپنی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کیا اور بھارت پہلی بار 200 سے زیادہ کا ہدف دے کر بھی اس کا دفاع نہیں کر پایا۔

تاریخی فیروز شاہ کوٹلا اسٹیڈیم میں کہ جس کا نام بھارت کے بہت سے مقامات کی طرح بدل دیا گیا ہے اور اب یہ ارون جیٹلی اسٹیڈیم ہے، تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ماحول بالکل ویسا ہی تھا جیسے ہمیں کل ملتان اور کولمبو میں نظر آیا تھا۔ بہرحال، ٹاس جنوبی افریقہ نے جیتا اور پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ ایشان کشن کی دھواں دار بلے بازی کے بعد لگتا تھا جنوبی افریقہ سے غلطی ہو گئی ہے۔ اُن کی 48 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز پے در پے چھکوں کے بعد اُس وقت مکمل ہوئی جب 13 اوورز میں اسکور 137 رنز کو پہنچ گیا تھا۔

بعد ازاں، بھارت نے قائم مقام کپتان رشبھ پنت کے 29 اور ہاردک پانڈیا کے صرف 12 گیندوں پر 31 رنز کی بدولت 211 رنز بنا لیے۔ ایک ایسا ہندسہ جسے حاصل کرنے کے بعد بھارت کو تاریخ میں کبھی شکست نہیں ہوئی۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ بھارت 2022ء - پہلا ٹی ٹوئنٹی

بھارت بمقابلہ جنوبی افریقہ

نتیجہ: جنوبی افریقہ 7 وکٹوں سے جیت گیا

بھارت211-4
ایشان کشن7648
شریاس آیر3627
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
وین پارنیل40321
ڈوین پریٹوریئس30351

جنوبی افریقہ 🏆212-3
رسی وان ڈیر ڈسن75*46
ڈیوڈ ملر6431
بھارت باؤلنگامرو
آکشر پٹیل40401
بھوونیشوَر کمار40431

جواب میں جنوبی افریقہ کا آغاز کچھ خاص نہیں تھا، تیسرے اوور میں ہی کپتان تمبا باووما آؤٹ ہو گئے۔ ڈیوین پریٹوریئس اور کوئنٹن ڈی کوک نے پاور پلے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا لیکن وکٹیں بچانے میں یہ بھی کامیاب نہ ہو سکے اور 81 رنز تک وہ بھی میدان سے واپس آ چکے تھے۔

یہاں رسی وان ڈیر ڈسن اور ڈیوڈ ملر نے اننگز کو سنبھالا اور پھر بازی کو پلٹ کر رکھ دیا۔ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی ٹیم نے اننگز کے آخری 10 اوورز میں 126 رنز بنا ڈالے ہوں۔ جنوبی افریقہ ابتدائی 10 اوورز کے بعد 86 رنز پر کھڑا تھا، لیکن اس کے بعد اگلی 55 گیندوں پر 126 رنز داغ کر میچ کا خاتمہ کر دیا۔  

ویسے اِس سے پہلے یہ اعزاز آسٹریلیا کے پاس تھا، جس نے ابتدائی10 اوورز کے بعد اسکور میں 125 رنز کا اضافہ کیا تھا۔ آپ کے خیال میں یہ کون سا میچ ہوگا؟ مت یاد دلائیں۔ وہی ورلڈ کپ 2010ء کا سیمی فائنل، جس میں مائیکل ہسی نے پاکستانیوں کو خون کے آنسو رُلائے تھے۔

خیر، جنوبی افریقہ پر ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا کہ درکار رن ریٹ 14 کو چھو رہا تھا۔ یہاں پر ڈسن نے بلّا تبدیل کیا، اس کے بعد بھارتی باؤلرز کو دھو ڈالا۔ کہاں 30 گیندوں پر صرف 29 رنز پر کھیل رہے تھے اور کہاں یہ کہ ایک ہی اوور میں 22 رنز لوٹ لیے۔ ہر شاٹ کے ساتھ میدان میں خاموشی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ کچھ دیر قبل جہاں کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی، اب سکوت طاری تھا۔

ڈسن 46 گیندوں پر 75 اور ڈیوڈ ملر 31 گیندوں پر 64 رنز بنا کر میدان سے ناقابلِ شکست اور فاتحانہ لوٹے۔

ویسے یہ رواں سال چھٹا موقع تھا کہ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھارت کو شکست ہوئی ہو۔ پہلے بھارت دو ٹیسٹ ہارا تھا، پھر تین ون ڈے اور اب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی شکست ہی نصیب ہوئی۔ یوں بھارت کا مسلسل 12 ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے کا سلسلہ بھی اختتام کو پہنچا۔ بہرحال، سیریز واپس آنے کے ابھی بہت سے مواقع ہیں کیونکہ سیریز پانچ مقابلوں پر محیط ہے۔