بنگلہ دیش ایک اور سیریز ہار گیا

0 199

بنگلہ دیش کی عادتیں نہیں بدلیں، تو نتیجہ کیسے بدلتا؟ ٹھیک ایک ماہ پہلے میر پور میں جن غلطیوں کی وجہ سے سری لنکا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ ہارا تھا، اب ڈھاکا سے ہزاروں کلومیٹرز دُور سینٹ لوشیا میں بھی وہی غلطیاں دہرائیں، تو نتیجہ بھی وہی نکلنا تھا۔ ویسٹ انڈیز نے دوسرا ٹیسٹ 10 وکٹوں سے جیت کر سیریز میں ‏2-0 سے کامیابی حاصل کر لی۔

ڈیرن سیمی نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا یہ ٹیسٹ بنگلہ دیش کے لیے سیریز بچانے کا آخری موقع تھا۔ لیکن ٹاس ہارا اور اس کے بعد آخر تک ہارتے ہی رہے۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بنگلہ دیش صرف 234 رنز بنا پایا۔ تمیم اقبال کے 46 رنز کے بعد لٹن داس ہی نمایاں بلے باز رہے جنہوں نے 53 رنز بنائے۔ باقی کسی بلے باز کی اننگز 30 رنز تک بھی نہیں پہنچ پائی۔ ویسے آخری دو وکٹوں نے 43 رنز کا اضافہ کر دیا، اگر یہ نہ ہوتا تو 200 کا ہندسہ بھی پار نہ ہو پاتا۔

پھر ویسٹ انڈیز کا جواب تھا، ایک دم کرارا! پہلی ہی وکٹ پر کریگ بریتھویٹ اور جان کیمبل کی سنچری پارٹنرشپ ہوئی۔ کیمبل 45 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور پھر 131 رنز کے اسکور پر ویسٹ انڈیز کو زبردست دھچکا پہنچا، بلکہ ایک نہیں، دو نہیں، تین دھچکے۔ دو اوورز میں ہی بریتھویٹ اور ان کے بعد ریمن رائفر اور انکروما بونر کی وکٹیں بھی گر چکی تھیں۔

صرف 132 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد مقابلہ برابری کی سطح پر آ گیا تھا۔ یہاں کائل میئرس کی اننگز نے گویا میچ کا فیصلہ کر دیا۔ انہوں نے 208 گیندوں پر 146 رنز بنا کر ویسٹ انڈیز کو بالادست مقام پر پہنچا دیا۔

ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 408 رنز پر مکمل ہوئی، جس میں مائرس کے علاوہ بریتھویٹ کے 51، کیمبل کے 45 اور جرمین بلیک ووڈ کے 40 رنز نمایاں رہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے خالد احمد نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، لیکن ان کی یہ کارکردگی بھی ساتھی کھلاڑیوں میں بجلی نہ بھر سکی۔

بنگلہ دیش کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2022ء - دوسرا ٹیسٹ

‏24 تا 27 جون 2022ء

ڈیرن سیمی اسٹیڈیم، گروس آئی لیٹ، سینٹ لوشیا

ویسٹ انڈیز 10 وکٹوں سے میچ جیت گیا

ویسٹ سیریز میں ‏2-0 سے کامیاب

بنگلہ دیش (پہلی اننگز) 234
لٹن داس5370الزاری جوزف3-5015
تمیم اقبال4667جیڈن سیلز3-5714.2
ویسٹ انڈیز (پہلی اننگز)408
کائل میئرس146208خالد احمد5-10631.3
کریگ بریتھویٹ51107مہدی حسن3-9139
بنگلہ دیش (دوسری اننگز) 186
نور الحسن60*50جیڈن سیلز3-218
نجم الحسین4291کیمار روچ3-5413
ویسٹ انڈیز (ہدف: 13 رنز) 13-0
جان کیمبل9*11عبادت حسین0-91.5
کریگ بریتھویٹ4*6خالد احمد0-41

پہلی اننگز میں 174 رنز کے بڑے خسارے کے بعد بنگلہ دیش کو چند کھلاڑیوں کی غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت تھی، جو کوئی نہیں دکھا سکا۔ صرف 104 رنز پر آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی، جن میں تجربہ کار تمیم اقبال کے علاوہ انعام الحق اور لٹن داس بھی شامل تھے۔

وکٹ کیپر نور الحسن نے 60 رنز بنا کر اپنی سی مزاحمت ضرور کی، لیکن انہیں دوسرے اینڈ سے کسی کا ساتھ میسر نہ آیا، یہاں تک کہ 186 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔

جیڈن سیلز اور الزاری جوزف نے پہلی اننگز کی طرح یہاں بھی تین، تین شکار کیے جبکہ کیمار روچ بھی تین وکٹیں لے اڑے۔ اس دوران روچ نے اپنی 250 ٹیسٹ وکٹیں بھی مکمل کیں۔

ویسٹ انڈیز نے 13 رنز کا معمولی ہدف تیسرے اوور ہی میں پورا کر لیا اور یوں سیریز میں کلین سوئپ کیا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش نے سال 2022ء کا آغاز نیوزی لینڈ کے دورے پر ایک تاریخی کامیابی کے ساتھ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک ایک میچ بھی نہیں جیت پایا۔

سال 2022ء اور بنگلہ دیش کی ٹیسٹ کارکردگی

نتیجہمارجنبمقابلہبمقامبتاریخ
بنگلہ دیشفتح‏8 وکٹیں نیوزی لینڈماؤنٹ مونگانوئیجنوری 2022ء
بنگلہ دیششکستاننگز اور 117 رنز نیوزی لینڈکرائسٹ چرچجنوری 2022ء
بنگلہ دیششکست‏220 رنز جنوبی افریقہڈربنمارچ 2022ء
بنگلہ دیششکست‏332 رنز جنوبی افریقہپورٹ ایلزبتھاپریل 2022ء
بنگلہ دیشبے نتیجہ- سری لنکا چٹوگراممئی 2022ء
بنگلہ دیششکست‏10 وکٹیں سری لنکا میرپورمئی 2022ء
بنگلہ دیششکست‏7 وکٹیں ویسٹ انڈیزنارتھ ساؤنڈجون 2022ء
بنگلہ دیششکست‏10 وکٹیں ویسٹ انڈیزگروس آئی لیٹجون 2022ء

بہرحال، اب ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنلز کھیلیں گے۔ دیکھتے ہیں محدود اوورز کے فارمیٹ میں بنگلہ دیش کی کارکردگی میں کیا بہتری آتی ہے۔