وہاب ریاض، ایک بہترین باؤلر یا ایک بدترین باؤلر؟

0 218

یہ سال 2015ء تھا، وہ سال جب پاکستان کرکٹ ایک دوراہے پر کھڑی تھی۔ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد جو بے یقینی پیدا ہوئی تھی، وہ چھٹ چکی تھی اور سب کچھ "معمول" پر آ چکا تھا۔ "معمول" مطلب وہی کوچ، کپتان اور کھلاڑیوں کے اختلافات اور درونِ خانہ چپقلش۔ یہاں تک کہ ورلڈ کپ 2015ء آ گیا۔

پاکستان مذاق ہی مذاق میں اور "92ء میں بھی ایسا ہی ہوا تھا" والی میمز شیئر کرتے کرتے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ ہی گیا۔ جہاں ٹکراؤ تھا آسٹریلیا سے۔ اُسی آسٹریلیا سے، جس کے خلاف پاکستان کبھی آئی سی سی ٹورنامنٹ کا کوئی ناک آؤٹ مقابلہ نہیں جیتا۔ 1987ء کے ورلڈ کپ سیمی فائنل سے 2015ء کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل تک۔ جی ہاں! اس مقابلے میں شکست ہی پاکستان کا مقدر ٹھیری لیکن یہ میچ یادوں میں تازہ رہے گا، صرف ایک کھلاڑی کی وجہ سے۔ وہاب ریاض کی وجہ سے، جنہوں نے اس دن "وہ" باؤلنگ کی جو عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔

آسٹریلیا 214 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا۔ اننگز کا نواں اوور وہاب ریاض کو تھمایا گیا۔ پھر تو گویا گیند آگ اگلنے لگی۔ لگ رہا تھا میچ ایڈیلیڈ میں نہیں بلکہ پرتھ میں کھیلا جا رہا ہے، وہ بھی پرانے زمانے والے پرتھ کی پچ پر۔

وہاب ریاض آ گئے تے چھا گئے! پہلے اوور میں ڈیوڈ وارنر اور دوسرے میں مائیکل کلارک کی وکٹ لے اڑے۔ اب مقابلہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور سنسنی کا تمام سامان فراہم کر رہے تھے وہاب ریاض۔ شین واٹسن کو تو وہاب نے ہلا کر رکھ دیا، ایک گیند اُن کے سر کا نشانہ لیتی تو دوسری ان کی وکٹوں کو تقریباً چھوتے ہوئے نکل جاتی۔ واٹسن بلّے سے نہیں بلکہ قسمت کے بل بوتے پر کھیل رہے تھے۔

اس اسپیل میں وہاب نے جس attitude کا مظاہرہ کیا، وہ گویا سونے پہ سہاگا تھا بلکہ صحیح الفاظ استعمال کریں تو مرچوں پر تڑکا۔

مقامی تماشائیوں نے تو پہلے تو وہاب ریاض کے رویّے پر ناک بھوں چڑھائی لیکن کچھ دیر میں انہیں بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ ایک تاریخی اسپیل کے عینی شاہد بن رہے ہیں۔ ہر گیند پر "اُوہ" اور "آہ" کی بلند ہوتی صدائیں بتا رہی تھیں کہ وہ بھی اس طوفانی اسپیل کا بھرپور لطف لے رہے ہیں۔

آسٹریلیا سمجھ چکا تھا کہ آج جیت کی ضمانت تبھی ملے گی جب وہاب ریاض سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ بہرحال، کسی نہ کسی طرح آسٹریلیا نے وہاب کے اوورز کھیل لیے اور آخر میں میچ بھی جیت گیا۔

لیکن شین واٹسن کو جو تگنی کا ناچ اُس دن وہاب ریاض نے نچایا، وہ آج بھی ورلڈ کپ تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہے۔

ویسے یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کسی بڑے مقابلے میں وہاب نے بڑی کارکردگی دکھائی ہو۔ ٹھیک چار سال پہلے یہ ایک 'مہان مقابلہ' تھا۔ ورلڈ کپ 2011ء کا وہ سیمی فائنل جس میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے تھے۔ پورے برصغیر کا پہیہ چام تھا، جب موہالی میں وہاب نے وریندر سہواگ، ویراٹ کوہلی، یووراج سنگھ اور ایم ایس دھونی سمیت پانچ بلے بازوں کو آؤٹ کر کے تہلکہ مچا دیا۔ لیکن قسمت دیکھیے کہ یہ مشہور اسپیل بھی پاکستان کو مقابلہ نہ جتوا سکا۔

یہ تو وہاب ریاض کے کیریئر کا صرف ایک رخ ہے۔ اُن کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جہاں کارکردگی میں عدم تسلسل نظر آتا ہے، اتنا کہ بد ترین مثال بن جاتے۔ اِن دونوں مقابلوں کے درمیان میں ہی دیکھ لیں، یعنی ورلڈ کپ 2011ء سے 2015ء کے ان تاریخی اسپیلز کے بالکل بیچ میں۔ مارچ 2013ء ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ون ڈے مقابلہ ہے، جس میں وہاب ریاض اپنے 10 اوورز میں 93 رنز کھاتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اسی سال جولائی میں وہاب ریاض کی وجہ سے پاکستان ایک یقینی جیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے ایک اہم مقابلے میں وہ آخری اوور میں 15 رنز بھی نہ بچا سکے اور آخری گیند پر میچ ٹائی ہو گیا۔

پھر اگست 2016ء کی وہ بھیانک شام آتی ہے، جب انگلینڈ کے خلاف ایک ون ڈے میں وہ 10 اوورز میں 100 رنز کھانے والے پاکستان کے پہلے باؤلر بنے۔

تو اصل وہاب ریاض کون سا ہے؟ وہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان میں کہیں ہے۔ جس کے ایک طرف ایڈیلیڈ اور موہالی کی کارکردگی ہے تو دوسری جانب جوہانسبرگ اور ٹرینٹ برج جیسی پرفارمنس بھی۔

شعیب اختر کے کیریئر کا خاتمہ اور محمد آصف اور محمد عامر کا اچانک اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پھنس جانا، وہاب کو قومی ٹیم تک تو پہنچا گیا، لیکن یہ عدم تسلسل ہمیشہ آڑے آتا رہا۔

وہاب ریاض نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 2010ء کی اُسی بدنام زمانہ سیریز میں کیا تھا، جہاں پاکستان کے تین کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں پکڑے گئے تھے۔ وہاب ریاض اس معاملے میں بال بال بچ گئے البتہ میدان میں اچھی کارکردگی بھی دکھائی۔ مثلاً پہلے ٹیسٹ میں ہی ایک اننگز میں پانچ وکٹوں کا کارنامہ انجام دیا۔ وکٹیں بھی کس کی؟ اینڈریو اسٹراس، جوناتھن ٹروٹ اور کیون پیٹرسن کی۔ لیکن پھر وہی پل میں تولہ، پل میں ماشہ۔ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف مایوس کن کارکردگی اور ٹیم سے اخراج۔

بہرحال، وہاب ریاض نے اپنے کیریئر میں 27 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں انہوں نے 83 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اوسط ذرا زیادہ ہے 34.50، جو اتنے تجربہ کار اور باصلاحیت باؤلر کو جچتا نہیں۔

پھر محدود اوورز کی کرکٹ میں رنز کھانے کی وجہ سے وہ اسی طرح تنقید کی زد میں رہے جیسے کبھی محمد سمیع پر ہوتی تھی۔ کئی اہم مواقع پر ان کی کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کو شکست ہوئی۔

وہاب نے کل 91 ون ڈے انٹرنیشنلز بھی کھیلے، جن میں 34.30 کے مایوس کن اوسط اور 5.70 کے بھاری اکانمی ریٹ کے ساتھ 120 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ اعداد و شمار اُس وہاب ریاض کے شایانِ شان نہیں جنہیں ہم موہالی اور ایڈیلیڈ میں باؤلنگ کرتے دیکھ چکے ہیں۔

وہاب ریاض کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسطاکانمی‏5 وکٹیں‏10 وکٹیں
ٹیسٹ 27835-6334.503.4220
ون ڈے انٹرنیشنل911205-4634.305.7010
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل36343-1828.558.2000
فرسٹ کلاس1364419-5929.133.30165
لسٹ اے1912605-2430.815.3950
ٹی ٹوئنٹی3183795-822.207.4430

وہاب ریاض نے اپنا آخری ٹیسٹ 2018ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا اور اگلے ہی سال ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر قومی کرکٹ کے کرتا دھرتا حلقوں کو ناراض کر دیا۔ اس کے بعد انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں بہت کم مواقع دیے گئے۔ انہیں آخری مرتبہ کوئی ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے ہوئے بھی تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔ لگتا ہے وہاب کا انٹرنیشنل کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے البتہ وہ لیگ کرکٹ میں اپنے جلوے اب بھی دکھا رہے ہیں اور پشاور زلمی کے کپتان کی حیثیت سے قومی کرکٹ کا ایک بڑا نام ہیں۔