بوم بوم بمراہ! اسٹورٹ براڈ کو ایک اوور میں 35 رنز

0 565

انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2007ء کا وہ بدنامِ زمانہ اوور پھینکا تھا، جس میں بھارت کے یووراج سنگھ نے تمام چھ گیندوں پر چھکے لگائے تھے۔ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی اور ساتھ ہی کروڑوں شائقین کو ایک ناقابلِ فراموش یاد نصیب ہوئی۔

لیکن اب تو سالوں گزر چکے ہیں۔ آج براڈ انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین باؤلرز میں سے ایک ہیں بلکہ کچھ دیر پہلے ہی انہوں نے اپنی 550 ویں ٹیسٹ وکٹ بھی لی۔ پھر گزشتہ 15 سال کے دوران وہ ٹیسٹ میں دنیا کے نمبر ایک باؤلر بنے اور ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ چیمپیئن بھی۔ لیکن آج جسپریت بمراہ نے انہیں ڈربن کی وہ بھیانک شام یاد دلا دی۔

یہ ایجبسٹن، برمنگھم میں بھارت کی پہلی اننگز کے اختتامی لمحات تھے ۔ ایک بھیانک آغاز کے بعد بھارت نے معاملات کو بڑی حد تک سنبھال لیا تھا۔ 9 وکٹوں پر 377 رنز بن چکے تھے اور کپتان بمراہ صفر پر کھیل رہے تھے۔ اسٹورٹ براڈ اننگز کا 84 واں اوور پھینکنے کے لیے آئے۔ 550 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کرنے کی خوشی ان کے چہر ے سے عیاں تھی، لیکن اِس اوور نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔

پہلی گیند پر چوکا لگنے، اور ایک مشکل کیچ چھوٹ جانے کے بعد براڈ نے جھنجلاہٹ میں ایک شارٹ گیند پھینکی جسے وکٹ کیپر بلنگز بھی نہ پکڑ پائے اور وائیڈ کے پانچ رنز ہو گئے۔ اس پر مزید جھلاہٹ اور نتیجہ بہت ہی بھیانک، اگلی گیند نے پھر بمراہ کے بلّے کا کنارہ لیا اور باؤنڈری لائن کے پار جا گری۔ یہاں براڈ کے زخموں پر نمک چھڑکا نو بال نے۔ یعنی صرف ایک گیند پر 16 بن چکے تھے۔

اگلی تینوں گیندوں پر بمراہ نے کسی نہ کسی طرح تین چوکے حاصل کر لیے اور یوں ایک اوور میں سب سے زیادہ 28 رنز کا عالمی ریکارڈ برابر کر دیا۔ پھر پانچویں گیند پر چھکا اور ایک نیا ریکارڈ بن گیا۔ کیونکہ صرف ایک وکٹ باقی رہ گئی تھی، اس لیے بمراہ نے آخری بال پر ایک رن بنانے پر اکتفا کیا اور یوں اوور میں 35 رنز بنے۔

اگلے ہی اوور میں جیمز اینڈرسن نے بھارت کی آخری وکٹ حاصل کر لی اور اننگز 416 رنز پر ختم ہوگئی۔ یہی بھارت تھا جو صرف 98 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا، لیکن رشبھ پنت اور رویندر جدیجا کی شاندار بیٹنگ اور سنچری اننگز کی بدولت 400 کا سنگ میل بھی عبور کر گیا۔ بمراہ 16 گیندوں پر 31 رنز کے ساتھ ناقابل شکست واپس آئے، ایک شاندار ریکارڈ لیے!

ٹیسٹ: ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز

کُل رنزبلے بازباؤلرگیندیں اور رنزبمقامبتاریخ
35 جسپریت بمراہ اسٹورٹ براڈ4و، 4ن ب، 6، 4، 4، 4، 6، 1برمنگھمجولائی 2022ء
28 برائن لارا رابن پیٹرسن4، 6، 6، 4، 4، 4جوہانسبرگدسمبر 2003ء
28 جارج بیلی جیمز اینڈرسن4، 6، 2، 4، 6، 6پرتھدسمبر 2013ء
28 کیشَو مہاراج جو روٹ4، 4، 4، 6، 6، ب، 4پورٹ ایلزبتھجنوری 2020ء
27 شاہد آفریدی ہربھجن سنگھ6، 6، 6، 6، 2، 1لاہورجنوری 2006ء
26 کریگ میک ملن یونس خان4، 4، 4، 4، 6، 4ہملٹنمارچ 2001ء
26 برائن لارا دانش کنیریا4، 0، 6، 6، 6، 4ملتاننومبر 2006ء
26 مچل جانسن پال ہیرس4، 4، 6، 0، 6، 6جوہانسبرگمارچ 2009ء
26 برینڈن میک کولم سورنگا لکمل4، 6، 6، 0، 4، 6کرائسٹ چرچدسمبر 2014ء
26 ہاردِک پانڈیا ملندا پشپاکمارا4، 4، 6، 6، 6، 0پالی کیلےاگست 2017ء

ویسے ٹیسٹ تاریخ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بمراہ سے پہلے ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹسمین برائن لارا کے پاس تھا۔ دسمبر 2003ء میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں ایک اوور میں دو چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 28 رنز بنائے تھے۔ بد قسمت باؤلر رابن پیٹرسن تھے، جن کے اوور میں لارا نے دو چھکے اور چار چوکے لگائے تھے۔

بعد ازاں آسٹریلیا کے جارج بیلی اور حال ہی میں جنوبی افریقہ کے کیشَو مہاراج نے یہ ریکارڈ برابر ضرور کیا، یعنی ایک اوور میں 28،28 رنز بنائے لیکن اسے توڑ نہیں پائے۔

بیلی نے دسمبر 2013ء میں ایشیز سیریز کے دوران انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن کو تین چھکے اور دو چوکے لگائے تھے اور ایک اوور میں 28 رنز لوٹے۔

حیران کن طور پر کیشَو مہاراج نے بھی یہ کارنامہ انگلینڈ ہی کے خلاف انجام دیا۔ یہ جنوری 2020ء کا پورٹ ایلزبتھ ٹیسٹ تھا، جس میں مہاراج نے انگلینڈ کے جو روٹ کو مسلسل تین چوکے لگائے اور پھر دو چھکے بھی رسید کیے۔ آخری گیند پر بائے کے 4 رنز کے ساتھ اس اوور میں جنوبی افریقہ 28 رنز لوٹنے میں کامیاب ہوا۔

اگر ہم پاکستان کے بلے بازوں کو دیکھیں تو ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ انہی کے پاس ہے، جو اس کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، یعنی شاہد آفریدی کے پاس۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کے ہربھجن سنگھ کے ساتھ اُن کا خاص "یارانہ" تھا۔ جس کا اظہار "لالا" نے جنوری 2006ء کے لاہور ٹیسٹ میں بھی کیا۔ انہوں نے "بھجی" کے ایک اوور میں مسلسل چار چھکے لگائے اور آخری دو گیندوں پر تین رنز حاصل کر کے 27 رنز لوٹے۔

ویسے پاکستان کے خلاف ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین نیوزی لینڈ کے کریگ میک ملن ہیں۔ مارچ 2001ء میں انہوں نے ہملٹن ٹیسٹ میں یونس خان کو ایک اوور میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگایا تھا۔ یوں 26 رنز لوٹنے میں کامیاب ہوئے۔