[آج کا دن] حسن علی پیدا ہوئے

0 231

یہ 4 جون 2017ء کا دن تھا۔  ایک اور آئی سی سی ٹورنامنٹ، پاکستان اور بھارت آمنے سامنے اور ایک مرتبہ پھر بُری طرح شکست۔ پاکستان یہ مقابلہ 124 رنز سے ہارا۔ صرف 16 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کا تجربہ رکھنے والے نوجوان حسن علی کے لیے تو یہ مقابلہ بہت ہی مایوس کُن تھا۔ ان کے 10 اوورز میں بھارتی بلے بازوں نے سب سے زیادہ 70 رنز لُوٹے۔ پھر کیا تھا؟  پاکستانی ٹیم ملک میں تنقید کا اور بیرونِ ملک مذاق کا نشانہ بن گئی۔

یہ شکست حسن علی بلکہ پوری ٹیم پاکستان کے لیے تازیانہ ثابت ہوئی۔ اُس کے بعد پاکستان آگے بڑھا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ ٹیم جو بمشکل چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کر پائی تھی، بالآخر چیمپیئن بن گئی۔ اس تاریخی کامیابی میں سب سے نمایاں کردار تھا حسن علی کا۔ جنہوں نے ٹورنامنٹ میں کُل 13 وکٹیں حاصل کیں اور بہترین کھلاڑی کا اعزاز پایا۔

کوئی پاکستانی کھلاڑی بھارت کے خلاف کارکردگی دکھائے تو قوم ویسے ہی سر پر چڑھا لیتی ہے، یہ تو پھر چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل تھا۔ حسن علی راتوں رات سپر اسٹار بن گئے۔ جشن منانے کے منفرد انداز نے تو انہیں گھر گھر مشہور کر دیا۔  

حسن علی ملہی 1994ء میں آج ہی کے دن یعنی 2 جولائی  کو منڈی بہاؤ الدین میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز اگست 2016ء میں کیا۔ وہ کچھ ہی عرصے میں ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے کم میچز میں 50 وکٹیں لینے والے پاکستانی باؤلر بن گئے۔ یہی نہیں بلکہ ون ڈے باؤلرز کی عالمی درجہ بندی میں بھی نمبر وَن بنے۔ وہ اپنے ڈیبیو کے بعد صرف 426 دن میں اس مقام تک پہنچے۔ پاکستان کا کوئی باؤلر کبھی اتنی تیزی سے دنیا کا بہترین باؤلر نہیں بنا تھا۔ انہوں نے ثقلین مشتاق کا 473 دن میں نمبر وَن بننے کا ریکارڈ توڑا۔  

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عروج کے بعد حسن علی کو جن بلندیوں تک پہنچنا چاہیے تھا، وہاں تک نہیں پہنچ پائے۔ کارکردگی میں زوال کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ 2019ء میں زخمی ہونے سے پوری ہو گئی اور وہ تقریباً ایک سال تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو پائے۔

حسن علی کے باؤلنگ کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسط‏5 وکٹیں
ٹیسٹ19745-2723.60‏6 مرتبہ
ون ڈے انٹرنیشنل60915-3430.36‏4 مرتبہ
ٹی 20 انٹرنیشنل49604-1823.15‏0 مرتبہ
فرسٹ کلاس632718-10723.49‏18 مرتبہ
لسٹ اے851385-3427.65‏4 مرتبہ
ٹی 201481905-2022.10‏1 مرتبہ

کارکردگی کا اندازہ اعداد و شمار سے لگا لیں: 2017ء میں حسن علی نے 18 ون ڈے میچز کھیلے اور محض 17.04 کے اوسط سے 45 وکٹیں لیں۔ یہ سال ان کے لیے خوش قسمت تھا۔ وہ آئی سی سی کے 'ایمرجنگ پلیئر آف دی ایئر' بھی قرار پائے۔ لیکن اگلا سال زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ دورۂ جنوبی افریقہ میں ناکامی اور پھر اسی سال یعنی 2018ء میں 15 میچز میں تقریباً دو گنے یعنی 34.00 کے اوسط سے صرف 19 وکٹیں۔ 2019ء تو حسن کے لیے مزید بھیانک ثابت ہوا، جس میں انہوں نے 12 میچز میں صرف 7 وکٹیں حاصل کیں، اوسط تھا 89 سے بھی زیادہ۔ 2021ء کے آغاز سے اب تک وہ کُل 7 ون ڈے میچز کھیلے ہیں، اور صرف 11 وکٹیں لے سکے ہیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں حسن علی کی کارکردگی، سال بہ سال

سالمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسط‏5 وکٹیں
20168114-6031.18‏0 مرتبہ
201718455-3417.04‏3 مرتبہ
201815193-3234.00‏0 مرتبہ
20191271-3389.28‏0 مرتبہ
2021475-5132.71‏1 مرتبہ
2022322-2976.50‏0 مرتبہ

پھر ٹی ٹوئنٹی میں بھی حالات مختلف نہیں۔ ابتدائی دو سالوں میں انہوں نے 17.50 اور 21.41 کے اوسط سے بالترتیب 6 اور 12 شکار کیے۔ لیکن 2018ء سے یہاں بھی زوال کا آغاز ہو گیا۔

البتہ 2021ء میں حسن علی نے کسی حد تک واپسی کی، 19.28 کے اوسط سے 25 وکٹیں حاصل کرنا خوش آئند ہے۔ لیکن یہ سب وکٹیں کسی کو یاد نہیں ہوں گی، کیونکہ 2021ء اُن کے ایک کیچ ڈراپ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021ء کا سیمی فائنل تھا، جس میں پاکستان آسٹریلیا کے خلاف جیت کی پوزیشن میں تھا، جب حسن علی نے میچ کے نازک ترین مرحلے پر میتھیو ویڈ کا کیچ چھوڑ دیا۔ یہ ڈراپ پاکستان کو بہت مہنگا پڑا کیونکہ ویڈ نے اگلی تینوں گیندوں پر چھکے لگا کر میچ کا فیصلہ کر دیا۔ یعنی حسن علی کا ایک کیچ چھوڑنا پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل سے محروم کر گیا۔

گو کہ حسن علی میں وہ پہلے جیسا دم خم اب نظر نہیں آتا لیکن وہ اب بھی بہت اچھے باؤلر ہیں۔ انہیں تنقید سے حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے بلکہ اس سے تحریک پا کر مزید آگے کی جانب قدم بڑھانے چاہئیں۔ اگر رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ان کا انتخاب ہوتا ہے تو ان کے پاس ماضي کی غلطیوں کو سدھارنے کا بہترین موقع ہوگا۔ کیا پتہ کہ ایک مرتبہ پھر کسی ناک آؤٹ مقابلے میں پاکستان اور آسٹریلیا ٹکرا جائیں اور حسن علی ۔۔۔۔۔۔؟