[ریکارڈز] ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا ہدف

0 270

یہ "نیا انگلینڈ" ہے جناب! حال ہی میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن نیوزی لینڈ کو کلین سوئپ کرنے والا انگلینڈ۔ اِس سیریز میں انگلینڈ نے  تینوں میچز میں کامیابی سے ہدف کا تعاقب کیا۔ پہلے ٹیسٹ میں 296، دوسرے میں 299 اور تیسرے میں 277 رنز کا۔ لیکن بھارت کے خلاف برمنگھم میں اسے کہیں بڑا امتحان درپیش تھا۔ سیریز بچانے کے لیے 378 رنز کا ہدف درکار تھا اور پھر آخری روز یہ ہمالیہ بھی سر ہوا!

جو روٹ اور جونی بیئرسٹو کی عمدہ بلے بازی نے انگلینڈ کو صرف تین وکٹوں کے نقصان پر ہی ہدف تک پہنچا دیا۔ اس تاریخی 'رن چَیز' کے دوران کئی ریکارڈز قائم ہوئے۔ مثلاً 378 رنز انگلینڈ کا کامیابی سے حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف بنا۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ انگلینڈ نے 359 رنز کا ہدف حاصل کر کے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 2019ء میں آسٹریلیا کے خلاف ہیڈنگلی میں ایک یادگار میچ کھیلا گیا تھا، جس میں انگلینڈ نے آخری گولی اور آخری سپاہی کی مدد سے صرف ایک وکٹ سے میچ جیتا تھا۔ کیا یادگار مقابلہ تھا وہ بھی! اس میچ میں وہ سب کچھ تھا جو 2000ء کے پاک-ویسٹ انڈیز اینٹیگا ٹیسٹ میں تھا۔ ناقابلِ یقین بیٹنگ، بہترین باؤلنگ، بد ترین فیلڈنگ اور امپائروں کی بھیانک کارکردگی، سب کچھ!

اِس سے پہلے کرکٹ کی طویل تاریخ میں انگلینڈ صرف تین مرتبہ 300 یا اس سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کر پایا تھا۔ یعنی آج تک کُل پانچ ہی ایسے میچز ہیں جس میں انگلینڈ نے یہ سنگِ میل عبور کیا ہے۔  

ٹیسٹ: انگلینڈ کے حاصل کردہ سب سے بڑے اہداف

فاتحہدفبمقابلہبمقامبتاریخ
انگلینڈ378 بھارتبرمنگھمجولائی 2022ء
انگلینڈ359 آسٹریلیالیڈزاگست 2019ء
انگلینڈ332 آسٹریلیامیلبرندسمبر 1928ء
انگلینڈ315 آسٹریلیالیڈزاگست 2001ء
انگلینڈ305 نیوزی لینڈکرائسٹ چرچفروری 1997ء

دوسری جانب بھارت کو پہلی بار 378 رنز جتنا بڑا ہدف دینے کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یعنی یہ ٹیم انڈیا کے خلاف حاصل کیا گیا سب سے بڑا 'رن چَیز' بھی ہے۔

اس سے پہلے یہ ریکارڈ 1977ء کے پرتھ ٹیسٹ کو حاصل تھا، جس میں آسٹریلیا نے 339 رنز کا ٹارگٹ پورا کیا تھا۔ یہ بھی ایک سنسنی خیز میچ تھا، جس میں آسٹریلیا نے صرف دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اگر ہم ٹیسٹ کرکٹ میں حاصل کردہ سب سے بڑے اہداف پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ انگلینڈ-بھارت ٹیسٹ آٹھویں نمبر پر نظر آتا ہے۔ سب سے اوپر ویسٹ انڈیز ہے جس نے 2003ء میں آسٹریلیا کے خلاف اینٹیگا میں ایک معجزہ کر دیا تھا۔ اُس زمانے میں جب آسٹریلیا اپنے عروج پر تھا، ویسٹ انڈیز نے 418 رنز کا  ہدف حاصل کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

ٹیسٹ میں مزید تین ایسے مواقع آئے ہیں جن میں کوئی ٹیم 400 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہو۔ ایک جنوبی افریقہ، جس نے 2008ء میں آسٹریلیا ہی کے خلاف 414 رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔ پھر آسٹریلیا، جس نے 1948ء میں انگلینڈ کے خلاف 404 رنز  بنا کر میچ جیتا تھا۔ تیسرا بھارت، جو خود بھی ایک مرتبہ 403 رنز کا ہدف حاصل کر چکا ہے۔ یہ 1976ء میں ویسٹ انڈیز  کے خلاف پورٹ آف اسپین تھا، جس میں بھارت نے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹیسٹ تاریخ میں کامیابی سے حاصل کردہ سب سے بڑے اہداف

فاتحہدفمارجنبمقابلہبمقامبتاریخ
ویسٹ انڈیز418‏3 وکٹ آسٹریلیاسینٹ جانزمئی 2003ء
جنوبی افریقہ414‏6 وکٹ آسٹریلیاپرتھدسمبر 2008ء
آسٹریلیا404‏7 وکٹ انگلینڈلیڈزجولائی 1948ء
بھارت403‏6 وکٹ ویسٹ انڈیزپورٹ آف اسپیناپریل 1976ء
ویسٹ انڈیز395‏3 وکٹ بنگلہ دیشچٹاگانگفروری 2021ء
سری لنکا388‏4 وکٹ زمبابوےکولمبوجولائی 2017ء
بھارت387‏6 وکٹ انگلینڈچنئیدسمبر 2008ء
انگلینڈ378‏7 وکٹ بھارتبرمنگھمجولائی 2022ء
پاکستان377‏7 وکٹ سری لنکاپالی کیلےجولائی 2015ء
آسٹریلیا369‏4 وکٹ پاکستانہوبارٹنومبر 1999ء

اس فہرست میں ہمیں پاکستان بھی نظر آتا ہے، جس نے 2015ء کے دورۂ سری لنکا میں پالی کیلے ٹیسٹ 377 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے جیتا تھا، وہ بھی پوری سات وکٹوں سے۔ ایک مقابلہ جو یونس خان کی ناٹ آؤٹ 177 رنز کی اننگز کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔