گال ٹیسٹ، ریکارڈز کی نظر سے

0 468

سری لنکا نے آسٹریلیا کو اننگز اور 39 رنز سے شکست دے کر سب کو حیران اور پاکستان کو پریشان کر دیا ہے۔ دنیش چندیمل کی تاریخی ڈبل سنچری اور پہلی اننگز میں 554 رنز کے ریکارڈز اس فتح میں سب سے نمایاں رہے۔ یعنی اس میچ میں جہاں انفرادی طور پر بھی کسی بھی سری لنکن بلے باز نے آسٹریلیا کے خلاف طویل ترین اننگز کھیلی، وہیں سب سے بڑا ٹوٹل بھی بنا۔

چندیمل نے 326 گیندوں پر 206 رنز بنائے اور میدان سے ناٹ آؤٹ واپس آئے۔ یہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی سری لنکن بلے باز کی سب سے بڑی اننگز ہے۔ جی ہاں!  آج سے پہلے تاریخ میں کبھی کوئی لنکن بیٹسمین ڈبل سنچری نہیں بنا پایا تھا۔ 2007ء کے ہوبارٹ ٹیسٹ میں کمار سنگارا کے 192 رنز آج تک آسٹریلیا کے خلاف سب سے بڑی اننگز تھے۔

آسٹریلیا کے خلاف سری لنکن بلے بازوں کی طویل ترین ٹیسٹ اننگز

رنزگیندیںچوکےچھکےبمقابلہبمقامبتاریخ
دنیش چندیمل206*326165 آسٹریلیاگالجولائی 2022ء
کمار سنگاکارا192282271 آسٹریلیاہوبارٹنومبر 2007ء
کوسال مینڈس176254211 آسٹریلیاپالی کیلےجولائی 2016ء
ارنڈوا ڈی سلوا167361171 آسٹریلیابرسبیندسمبر 1989ء
تلکارتنے دلشان147273210 آسٹریلیاہوبارٹدسمبر 2012ء

گال میں کپتان دیموتھ کرونارتنے کے 86، کوسال مینڈس کے 85، کمنڈو مینڈس کے 61 اور اینجلو میتھیوز کے 52 رنز نے بھی 554 رنز کے ریکارڈ ٹوٹل میں اپنا حصہ ڈالا اور سری لنکا کو پہلی اننگز میں 190 رنز کی واضح برتری دلائی۔

اس برتری نے سری لنکا کو میچ پر ایسا غلبہ عطا کیا کہ آسٹریلیا کو ہارتے ہی بنی۔ دوسری اننگز میں وہ صرف 151 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور یوں ایک اننگز اور 39 رنز کی بھاری شکست کھائی۔ بلکہ سیریز بھی ‏1-1 سے برابر ہو گئی۔ یعنی وہ کام جو کچھ عرصہ پہلے پاکستان نہیں کر پایا تھا، سری لنکا نے کر دکھایا۔

آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا کے سب سے بڑے ٹیسٹ ٹوٹلز

اسکوراوورزنتیجہبمقابلہبمقامبتاریخ
سری لنکا 554181.0فتح آسٹریلیاگالجولائی 2022ء
سری لنکا 547/8 ڈ170.0شکست آسٹریلیاکولمبواگست 1992ء
سری لنکا 473174.0بے نتیجہ آسٹریلیاکولمبوستمبر 2011ء
سری لنکا 455144.4بے نتیجہ آسٹریلیاکیرنزجولائی 2004ء
سری لنکا 418166.3بے نتیجہ آسٹریلیابرسبیندسمبر 1989ء

اس میچ سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا کا سب سے بڑا ٹوٹل تھا 547 رنز۔ یہ آج سے تقریباً 30 سال پہلے اگست 1992ء میں کھیلا گیا کولمبو ٹیسٹ تھا۔ پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے 256 رنز کے جواب میں سری لنکا نے اسانکا گروسنہا، کپتان ارجنا راناتنگا اور آخر میں رمیش کالووِتھارنا کی شاندار سنچریوں کی مدد سے 547 رنز بنا ڈالے۔ حیرت بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پہلی اننگز میں تقریباً 300 رنز کی برتری حاصل کرنے کے باوجود سری لنکا یہ میچ ہار گیا تھا۔ لیکن کیسے؟

دراصل آسٹریلیا کے تقریباً سارے ہی بلے بازوں نے دوسری اننگز میں خوب بیٹنگ کی۔ ڈیوڈ بون، ڈین جونز، مارک وا اور گریگ میتھیوز سب نے نصف سنچریاں بنائیں۔ پھر مارک ٹیلر اور کریگ میکڈرمٹ کی 40 پلس اننگز بھی شامل ہوئیں اور آسٹریلیا 471 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ سری لنکا کو پہلی اننگز کی بڑی برتری کی وجہ سے ہدف ملا صرف 181 کا۔ تعاقب میں 127 رنز تک اُس کے صرف دو ہی کھلاڑی آؤٹ تھے۔ بس جیتنے ہی والا تھا کہ آسٹریلیا کی باؤلنگ کے ہتھے چڑھ گیا۔ سری لنکا کا مڈل اور لوئر آرڈر تو مکمل طور پر ڈھیر ہو گیا اور صرف 14 رنز سے یہ ٹیسٹ ہار گیا۔ اسے لنکن تاریخ کی سب سے مایوس کن شکست کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔

آسٹریلیا کا دورۂ سری لنکا 1992ء

پہلا ٹیسٹ

سنہالیز اسپورٹس کمپلیکس، کولمبو، سری لنکا

‏17 تا 22 اگست 1992ء

آسٹریلیا (پہلی اننگز)256
این ہیلی66141چندیکا ہتھوراسنگھا4-6622
مارک ٹیلر3971چمپاکا رامانائیکے3-5120
سری لنکا (پہلی اننگز)547-8ڈ
اسانکا گروسنہا137399گریگ میتھیوز3-9338
رمیش کالووتھارنا132*158مارک واہ2-7717
آسٹریلیا (دوسری اننگز)471
ڈیوڈ بون68149ڈون انوراسری4-12735
گریگ میتھیوز64129چمپاکا رامانائیکے3-11337
سری لنکا (ہدف: 181)164
روشن مہاناما3973گریگ میتھیوز4-7620
چندیکا ہتھوراسنگھا3663شین وارن3-115.1

اب چلتے ہیں سری لنکا کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹوٹلز کی طرف۔ ٹیسٹ میں سری لنکا کا سب سے زیادہ اسکور 952 رنز ہے۔ جی بالکل! یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

اگست 1997ء میں کولمبو کے راناسنگھے پریماداسا اسٹیڈیم پر سری لنکا نے بھارت کے خلاف صرف چھ وکٹوں پر یہ 952 رنز بنائے تھے۔ ان میں سنتھ جے سوریا کی ٹرپل سنچری، روشن مہاناما کی ڈبل سنچری اور ارونڈا ڈی سلوا کی سنچری بھی شامل تھی۔ اس میچ نے کئی ریکارڈز توڑے، کئی بنائے، جن پر پھر کبھی بات کریں گے۔

ویسے پانچ ایسے مواقع بھی ہیں، جن میں سری لنکا 700 سے زیادہ رنز بنا چکا ہے۔ خود بھارت کے خلاف 2009ء میں احمد آباد ٹیسٹ میں 760 رنز بھی بنائے۔

ٹیسٹ میں سری لنکا کے سب سے زیادہ ٹوٹلز

رنزاوورزنتیجہبمقابلہبمقامبتاریخ
سری لنکا 952-6ڈ271.0بے نتیجہ بھارتکولمبواگست 1997ء
سری لنکا 760-7ڈ202.4بے نتیجہ بھارتاحمد آبادنومبر 2009ء
سری لنکا 756-5ڈ185.1جیت جنوبی افریقہکولمبوجولائی 2006ء
سری لنکا 730-6ڈ187.5جیت بنگلہ دیشمیرپورجنوری 2014ء
سری لنکا 713-3ڈ165.3جیت زمبابوےبلاوایومئی 2004ء
سری لنکا 713-9ڈ199.3بے نتیجہ بنگلہ دیشچٹوگرامجنوری 2018ء

پاکستان کے خلاف سری لنکا کا سب سے بڑا ٹوٹل 2009ء کے کراچی ٹیسٹ میں بنایا تھا۔ مہیلا جے وردنے اور تھیلان سماراویرا نے ڈبل سنچریاں بنائیں اور سری لنکا پہنچا 644 رنز پر۔ البتہ یونس خان کی ٹرپل سنچری نے پاکستان میچ بچانے میں کامیاب ضرور ہو گیا۔

اسی سیریز میں سری لنکا نے لاہور میں بھی 600 سے زیادہ رنز بنائے تھے۔ لیکن یہ "منحوس" ٹیسٹ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ ہی کو لے ڈوبا۔ سری لنکن اسکواڈ اسی لاہور ٹیسٹ میں تیسرے دن کا کھیل کھیلنے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں دہشت گردوں نے اُن پر حملہ کر دیا۔ سکیورٹی پر مامور کئی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے لیکن ان کا خون بھی پاکستان میں کرکٹ کو بچا نہیں پایا۔ تقریباً 10 سال تک ملک کے کسی میدان پر ٹیسٹ کرکٹ نہیں ہو پائی۔