بریسویل کی یادگار سنچری، آئرلینڈ یقینی جیت سے محروم رہ گیا

0 451

زیادہ دن نہیں گزرے، آئرلینڈ بھارت کے خلاف جیت کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔ وہاں ناتجربہ کاری مار گئی اور یہاں مائیکل بریسویل کی غیر معمولی اننگز، جس نے نیوزی لینڈ کو آخری اوور میں صرف ایک وکٹ سے کامیابی بخشی۔

نیوزی لینڈ کو آخری 44 گیندوں پر 83 رنز کی ضرورت تھی اور اُس کی صرف دو وکٹیں باقی رہ گئی تھیں۔ میچ مکمل طور پر آئرلینڈ کی گرفت میں تھا، جب بریسویل نے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، یہاں تک کہ آخری اوور میں درکار 20 رنز بنا کر میچ کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے صرف 82 گیندوں پر 127 رنز کی اننگز کھیلی، جس کی بدولت نیوزی لینڈ 301 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ یوں آئرلینڈ کا دل ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گیا۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ آئرلینڈ 2022ء - پہلا ون ڈے انٹرنیشنل

‏10 جولائی 2022ء

دی ولیج، ملاہائیڈ، ڈبلن، آئرلینڈ

نیوزی لینڈ 1 وکٹ سے جیت گیا

آئرلینڈ300-9
ہیری ٹیکٹر113117
کرٹس کیمفر4347
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
لوکی فرگوسن101442
ایش سوڈھی100622

نیوزی لینڈ 🏆305-9
مائیکل بریسویل127*82
مارٹن گپٹل5161
آئرلینڈ باؤلنگامرو
کرٹس کیمفر100493
مارک اڈیئر71432

ملاہائیڈ میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں آئرلینڈ نے نیوزی لینڈ کی دعوت پر پہلے بلے بازی کی۔ آغاز کچھ اچھا نہیں ملا۔ صرف 26 رنز پر دونوں اوپنرز آؤٹ ہو چکے تھے، جن میں تجربہ کار پال اسٹرلنگ بھی شامل تھے۔ لوکی فرگوسن کی ایک خوبصورت گیند نے اسٹرلنگ کو صرف 5 رنز پر کلین بولڈ کر دیا۔

لیکن بعد میں آئرش بلے بازوں نے کافی اچھی کارکردگی دکھائی۔ بالخصوص ہیری ٹیکٹر نے بہت عمدہ بیٹنگ کی۔ انہوں نے صرف 117 گیندوں پر 113 رنز بنائے۔ یہ ٹیکٹر کے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کی پہلی سنچری تھی جس کا جشن بھی انہوں نے خوب منایا۔

‏14 چوکوں اور تین چھکوں سے مزین اس اننگز کا بھرپور ساتھ دیا کرٹس کیمفر کے 43 رنز نے۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ پر 94 رنز کا اضافہ کیا۔

بعد ازاں جارج ڈوکریل اور سیمی سنگھ نے قسمت کے بل بوتے پر اسکور کو 300 تک پہنچایا۔ انہوں نے اپنے خلاف جانے والے دو فیصلوں پر کامیاب ریویو بھی لیے۔ دونوں کی صرف 28 گیندوں پر 44 رنز کی شراکت داری کی بدولت آئرلینڈ بالآخر 300 تک پہنچ گیا۔

جواب میں نیوزی لینڈ کا آغاز بھی کچھ خاص نہیں تھا۔ 120 رنز پر ہی آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔ کرٹس کیمفر کی باؤلنگ تو دیکھنے کے قابل تھی۔ انہوں نے ٹام لیتھم اور ہنری نکلس کے بعد مارٹن گپٹل کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی، جو 51 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بیٹسمین تھے۔ گپٹل کو پھینکی گئی یارکر تو واقعی قابلِ دید تھی۔

یہاں پر مائیکل بریسویل ایک اینڈ سے ڈٹ گئے، ایسا کہ آخر تک انہیں کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہٹا پایا۔ گلین فلپس 38 بنا کر آؤٹ ہوئے تو ایش سوڈھی نے کسی حد تک بریسویل کا ساتھ دیا۔ دونوں نے 66 گیندوں پر 61 رنز کی شراکت داری کی اور نیوزی لینڈ کے امکانات زندہ رکھے۔ لیکن سوڈھی کے رن آؤٹ سے نیوزی لینڈ پھر مشکل میں پڑ گیا۔ میٹ ہنری صفر پر آؤٹ ہو ئے تو آئرلینڈ جیت سے صرف دو وکٹ کے فاصلے پر آ گیا۔

اب نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 84 رنز درکار تھے اور صرف 44 گیندیں اور دو بلے باز ہی باقی بچے تھے۔ یہاں نویں وکٹ پر 64 رنز کی شراکت داری ہوئی، جس میں لوکی فرگوسن کا حصہ صرف 8 رنز کا تھا، باقی سب مائیکل بریسویل کا کمال تھا۔

آخری دو اوورز میں 24 رنز درکار تھے جب مارک اڈیئر نے ایک بہترین اوور پھینکا۔ انہوں نے اس اوور میں صرف چار رنز دیے اور آخری گیند پر وکٹ بھی حاصل کر لی۔ یعنی نیوزی لینڈ کے لیے آخری اوور میں بچے 20 رنز اور وکٹ بھی صرف ایک ہی رہ گئی تھی۔

یہاں پر بریسویل نے اپنا جادو دکھایا۔ وہ کریگ ینگ کی کسی گیند کو خاطر میں نہیں لائے۔ چاہے وہ آف اسٹمپ سے باہر پھینکی گئی یارکر ہی کیوں نہ ہو۔ ہر گیند کو باؤنڈری کے لیے روانہ کیا۔ پہلی دونوں گیندوں پر چوکے، پھر چھکا، چوتھی گیند پر پھر چوکا اور پانچویں گیند پر فاتحانہ چھکا، میچ ہی ختم! تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ون ڈے انٹرنیشنل میں کوئی ٹیم آخری اوور میں 20 رنز بنا کر میچ جیت گئی ہو۔

‏127 رنز کی شاندار اننگز پر بریسویل کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ یہ ان کے مختصر ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری تھی اور کیا یادگار سنچری تھی!

البتہ آئرلینڈ کے تماشائیوں کا افسوس رہے گا کہ جنہوں نے میچ کے بیشتر حصے میں خوب جشن منایا۔ یہاں تک کہ آخری لمحات میں جیت کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن بریسویل کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ خیر، ابھی سیریز کے دو میچز باقی ہیں، یعنی آئرلینڈ کے پاس سیریز میں واپسی کا موقع ہے۔