آج کرکٹ تاریخ کا بہترین میچ یا بد ترین دن؟

0 717

اسے ورلڈ کپ تاریخ کا بہترین میچ کہیں یا بد ترین دن؟ جو بھی کہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ میں ورلڈ کپ 2019ء کے فائنل جیسے بہت کم میچز ہوں گے۔ ایک ایسا مقابلہ جس میں کوئی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا اور در حقیقت ہارا بھی کوئی نہیں، لیکن فاتح انگلینڈ کو قرار دیا گیا۔

یہ 14 جولائی یعنی آج ہی کا دن تھا جب لارڈز میں ورلڈ کپ 2019ء کا فائنل کھیلا گیا تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ فیصلہ "باؤنڈری کاؤنٹ" پر ہوگا یعنی جس ٹیم نے زیادہ چوکے، چھکے مارے ہوں گے، اسے فاتحِ عالم قرار دیا جائے گا۔ لیکن ایسا کیسے ہوا؟ دراصل یہ فائنل نہ صرف مقررہ 50 اوورز میں بلکہ سپر اوور میں بھی فیصلہ کُن ثابت نہ ہو سکا اور دونوں مرتبہ ٹائی ہونے کی وجہ سے فیصلہ 'باؤنڈری کاؤنٹ' پر کرنا پڑا اور انگلینڈ چیمپیئن بن گیا۔

ورلڈ کپ 2019ء - فائنل

انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏14 جولائی 2019ء

لارڈز، لندن، برطانیہ

مقابلہ ٹائی (اسکور سپر اوور میں بھی برابر)

انگلینڈ زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر فاتح قرار پایا

پلیئر آف دی میچ: بین اسٹوکس

نیوزی لینڈ241-8
ہنری نکلس5577
ٹام لیتھم4756
انگلینڈ باؤلنگامرو
کرس ووکس90373
لیام پلنکٹ100423

انگلینڈ 241
بین اسٹوکس84*98
جوس بٹلر5960
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
جمی نیشم70433
لوکی فرگوسن100503

لیکن اس فیصلے تک پہنچنے سے پہلے میچ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ 242 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ ابتدا میں مشکلات سے دوچار نظر آیا۔ 100 رنز سے پہلے پہلے اس کی چار وکٹیں گر چکی تھیں۔ لیکن پھر بین اسٹوکس اور جو س بٹلر نے میدان سنبھال لیا۔ دونوں نے 110 رنز کا اضافہ کیا اور معاملے کو 32 گیندوں پر 46 رنز تک لے آئے۔ میدان صاف تھا، ہدف سامنے تھا لیکن یہاں کہانی میں آیا پہلا 'ٹوئسٹ'۔ بٹلر کی 60 گیندوں پر 59 رنز کی اننگز بہت ہی نازک مرحلے پر تمام ہوئی اور ساتھ ہی ایک اینڈ غیر محفوظ ہو گیا۔

وکٹوں کی گنگا بہنے لگی، جس میں خود اسٹوکس بھی بہہ جاتے، اگر ٹرینٹ بولٹ غفلت نہ کرتے۔ جب انگلینڈ کو 9 گیندوں پر 22 رنز کی ضرورت تھی تو اسٹوکس نے ایک اونچا شاٹ کھیل دیا، کیونکہ یہ حالات کا تقاضہ تھا۔ لانگ آن پر کھڑے ٹرینٹ بولٹ نے اسے کیچ بھی کر لیا، لیکن اپنے پیچھے موجود باؤنڈری لائن کا خیال نہیں رکھ پائے اور ان کا بایاں پیر باؤنڈری پر پڑ گیا۔ یوں ذرا سی غفلت نے نہ صرف میچ کا نقشہ بلکہ تاریخ کا دھارا ہی پلٹ دیا۔

آخری اوور میں، جس میں انگلینڈ کو 15 رنز کی ضرورت تھی، کہانی میں ایک اور موڑ آیا۔ اسٹوکس دیوانہ وار بلّے گھما رہے تھے اور اندھا دھند بھاگ رہے تھے۔ ایسے ہی ایک رن کو دو بنانے کی کوشش میں وہ رن آؤٹ ہونے والے تھے کہ فیلڈر کا پھینکا گیا تھرو اُن کے بلّے سے ٹکرا گیا۔ گیند دوسری سمت میں روانہ ہو گئی اور باؤنڈری لائن ہی پار کر گئی۔

اسے کرکٹ کا 'ہینڈ آف گاڈ مومنٹ' (Hand of God moment) کہا جا سکتا ہے۔ یہ 1986ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل تھا، ارجنٹینا اور انگلینڈ مقابل تھے جب 51 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے عظیم فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا نے ہاتھ کا استعمال کرتے ہوئے پہلا گول داغ دیا۔ ریفریز اِس غیر قانونی حرکت کو دیکھ نہیں پائے، اس لیے انگلینڈ کا تمام تر احتجاج مسترد ہوا اور اس گول کو تسلیم کر لیا گیا۔ میچ کے بعد جب صحافیوں نے میراڈونا سے پوچھا کہ کیا اس گول میں آپ کا ہاتھ شامل تھا؟ انہوں نے کہا کہ "خدائی ہاتھ" کارفرما تھا۔

تب انگلینڈ ریسیونگ اینڈ پر تھا، لیکن تقریباً 33 سال بعد کرکٹ کے میدان پر، مفت کے یہ چار رنز انگلینڈ کے لیے "خدائی مدد" تھے۔ اسی لیے کسی نے اسے کرکٹ کا "ہینڈ آف گاڈ مومنٹ" کہا تو کسی نے "بیٹ آف گاڈ" (Bat of God) قرار دیا۔

بہرحال، مفت کے ان 4 رنز سے انگلینڈ کا کام مزید آسان ہو گیا۔ وہ آخری گیند پر درکار دو رنز بنا تو نہیں پایا، لیکن شکست سے ضرور بچ گیا۔ یہ میچ آخری گیند پر مارک وُڈ کے رن آؤٹ کی وجہ سے ٹائی ہوا۔

پرانا زمانہ ہوتا تو نیوزی لینڈ وہیں فاتح قرار پاتا کیونکہ تب ٹائی میچز میں وکٹیں گنی جاتی تھیں، جس کی کم وکٹیں گری ہوتیں وہ فاتح قرار پاتا۔ لیکن یہ جدید زمانہ ہے، اب سپر اوور ہوتا ہے!

یہاں انگلینڈ نے ایک مرتبہ پھر اسٹوکس اور بٹلر کو بھیجا۔ ٹرینٹ بولٹ نے باؤلنگ تو بہت اچھی کی، لیکن دو باؤنڈریز پھر بھی پڑ گئیں اور انگلینڈ 15 رنز بنا گیا۔ یعنی نیوزی لینڈ کو پہلی بار عالمی چیمپیئن بننے کے لیے 16 رنز کا ہدف ملا۔

جوفرا آرچر کی پہلی گیند وائیڈ قرار پائی، دوسری پر دو رنز بنے اور تیسری پر جمی نیشم نے ایک کرارا چھکا لگا دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انگلینڈ ہار جائے گا کیونکہ نیوزی لینڈ کو چار گیندوں پر صرف 7 رنز درکار تھے۔ اگلی دونوں گیندوں پر دو، دو رنز بنے اور پانچویں گیند پر صرف ایک یعنی معاملہ آخری گیند تک آ گیا، جہاں نیوزی لینڈ کو دو رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں مارٹن گپٹل فاتحانہ رن لینے کی کوشش میں ناکام ہوئے اور ان کے رن آؤٹ کے ساتھ سپر اوور بھی ٹائی ہو گیا۔

یہاں "قانون" کے مطابق انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا کیونکہ اس کی باؤنڈریز نیوزی لینڈ سے زیادہ تھیں۔ یوں تین مرتبہ فائنل کھیلنے کے باوجود کبھی ورلڈ کپ نہ جیتنے والا انگلینڈ بالآخر پہلی بار عالمی چیمپیئن بن گیا۔ جبکہ نیوزی لینڈ مسلسل دوسری بار فائنل میں پہنچ کر ہی صرف دل ہی جیت پایا۔

یقیناً یہ فیصلہ متنازع تھا لیکن یہ قانون پہلے سے طے شدہ تھا اور نیوزی لینڈ کے علم میں بھی پہلے سے تھا کہ اگر سپر اوور بھی ٹائی ہو گیا تو باؤنڈریز ہی فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ بہرحال، اس میچ پر چاہے کچھ بھی کہا جائے، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ تاریخ کے بہترین ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں سے ایک تھا۔