بابر اعظم کی چند یادگار ٹیسٹ اننگز

0 349

سری لنکا نے آسٹریلیا کو زیر کرنے کے لیے جو چال چلی تھی، وہی جال اُس نے پاکستان کے لیے بھی بچھایا ہے اور پاکستان کے بیشتر بلے باز اس جال میں پھنسے بھی ہیں۔ سری لنکا کے 222 رنز کے جوا ب میں پاکستان کی اننگز کا حال یہ تھا کہ کوئی بلے باز 20 کے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ پایا لیکن کپتان بابر اعظم نے، ہمیشہ کی طرح، ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ کس کلاس کے بیٹسمین ہیں۔

پاکستان کا دورۂ سری لنکا 2022ء- پہلا ٹیسٹ

پاکستان اور سری لنکا کی پہلی اننگز

‏‏16 تا 20 جولائی 2022ء

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم، گال، سری لنکا

سری لنکا (پہلی اننگز) 222
دنیش چندیمل76115شاہین آفریدی4-5814.1
مہیش تھیکشانا3865مچل سویپسن2-2312
پاکستان (پہلی اننگز) 218
بابر اعظم119244پرباتھ جے سوریا5-8239
محمد رضوان1935رمیش مینڈس2-1813

گال ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم اس وقت میدان اترے جب پاکستان کا اسکور صرف 21 رنز پر دو کھلاڑی آؤٹ تھا۔ دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ رک ہی نہیں رہا تھا لیکن بابر ایک اینڈ سے چٹان کی طرح جم گئے۔ 244 گیندوں پر دو چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 119 رنز بنائے اور سب سے آخر میں آؤٹ ہوئے۔ اُس وقت جب پاکستان کا اسکور 218 رنز تک پہنچ گیا۔

پاکستان صرف 85 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا چکا تھا، یعنی تمام بلے باز اور آل راؤنڈر پویلین واپس آ چکے تھے، لیکن بابر اعظم کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً سری لنکا کے برابر پہنچا دیا۔ سب سے بڑی شراکت داری آخری وکٹ پر ہوئی، جب نسیم شاہ کے 52 گیندوں پر پانچ رنز نے کپتان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے اسکور کو 148 سے 218 رنز تک پہنچایا۔

اس دوران بابر اعظم نے اپنی ساتویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی جو بلاشبہ ان کے کیریئر کی یادگار ترین اننگز میں سے ایک ہے۔ ایک انتہائی مشکل وکٹ پر، ناسازگار حالات میں، بغیر کسی بیٹسمین کے ساتھ کے، بابر نے پاکستان کو بچا لیا۔

لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بابر نے ایسا کیا ہو۔ آئیے آپ کو بابر اعظم کے ٹیسٹ کیریئر کی چند یادگار اننگز کے بارے میں بتاتے ہیں۔

بمقابلہ آسٹریلیا، تقریباً ڈبل سنچری

یہ آسٹریلیا کے تاریخی دورۂ پاکستان کا دوسرا مقابلہ تھا۔ پاکستان پہلی اننگز میں 408 رنز کے خسارے میں گیا، جب آسٹریلیا کے 556 کے جواب میں قومی ٹیم صرف 148 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا نے 506 رنز کا ہدف دیا تو لگ رہا تھا پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کھائے گا کیونکہ صرف 21 رنز پر دو بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے، جب بابر اعظم نے میدان میں قدم رکھے۔ پھر ایسا کھیل دکھایا کہ آسٹریلیا والے بھی حیران رہ گئے۔ 425 گیندیں، 21 چوکے، ایک چھکا اور 196 رنز۔ بد قسمتی سے وہ اپنی پہلی ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے لیکن یہ اننگز کئی ڈبل بلکہ ٹرپل سنچریوں سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔ پاکستان 506 رنز کے پیچھے 443 رنز تک پہنچ گیا۔ اگر بابر آؤٹ نہ ہوتے تو شاید جیت ہی جاتا اور سب سے بڑے ہدف کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیتا۔ بہرحال، ان کی اننگز کی بدولت ایک یقینی شکست سے تو بچ ہی گیا۔ کئی ماہرین نے اسے پاکستان کا "Great Escape" قرار دیا۔

برسبین میں بابر

آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں سنچری بنانا ہر بیٹسمین کا خواب ہوتا ہے۔ بابر نے نومبر 2019ء میں آسٹریلیا کے خلاف برسبین ٹیسٹ میں اس خواب کی تعبیر پائی۔ یہ ایک مایوس کن دورہ تھا، پاکستان دونوں ٹیسٹ میچز بُری طرح ہارا۔ سیریز کی واحد نمایاں جھلک تھی بابر اعظم کی بیٹنگ۔ برسبین میں پہلی اننگز میں 340 رنز کا خسارہ سہنے کے بعد جب پاکستان کی آدھی ٹیم صرف 94 رنز پر آؤٹ ہو چکی تھی، تب بابر اعظم نے ایک شاہکار اننگز کھیلی۔ انہوں نے 173 گیندوں پر 104 رنز بنائے اور رضوان کے ساتھ مل کر میچ بچانے کی آخری سنجیدہ کوشش کی۔ وہ کامیاب تو نہیں ہو پائے، لیکن برسبین میں 104 اور اس کے بعد ایڈیلیڈ میں 97 رنز کی اننگز انہیں مستقبل کا ایک بڑا بلے باز ضرورت ثابت کر گئیں۔

پاکستان میں پہلی سنچری

دورۂ آسٹریلیا کے بعد پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ آیا۔ 10 سال بعد پہلی بار ملک میں کوئی ٹیسٹ کھیلا گیا۔ سری لنکا نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا، جس کا پہلا مقابلہ راولپنڈی میں کھیلا گیا۔ پاکستانیوں نے پہلی بار بابر اعظم کو اپنی سرزمین پر کھیلتے دیکھا اور انہوں نے آتے ہی اپنا جلوہ بھی دکھا دیا۔ بارش سے متاثرہ یہ مقابلہ نتیجہ خیز تو ثابت نہیں ہوا، لیکن بابر اعظم کی ناٹ آؤٹ سنچری نے پاکستانیوں کے دل ضرور خوش کیے۔ بابر نے پاکستان کی واحد اننگز میں صرف 128 گیندوں پر 102 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

فاتحِ کراچی

سری لنکا کے تاریخی دورۂ پاکستان کا دوسرا ٹیسٹ کراچی میں ہوا، جہاں پاکستان کی جیت میں بابر اعظم کا بھی کردار رہا۔ پہلی اننگز میں صرف 191 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے باوجود پاکستان نے دوسری باری میں رنز کا انبار جمع کر لیا۔ ٹاپ آرڈر کے چاروں بلے بازوں نے سنچریاں بنائیں۔ شان مسعود کے 135، عابد علی کے 174، کپتان اظہر علی کے 118 اور پھر بابر اعظم کے ناٹ آؤٹ 100 رنز نے پاکستان کو 555 رنز تک پہنچا دیا۔ بعد ازاں نسیم شاہ کی تباہ کن باؤلنگ نے پاکستان کو 263 رنز کی نمایاں کامیابی عطا کی اور ساتھ ہی سیریز بھی ‏1-0 سے پاکستان کے نام رہی۔