پنت اور پانڈیا چھا گئے، بھارت ون ڈے ٹرافی بھی لے اُڑا

0 893

سیریز کا فیصلہ کُن مقابلہ ہو اور 260 رنز کے تعاقب میں 72 پر ہی چار وکٹیں گر جائیں، اور وکٹیں بھی شیکھر دھاون، روہت شرما، ویراٹ کوہلی اور سوریا کمار یادَو جیسے بلے بازوں کی، تو کون ہوگا جو دباؤ میں نہیں آئے گا؟ رشبھ پنت اور ہاردِک پانڈیا تو بالکل نہیں آئے!

پنت نے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کی پہلی سنچری بنائی اور پانڈیا کیریئر کی بہترین باؤلنگ کے بعد 71 رنز کی شاندار اننگز بھی کھیل گئے۔  یوں بھارت ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے سیریز بھی جیت لی اور ثابت کیا کہ محدود اوورز میں اس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔

بھارت کا دورۂ انگلینڈ 2022ء - تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل

انگلینڈ بمقابلہ بھارت

‏17 جولائی 2022ء

اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر، انگلینڈ

بھارت 5 وکٹوں سے کامیاب

بھارت سیریز ‏2-1 سے جیت گیا

انگلینڈ 259
جوس بٹلر6080
معین علی3444
بھارت باؤلنگامرو
ہاردک پانڈیا73244
یزویندر چہل9.50603

بھارت 🏆261-5
رشبھ پنت125113
ہاردک پانڈیا7155
انگلینڈ باؤلنگامرو
ریس ٹوپلی71353
برائیڈن کارس80451

اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں سیریز کے تیسرے و آخری ون ڈے میں پنت-پانڈیا شراکت داری نے 115 گیندوں پر 133 رنز کا اضافہ کیا اور بھارت کو سامنے نظر آتی ہوئی شکست سے بچایا۔ پانڈیا کی اننگز دیکھنے کے لائق تھی، جنہوں نے نازک صورت حال میں 55 گیندوں پر 71 رنز بنائے۔ انہی کی اننگز کی وجہ سے بھارت ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے باوجود ہدف کے تعاقب میں پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔

دوسرے اینڈ سے رشبھ پنت بھی خوب کھیلے، یہاں تک کہ کیریئر میں پہلی بار تہرے ہندسے میں داخل ہو گئے۔ وہ 113 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 125 رنز کے ساتھ میدان سے لوٹے۔ اُن کی اننگز میں دو چھکے اور 16 چوکے شامل تھے۔ ان میں سے چھ چوکے وہ تھے، جو انہوں نے اپنی اننگز کی آخری 7 گیندوں پر لگائے۔ ڈیوڈ ولی اننگز کا 42 واں اوور پھینک رہے تھے، جس کی ابتدائی پانچوں گیندوں پر پنت نے چوکے رسید کیے اور پھر اگلے اوور کی پہلی گیند پر ایک اور چوکے کے ساتھ میچ کا خاتمہ کر دیا۔

انگلینڈ نے بھارت کے قدم روکنے کے لیے آٹھ باؤلرز تک آزما لیے، لیکن ریس ٹوپلی کے سوا کوئی گیند باز خاص کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ پچھلے مقابلے کے مین آف دی میچ ٹوپلی نے دھاون، روہت اور کوہلی کی وکٹیں گرائیں، یعنی پورا ماحول بنا کر دیا لیکن باقی باؤلرز اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔

قبل ازیں، بھارت نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو کھیلنے کی دعوت دی۔ اس کی ابتدائی چار وکٹیں صرف 74 رنز پر گریں، جن میں جونی بیئرسٹو، جو روٹ، جیسن روئے اور بین اسٹوکس سب شامل تھے۔ یعنی حالات تقریباً ویسے ہی تھے جیسے بعد میں بھارت کو پیش آئے۔ یہاں کپتان جوس بٹلر نے حالات کو سنبھالا اور معین علی و دیگر کے ساتھ مل کر اسکور کو 199 تک پہنچایا۔ بٹلر نے 80 گیندوں پر 60 رنز بنائے جبکہ معین علی نے 34 اور آخر میں کریگ اوورٹن نے 32 رنز بنائے۔ آخری تین وکٹوں کے 60 رنز کی بدولت انگلینڈ ایک قابلِ ذکر اسکور 259 رنز تک پہنچ گیا لیکن بعد میں تو یہ بھی کافی ثابت نہیں ہوئے۔

بھارت کی جانب سے ہاردک پانڈیا نے باؤلنگ میں بھی اپنا جادو خوب جگایا۔ 7 اوورز میں انہوں نے صرف 24 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دوسری جانب یزویندر چہل نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ جسپریت بمراہ کے زخمی ہونے کی وجہ سے کھلائے گئے محمد سراج بھی آج خوب چلے اور اس کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں جونی بیئرسٹو کو آؤٹ کیا اور پھر جو روٹ کو بھی صفر کی ہزیمت سے دوچار کیا۔ بعد میں انہوں نے دو مرتبہ جوس بٹلر کے ہیلمٹ کو بھی نشانہ بنایا۔

اس دورے میں بھارت کو واحد مایوسی گزشتہ سال کی ٹیسٹ سیریز کے باقی ماندہ آخری مقابلے میں ہوئی۔ اِس شکست کی وجہ سے سیریز ‏2-2 سے برابر ہو گئی۔ لیکن محدود اوورز کی کرکٹ میں بھارت مکمل طور پر چھایا رہا اور ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں کے فیصلہ کن مقابلوں میں شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔

آخر میں رشبھ پنت کو میچ اور ہاردک پانڈیا کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔