گال میں تاریخ سری لنکا کے ساتھ

0 461

گال کے خوبصورت میدان پر پاک-سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن کا کھیل اختتام کو پہنچا۔ میزبان دوسری اننگز میں  9 وکٹوں پر 329 رنز بنا چکا ہے  یعنی اسے پاکستان پر 333 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ یہ لِیڈ فیصلہ کُن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ گال کے میدان کی تاریخ ہے کہ یہاں 200 رنز کا ہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان کا دورۂ سری لنکا 2022ء- پہلا ٹیسٹ

‏‏16 تا 20 جولائی 2022ء

تیسرے دن کا کھیل مکمل ہونے پر اسکور کارڈ

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم، گال، سری لنکا

سری لنکا (پہلی اننگز) 222
دنیش چندیمل76115شاہین آفریدی4-5814.1
مہیش تھیکشانا3865مچل سویپسن2-2312
پاکستان (پہلی اننگز) 218
بابر اعظم119244پرباتھ جے سوریا5-8239
محمد رضوان1935رمیش مینڈس2-1813
سری لنکا (دوسری اننگز) 329-9
دنیش چندیمل86*121محمد نواز5-8828
کوسال مینڈس76126یاسر شاہ3-12229

تاریخ میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم نے گال میں 200 رنز سے زیادہ کا ہدف ملنے کے باوجود کامیابی حاصل کی ہو۔ یہ خود سری لنکا ہی تھا، جس نے  2019ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف 268 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ نہ اس سے پہلے اور نہ بعد میں کوئی ٹیم 200 یا اس سے زیادہ کا ہدف عبور کر پائی۔

گال میں کامیابی سے حاصل کیے گئے اہداف

ہدففاتحمارجنبمقابلہبتاریخ
268 سری لنکا‏6 وکٹ نیوزی لینڈاگست 2019ء
164 انگلینڈ‏6 وکٹ سری لنکاجنوری 2021ء
99 سری لنکا‏7 وکٹ پاکستاناگست 2014ء
95 سری لنکا‏10 وکٹ بھارتجولائی 2010ء
93 سری لنکا‏10 وکٹ نیوزی لینڈنومبر 2012ء
90 پاکستان‏10 وکٹ سری لنکاجون 2015ء
74 انگلینڈ‏7 وکٹ سری لنکاجنوری 2021ء
6 سری لنکا‏10 وکٹ بھارتاگست 2001ء
5 آسٹریلیا‏10 وکٹ سری لنکاجون 2022ء
3 سری لنکا‏10 وکٹ ویسٹ انڈیزنومبر 2001ء

ویسے گال سے پاکستان کی کئی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، اور بھیانک یادیں بھی۔ پاکستان نے یہاں 2000ء میں اپنے پہلے اور 2015ء میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میں یادگار کامیابیاں حاصل کیں، لیکن اسی میدان پر بہت مایوس کن شکستیں بھی کھائی ہیں۔ مثلاً 2014ء میں پاکستان پہلی اننگز میں 450 رنز بنانے کے باوجود ہار گیا تھا۔  

اس سے پہلے 2009ء میں یہیں پر 168 رنز کے تعاقب میں محض 117 رنز پر ڈھیر ہو کر شکست سے دوچار ہوا تھا۔ 2012ء میں تو پاکستان یہاں 209 رنز سے بُری طرح ہارا تھا۔

گو کہ اب پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، لیکن گال کی 24 سالہ تاریخ ہدف کا تعاقب کرنے والوں کے لیے کبھی اچھی نہیں رہی۔  پچھلے سال ویسٹ انڈیز 297 رنز کے تعاقب میں صرف 132 رنز پر ڈھے گیا تھا۔

اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے گال کو بھول جائیں اور  پورے سری لنکا کو دیکھیں تو یہاں بھی تاریخ میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مہمان ٹیم نے 300 سے زیادہ کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہو۔ یہ 2015ء میں پالی کیلے میں کھیلا گیا سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ تھا جہاں پاکستان کو 377 رنز کا ہدف ملا تھا۔ یہاں پاکستان کی دو وکٹیں محض 13 رنز پر گر چکی تھیں، جب  شان مسعود اور یونس خان نے 242 رنز کی فاتحانہ پارٹنرشپ کی۔  یونس خان تو میدان سے تبھی واپس آئے جب پاکستان میچ جیت گیا، وہ  171 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ شان مسعود نے 125 رنز بنائے۔ پاکستان کی 7 وکٹوں سے یہ جیت اسے سیریز میں بھی کامیابی دلا گئی۔

اب گال میں پاکستان کوئی ایسا معجزہ دکھا دے تو بات بنے، ورنہ شکست منہ کھولے سامنے کھڑی ہے!