عبد اللہ شفیق تاریخ کے عظیم بلے بازوں کے شانہ بشانہ

0 486

پاکستان کے دورۂ سری لنکا کا پہلا ٹیسٹ، اسی میدان پر جہاں سری لنکا چند روز پہلے ہی آسٹریلیا کو اننگز اور 39 رنز سے شکست دے چکا تھا۔ جب پاکستان کو 342 رنز کا ہدف ملا تو پاکستانی شائقین تو ذہنی طور پر شکست کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان اس ہدف تک پہنچ جائے گا، وہ بھی ایسے میدان پر جہاں کبھی کوئی ٹیم آخری اننگز میں 300 رنز سے زیادہ کا ہدف حاصل نہیں کر پائی۔  

سری لنکا کی پوری کرکٹ تاریخ میں اکّا دکّا واقعات ہی ملتے ہیں، جن میں کوئی ٹیم اتنے بڑے ہدف تک بھی پہنچ گئی  ہو۔ اس تاریخ کے ساتھ جب پاکستان کی بیٹنگ لائن کو دیکھیں تو رہی سہی امید بھی ختم ہو جاتی ہے، لیکن گال میں ہوا ایک معجزہ !  اُس وکٹ پر جہاں دونوں ٹیموں نے پہلی اننگز میں کُل ملا کر 440 رنز  بنائے، وہاں پر آخری اننگز میں، چوتھے اور پانچویں دن کی وکٹ پر، سری لنکن اسپنرز کے بڑھتے ہوئے قدموں کے سامنے، 342 رنز کا ہدف حاصل ہو گیا۔

پاکستان کا دورۂ سری لنکا 2022ء- پہلا ٹیسٹ

‏‏16 تا 20 جولائی 2022ء

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم، گال، سری لنکا

پاکستان 4 وکٹوں سے جیت گیا

سری لنکا (پہلی اننگز) 222
دنیش چندیمل76115شاہین آفریدی4-5814.1
مہیش تھیکشانا3865مچل سویپسن2-2312
پاکستان (پہلی اننگز) 218
بابر اعظم119244پرباتھ جے سوریا5-8239
محمد رضوان1935رمیش مینڈس2-1813
سری لنکا (دوسری اننگز) 337
دنیش چندیمل94*139محمد نواز5-8828
کوسال مینڈس76126یاسر شاہ3-12229
پاکستان (ہدف: 342 رنز) 344-6
عبد اللہ شفیق160*408پرباتھ جے سوریا4-13556.2
بابر اعظم55104دھاننجیا ڈی سلوا1-3315

بلاشبہ یہ تاریخ کے بہترین 'رن چَیز' میں شمار ہوگا، جو  ممکن ہوا  نوجوان عبد اللہ شفیق کی ناقابلِ یقین اننگز کی بدولت۔   160 رنز کی اس اننگز کے دوران عبد اللہ نے 408 گیندوں کا سامنا کیا۔  کرکٹ کی تقریباً ڈیڑھ صدی کی تاریخ میں صرف چار بیٹسمین ایسے ہیں جو کسی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 400 یا زیادہ گیندیں کھیلے۔

حال ہی میں بابر اعظم نے آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔  یہاں پاکستان 506 رنز کا ہدف تو حاصل نہیں کر پایا لیکن  بابر اعظم کی کیپٹن اننگز کی بدولت یقینی شکست سے ضرور بچ گیا۔ اس میچ کی چوتھی اننگز میں بابر نے  425 گیندوں کاسامنا کرتے ہوئے 196 رنز بنائے تھے اور اپنا نام ریکارڈ بک میں لکھوا لیا۔  اسی اننگز کی بدولت دنیا بابر کی عظمت کی قائل ہو گئی۔

بابر اعظم سے پہلے صرف تین بیٹسمین ایسے تھے جنہوں نے چوتھی اننگز میں 400 سے زیادہ گیندوں کا سامنا کیا ہو۔ اس اننگز میں سب سے زیادہ گیندیں کھیلنے کا ریکارڈ انگلینڈ کے  مائیک ایتھرٹن کے پاس ہے، جنہوں نے 492 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔ یہ 1995ء کے دورۂ جنوبی افریقہ کا جوہانسبرگ ٹیسٹ تھا، جہاں ایتھرٹن نے 492 گیندوں پر 185 رنز بنائے تھے اور میچ بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

پھر انگلینڈ کے ایک عظیم بیٹسمین ہربرٹ سٹکلف کا نام آتا ہے جنہوں نے 1928ء میں آسٹریلیا کے خلاف میلبرن میں 462 گیندوں پر 135 رنز بنائے تھے۔ بھارت کے سنیل گاوسکر نے 1979ء میں انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ کی آخری اننگز میں 443 گیندوں پر 196 رنز بنائے تھے۔

چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ گیندوں کا سامنا کرنے والے بلے باز

رنزگیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
مائیکل ایتھرٹن185*492 جنوبی افریقہجوہانسبرگنومبر 1995ء
ہربرٹ سٹکلف135462 آسٹریلیامیلبرندسمبر 1928ء
سنیل گاوسکر221443 انگلینڈدی اوولاگست 1979ء
بابر اعظم196425 آسٹریلیاکراچیمارچ 2022ء
عبد اللہ شفیق 160408 سری لنکاگالجولائی 2022ء

ان بڑے ناموں کے ساتھ اب پانچواں نام ہے عبد اللہ شفیق کا۔ وہ عبد اللہ کا جن کا فرسٹ کلاس میچز کا کُل تجربہ ہی محض 8 مقابلوں کا تھا۔ انہوں نے  ایک مشکل  وکٹ پر، کہیں کٹھن حالات میں، اتنی بڑی اننگز کھیل کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایسی اننگز کھیلنے کے لیے واقعی بڑا جگر چاہیے اور عبد اللہ نے خود کو ایک دلیر اور بہادر بیٹسمین ثابت کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ عبد اللہ چوتھی اننگز میں سب سے بڑی باری کھیلنے والے پاکستانیوں میں بھی شامل ہو گئے ہیں ۔ یہ ریکارڈ بابر اعظم کی کراچی ٹیسٹ میں کھیلی گئی 196 رنز کی اننگز کو حاصل ہے۔ ان کے علاوہ صرف دو پاکستانی بیٹسمین ایسے تھے جنہوں نے چوتھی اننگز میں 150 سے زیادہ رنز بنائے ہوں۔ ایک یونس خان کے 171 رنز ناٹ آؤٹ، جو انہوں نے 2015ء میں تاریخی پالی کیلے ٹیسٹ میں بنائے تھے۔ سلیم ملک نے بھی 1997ء کے کولمبو ٹیسٹ میں 155 رنز بنائے تھے۔ یعنی بابر کے سوا چوتھی اننگز میں پاکستانیوں نے ہمیشہ سری لنکا ہی کو نشانہ بنایا ہے۔

چوتھی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں کی سب سے بڑی اننگز

رنزگیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
بابر اعظم196425 آسٹریلیاکراچیمارچ 2022ء
یونس خان171*271 سری لنکاپالی کیلےجولائی 2015ء
عبد اللہ شفیق160408 سری لنکاگالجولائی 2022ء
سلیم ملک155240 سری لنکاکولمبواپریل 1997ء
شعیب ملک148*369 سری لنکاکولمبو مارچ 2006ء