انگلینڈ کو فیصلہ کن مقابلے میں حیران کن شکست

0 255

جنوبی افریقہ نے تبریز شمسی کی عمدہ باؤلنگ اور ریزا ہینڈرکس کی ایک اور عمدہ اننگز کی بدولت تیسرے اور فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کو 90 رنز کی واضح شکست دی اور یوں خسارے میں جانے کے باوجود سیریز ‏2-1 سے جیت لی۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ انگلینڈ 2022ء - تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل

انگلینڈ بمقابلہ جنوبی افریقہ

‏31 جولائی 2022ء

روز باؤل، ساؤتھمپٹن، انگلینڈ

جنوبی افریقہ 90 رنز سے جیت گیا

جنوبی افریقہ سیریز ‏2-1 سے جیت گیا

جنوبی افریقہ🏆191-5
ریزا ہینڈرکس7050
آئیڈن مارکرم51*36
انگلینڈ باؤلنگامرو
ڈیوڈ وِلی41253
معین علی1041

انگلینڈ101
جونی بیئرسٹو2730
جیسن روئے1718
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
تبریز شمسی40245
کیشَو مہاراج3.40212

ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ کا آغاز تو اچھا نہیں تھا۔ صفر پر ہی کوئنٹن ڈی کوک کی وکٹ گر گئی لیکن پھر ریزا ہینڈرکس اور رائلی روسو نے پاور پلے نکال لیا۔ ساتویں اوور میں اسکور 55 رنز تک پہنچا تھا کہ روسو 31 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اب میدان ہینڈرکس اور سیریز میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے بلے باز آئیڈن مارکرم کے ہاتھ میں تھا۔ دونوں نے 87 رنز کی شراکت داری کی۔ ہینڈرکس نے 50 گیندوں پر 70 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

اختتامی اوورز میں ملر کے 9 گیندوں پر 22 رنز اور مارکرم کی 36 گیندوں پر 51 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز جنوبی افریقہ کو 191 رنز تک پہنچا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پوری اننگز میں صرف ایک چھکا تھا جو 19 ویں اوور میں ڈیوڈ ملر نے لگایا، باقی پوری اننگز ایک چھکے تک سے محروم رہی۔ پھر بھی 191 رنز اکٹھے کر لینا جنوبی افریقہ کی رنز بنانے کی عمدہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس نے صرف ایک چھکے کے ساتھ آخری پانچ اوورز میں 64 رنز کا اضافہ کیا اور یوں انگلینڈ کو 192 رنز کا مشکل ہدف دے دیا۔

انگلینڈ کا آغاز تو اتنا برا نہیں تھا لیکن جیسے ہی چوتھے اوور میں کپتان جوس بٹلر کی وکٹ گری، لائن لگ گئی۔ تب اسکور بورڈ پر 28 رنز موجود تھے جب کپتان پویلین لوٹے اور پھر وکٹیں گرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ 17 ویں اوور میں پوری ٹیم صرف 101 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یعنی صرف 73 رنز کے اضافے سے 10 وکٹیں گریں۔

انگلش بلے بازوں میں سے جونی بیئرسٹو نے 27 رنز بنائے جبکہ دوسرا کوئی بلے باز 17 سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ بلکہ چھ بلے بازوں کی اننگز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہو پائی۔

سب سے یادگار وکٹ تھی معین علی کی۔ آئیڈن مارکرم کی ایک گیند کو معین علی نے فضا میں اچھالا تو کور پر کھڑے ٹرسٹان اسٹبس نے ان کا ایک ناقابل یقین کیچ لیا اور انگلینڈ کی چوتھی وکٹ گر گئی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ سنبھل نہیں پایا۔

جنوبی افریقی باؤلرز میں سب سے نمایاں تبریز شمسی رہے۔ انہوں نے اپنے چار اوورز میں صرف 24 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی کیریئر بیسٹ باؤلنگ کے علاوہ کیشو مہاراج نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں، یعنی سارا کام اسپنرز سے دکھایا۔

تبریز شمسی کو میچ جبکہ ریزا ہینڈرکس کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب جنوبی افریقہ آئرلینڈ کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا اور پھر 17 اگست سے انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ کی ایک اہم سیریز شروع ہوگی۔

یہ لگ بھگ 9 سال میں پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنے سمر سیزن کا اختتام بغیر کوئی سیریز جیتے کیا ہو۔ اس سے پہلے وہ بھارت کے ہاتھوں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز ہارا تھا اور پھر جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز برابر کر کے اب ٹی ٹوئنٹی میں شکست کھائی۔