محمد زاہد، وہ آیا، چھایا اور پھر ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا

0 332

یہ دسمبر 1996ء کا پہلا دن تھا۔ راولپنڈی میں ایک خنک صبح کا آغاز، جس میں نیوزی لینڈ کے بلے باز چہرے پر تشویش لیے میدان میں اتر رہے تھے۔ پہلی اننگز میں 181 رنز کا خسارہ سہنے کے بعد اب انہیں میچ بچانا تھا۔ بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 69 رنز کے ساتھ چوتھے دن کا آغاز ہوا۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے محمد زاہد ایک اینڈ سے طوفانی باؤلنگ کر رہے تھے۔

ڈیبیوٹینٹ فاسٹ باؤلر پہلی اننگز میں 4 وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتیں پہلے ہی ظاہر کر چکے تھے، لیکن یہ دوسری اننگز تھی، جس میں وہ عروج پر دکھائی دیے۔ نیوزی لینڈ کی ابتدائی پانچوں وکٹیں حاصل کیں اور پھر دو آخری وکٹیں بھی سمیٹ گئے۔ یوں اننگز میں 7 اور میچ میں 11 شکار کیے۔ وہ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں میچ میں 10 وکٹوں کا کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے پہلے بلکہ آج تک کے واحد باؤلر ہیں۔

پہلے ٹیسٹ میں 10وکٹیں لینے والے باؤلرز

پہلی اننگزدوسری اننگزکل وکٹیںبمقابلہبمقامبتاریخ
فریڈرک مارٹن6-506-5212-102 آسٹریلیااوولاگست 1890ء
تھامس رچرڈسن5-495-10710-156 آسٹریلیامانچسٹراگست 1893ء
الفریڈ ہال4-497-6311-112 انگلینڈ کیپ ٹاؤنجنوری 1923ء
کلیرنس گریمٹ5-456-3711-82 انگلینڈ سڈنیفروری 1925ء
چارلس میریٹ5-376-5911-96 ویسٹ انڈیز اوولاگست 1933ء
کینیتھ فارنیس5-1025-7710-179 آسٹریلیاناٹنگھمجون 1934ء
ایلک بیڈسر7-494-9611-145 بھارتلارڈزجون 1946ء
ہوفی جانسن5-415-5510-96 انگلینڈ کنگسٹنمارچ 1948ء
الفریڈ ویلنٹائن8-1043-10011-204 انگلینڈ مانچسٹرجون 1950ء
سڈنی برک6-1285-6811-196 نیوزی لینڈکیپ ٹاؤنجنوری 1962ء
رابرٹ میسی8-848-5316-137 انگلینڈ لارڈزجون 1972ء
جان لیور7-463-2410-70 بھارتدلّیدسمبر 1976ء
نریندر ہروانی8-618-7516-136 ویسٹ انڈیز مدراسجنوری 1988ء
محمد زاہد4-647-6611-130 نیوزی لینڈراولپنڈینومبر 1996ء
جیسن کریزا8-2154-14312-358 بھارتناگ پورنومبر 2008ء
پراوِن جے وکرما6-925-8611-178 بنگلہ دیشپالی کیلےاپریل 2021ء
پرباتھ جے سوریا6-1186-5912-177 آسٹریلیاگالجولائی 2022ء

محمد زاہد 1976ء میں آج ہی کے دن یعنی 2 اگست کو پیدا ہوئے تھے۔ انہیں 'گگو منڈی ایکسپریس' کہا جاتا تھا۔ باؤلنگ اتنی تیز تھی کہ اس کی گواہی ویسٹ انڈیز کے معروف آل راؤنڈر کارل ہوپر نے بھی دی۔ جنوری 1997ء میں آسٹریلیا میں کھیلی گئی ٹرائی اینگولر سیریز میں ہوپر نے زاہد کا سامنا کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ "وہ میرے کیریئر کا تیز ترین اسپیل تھا۔ میں اچھی فارم میں تھا لیکن اس کی گیندیں اتنی تیز تھیں کہ پلک جھپکتے میں وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچ جاتیں۔ وہ وکٹ حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھا اور میں اس سوچ میں تھا کہ ایک بھی گیند اگر ہدف پر آ گئی تو خدشہ ہے وکٹ چلی جائے گی۔"

لیکن محمد زاہد فاسٹ باؤلنگ کی دنیا کی درخشندہ مثال نہیں بلکہ ایک المیہ داستان بن گئے۔ ان کے باؤلنگ ایکشن میں بنیادی خامیاں تھیں، پھر مختصر سے کیریئر میں ان پر بہت زیادہ بوجھ بھی ڈالا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں ہی زخمی ہو گئے۔ یہ پاکستان کا دورۂ سری لنکا تھا جس میں وسیم اکرم اور وقار یونس ٹیم کے ساتھ نہیں تھے۔ وہاں محمد زاہد کو کمر کی تکلیف ہو گئی اور معاملہ آپریشن تک پہنچ گیا۔ یہ ان کے کیریئر کو پہنچنے والا پہلا دھچکا تھا۔

ایک سال بعد زاہد ٹیم میں واپس ضرور آئے لیکن غیر متاثر کن کارکردگی کے ساتھ ایک بار پھر کمر کی تکلیف سے دوچار ہو گئے۔ اس بار تو ایسے باہر ہوئے کہ پانچ سال تک دوبارہ ٹیم میں واپس نہیں آ سکے۔ پھر جب 2003ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن میں کھیلے تو اصل محمد زاہد تو کہیں پیچھے رہ چکا تھا۔

محمد زاہد نے 7 سال کے طویل عرصے میں صرف پانچ ٹیسٹ اور 11 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے، جن میں 25 وکٹیں حاصل کیں۔ جی ہاں! پہلے ٹیسٹ میں 11 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 میچز میں صرف 14 شکار۔

محمد زاہد کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسط‏5 وکٹیں
ٹیسٹ5157-6633.46‏1 مرتبہ
ون ڈے انٹرنیشنل11102-2039.10‏0 مرتبہ
فرسٹ کلاس431287-2626.00‏8 مرتبہ
لسٹ اے24253-3636.96‏0 مرتبہ

المیہ یہ نہیں کہ اتنے اچھے باؤلر کا کیریئر انجری کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، المیہ ہے وہ انتظامی و نااہلی جو انتظامیہ نے زاہد کے معاملے میں دکھائی۔

بہرحال، جب محمد زاہد اپنے کیریئر کے آغاز ہی میں انجریز کا نشانہ بن گئے، تب پاکستان کرکٹ میں ایک اور فاسٹ باؤلر ابھرا، جسے دنیا شعیب اختر کے نام سے جانتی ہے۔ انجریز کے معاملے میں زاہد سے تھوڑا سا بہتر لیکن بہت تیز، اتنا کہ کرکٹ تاریخ کی تیز ترین گیند بھی پھینکی۔ لیکن زاہد کی کرکٹ یوں ختم ہو جانا آج بھی پاکستان کرکٹ کی دکھ بھری داستانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔