ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ، وہ 4 سیریز جو فائنل کا فیصلہ کریں گی

0 179

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ اب اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اگلے چند مہینے فیصلہ کریں گے کہ آئندہ سال جون میں نیا عالمی ٹیسٹ چیمپیئن بننے کے لیے لارڈز میں کون کون مقابل ہوگا؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آج اپنے ایک خصوصی فیچر میں چار سیریز کو فائنل کی دوڑ میں اہم قرار دیا ہے۔ یہ سیریز اگلے چھ، سات ماہ کے دوران کھیلی جائیں گی۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ ‏2021-23ء، پوائنٹس ٹیبل پر موجودہ صورتِ حال

بمطابق 4 اگست 2022ء

شمارمیچزفتوحاتشکستیںبے نتیجہپوائنٹستناسب
1 جنوبی افریقہ75206071.43
2 آسٹریلیا106138470.00
3 سری لنکا105416453.33
4 بھارت126427552.08
5 پاکستان94325651.85
6 ویسٹ انڈیز94325450.00
7 انگلینڈ165746433.33
8 نیوزی لینڈ92612825.93
9 بنگلہ دیش101811613.33

انگلینڈ بمقابلہ جنوبی افریقہ

ویسے تو انگلینڈ فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکا ہے، لیکن اگلے سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل کھیلے گا کون؟ یہ طے کرنے میں انگلینڈ کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔ انگلینڈ مسلسل چار ٹیسٹ میچز جیتنے کے بعد پورے اعتماد کے ساتھ رواں ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گا۔ جنوبی افریقہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اگر جیت گیا تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر بدستور سب سے اوپر رہے گا۔ لیکن اگر انگلینڈ جیتا تو جنوبی افریقہ کے امکانات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ انگلینڈ 2022ء - ٹیسٹ سیریز

بمقابلہبتاریخبمقام
انگلینڈ جنوبی افریقہپہلا ٹیسٹ‏17 تا 21 اگست لارڈز
انگلینڈ جنوبی افریقہدوسرا ٹیسٹ‏25 تا 29 اگست مانچسٹر
انگلینڈ جنوبی افریقہتیسرا ٹیسٹ‏8 تا 12 ستمبراوول

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی کارکردگی میں تسلسل لائے۔ انگلینڈ کا دورۂ پاکستان تاریخی لحاظ سے تو بہت اہم ہے ہی لیکن ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے تناظر میں بھی یہ سیریز بہت اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان کے کپتان بابر اعظم تو مسلسل بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں، لیکن انہیں امام الحق، عبد اللہ شفیق اور دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بھی ایسے ہی تسلسل کی ضرورت ہے کیونکہ تبھی پاکستان فائنل تک پہنچ سکتا ہے۔

پھر جونی بیئرسٹو، جو روٹ اور بین اسٹوکس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو بھی بہت زور لگانا ہوگا۔ اگر پاکستان یہ سیریز جیت جاتا ہے تو اس کے فائنل تک پہنچنے کے امکانات روشن رہیں گے۔

آسٹریلیا بمقابلہ جنوبی افریقہ

یہ وہ سیریز ہے جس کے فاتح کا فائنل تقریباً یقینی ہوگا۔ یوں کہہ لیں کہ یہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا سیمی فائنل ہوگا۔

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ اِس وقت پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ 2 ہیں، یعنی انہی پوزیشنوں پر جن پر آنے والی ٹیمیں فائنل میں جائیں گی۔ اب دونوں کو ضرورت ہے اپنی یہ پوزیشن برقرار رکھنے کی۔

اسی لیے دسمبر اور جنوری میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی باہمی سیریز دیکھنے کے قابل ہوگی۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ آسٹریلیا ‏2022-23ء - ٹیسٹ سیریز

بمقابلہبتاریخبمقام
آسٹریلیا جنوبی افریقہپہلا ٹیسٹ‏17 تا 21 دسمبربرسبین
آسٹریلیا جنوبی افریقہدوسرا ٹیسٹ‏26 تا 30 دسمبرمیلبرن
آسٹریلیا جنوبی افریقہتیسرا ٹیسٹ‏4 تا 8 جنوری سڈنی

بھارت بمقابلہ آسٹریلیا

بارڈر-گاوسکر ٹرافی کس کے نام ہوگی؟ فروری-مارچ 2023ء کی بھارت آسٹریلیا سیریز میں جہاں یہ فیصلہ ہوگا وہی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا 2004ء سے اب تک بھارتی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ نہیں جیت پایا۔ کیا کمنز الیون ایسا کر پائے گی؟ اگر نہیں کر سکی تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے لالے پڑ سکتے ہیں۔