ویسٹ انڈیز کی مایوس کُن کارکردگی، نیوزی لینڈ سیریز لے اڑا

0 182

نیوزی لینڈ نے گلین فلپس اور ڈیرل مچل کی عمدہ بیٹنگ اور پھر اسپنرز کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی بُری طرح شکست دے دی ہے۔ 90 رنز کی اس کامیابی کے بعد نیوزی لینڈ آخری مقابلے سے پہلے ہی سیریز ‏2-0 سے جیت چکا ہے۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2022ء - دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل

ویسٹ انڈیز بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏12 اگست 2022ء

سبائنا پارک، کنگسٹن، جمیکا

نیوزی لینڈ 90 رنز سے جیت گیا

نیوزی لینڈ🏆215-5
گلین فلپس7641
ڈیرل مچل4820
ویسٹ انڈیز باؤلنگامرو
اوبیڈ میک کوئے40403
روماریو شیپرڈ30261

ویسٹ انڈیز 125-9
اوبیڈ میک کوئے23*15
روومین پاول2118
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
مائیکل بریسویل41153
مچل سینٹنر40153

سبائنا پارک، کنگسٹن، جمیکا میں کھیلے گئے مقابلے میں ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا اور پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ چار اوورز میں صرف 36 رنز پر کپتان کین ولیم سن سمیت دو بلے بازوں کو گنوانا ہر گز اچھا آغاز نہیں تھا۔ لیکن پاور پلے کے بعد نیوزی لینڈ نے اننگز کی رفتار کو بڑھایا۔ ڈیون کونوے اور گلین فلپس بغیر مزید کسی وکٹ کے 10 اوورز میں اسکور کو 85 رنز تک لے آئے۔

کونوے 34 گیندوں پر 42 رنز بنا کر تب آؤٹ ہوئے، جب اننگز تہرے ہندسے میں داخل ہو چکی تھی اور پھر ہر گزرتے اوور کے ساتھ رنز کی رفتار بھی بڑھتی رہی۔ ڈیرل مچل کا ہاتھ بھی کھل چکا تھا، جنہوں نے چند کرارے شاٹس لگائے۔

گلین فلپس اور ڈیرل مچل نے چوتھی وکٹ پر صرف 34 گیندوں پر 83 کی شراکت داری کی۔ فلپس 41 گیندوں پر چھ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ ڈیرل مچل نے صرف 20 گیندوں پر 48 رنز بنا کر آخری اوور میں اپنی وکٹ دی۔

اس دوران ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ ہی نہیں بلکہ فیلڈنگ بھی خاصی مایوس کن رہی۔ کئی مس فیلڈنگز ہوئیں، جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو نئی زندگیاں بھی ملیں اور ساتھ ہی تحفتاً مفت میں بہت سے رنز بھی۔

نیوزی لینڈ کی اننگز آخری پانچ اوورز میں 64 رنز کے ساتھ 215 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ پر مکمل ہوئی۔

یہ ویسٹ انڈیز کے لیے کافی سے زیادہ اسکور تھا۔ ان کی ذہنی حالت کا اندازہ فیلڈنگ کے دوران ہی ہو گیا تھا کہ وہ کس ذہنیت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں سب نے عملاً دیکھ بھی لیا۔

نیوزی لینڈ کو ابتدائی دو اوورز میں کوئی کامیابی نہیں ملی تو وہ ایک اینڈ سے مچل سینٹنر کو لے آیا۔ اسپنرز کو دیکھتے ہی ویسٹ انڈین بلے بازوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ اس اوور کی پہلی گیند شیمار بروکس کی گلیاں اڑا گئی جبکہ آخری پر کائل میئرس کی اننگز کا خاتمہ ہو گیا۔ گلین فلپس نے ان کا ایک شاندار کیچ لیا اور ویسٹ انڈین فیلڈرز کو آئینہ دکھایا۔

اس کے بعد دوسرے اینڈ سے بھی اسپنر لگا دیا گیا۔ مائیکل بریسویل آئے اور اپنے ساتھی باؤلر کی طرح پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کر لی۔ یہ ویسٹ انڈین کپتان نکولس پورَن تھے جو باہر جاتی ہوئی ایک گیند کو چھیڑنے کی پاداش میں وکٹوں کے پیچھے آؤٹ قرار پائے۔ پھر بریسویل نے ہی پاور پلے کے کی آخری گیند پر ڈیون تھامس کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ یوں چھ اوورز میں ویسٹ انڈیز صرف 19 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا، یعنی میچ تقریباً ختم تھا۔ جو تھوڑی بہت امید رہ گئی تھی وہ شمرون ہٹمائر کے رن آؤٹ سے پوری ہو گئی، جو کین ولیم سن کے ایک ڈائریکٹ تھرو کا نشانہ بنے اور صرف 28 رنز پر ویسٹ انڈیز کی آدھی ٹیم پویلین میں بیٹھی تھی۔

ویسٹ انڈیز تہرے ہندسے تک بھی نہ پہنچ پاتا اگر آخر میں میک کوئے کچھ کرارے شاٹ نہ لگاتے۔ ان کے 15 گیندوں پر 23 رنز اور آخری اوور کی آخری گیند پر ہیڈن واش جونیئر کے چھکے کے ساتھ ہوا نیوزی لینڈ کی فتح کے مارجن گھٹ کر 90 رنز ہو گیا۔ یہ مارجن کے لحاظ سے نیوزی لینڈ کے خلاف ویسٹ انڈیز کی دوسری بدترین شکست تھی۔ شاید ایسی کارکردگی ہی کی وجہ سے میدان میں ان کا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے کے لیے بھی تماشائیوں کی بہت معمولی تعداد موجود تھی۔

آخر میں گلین فلپس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔

سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی اتوار 14 اگست کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔