[آج کا دن] جب پاکستان صرف ایک وکٹ سے ہار گیا

0 276

‏80ء کی دہائی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ دونوں کے مابین کئی یادگار میچز کھیلے گئے، یہاں تک کہ نئی صدی میں ویسٹ انڈیز کی وہ شان و شوکت ختم ہو گئی۔ لیکن پاکستان کی قسمت دیکھیں کہ اس کے باوجود کبھی ویسٹ انڈیز کو اُس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز نہیں ہرا پایا، یہاں تک کہ 2017ء میں مصباح الحق اور یونس خان کے آخری ٹیسٹ کے آخری لمحات میں بالآخر یہ سنگِ میل بھی حاصل کر لیا۔

اِس یادگار دورے کے بعد سال 2021ء میں پاکستان پہلی بار ویسٹ انڈیز کے دورے پر آیا۔ نئے کپتان اور نئے عزم کے ساتھ کہ اب پرانی تاریخ کبھی نہیں دہرائی جائے گی اور پاکستان کے غلبے کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

دو میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ کنگسٹن، جمیکا کا کھیلا گیا، جہاں میچ جتوانے کے لیے باؤلرز نے سر دھڑ کی بازی لگا دی لیکن مجموعی طور پر بیٹنگ اور نازک ترین لمحات میں فیلڈنگ نے پاکستان کو سخت مایوس کیا، یہاں تک کہ ویسٹ انڈیز صرف ایک وکٹ سے میچ جیت گیا۔ یوں 2000ء کے اینٹیگا ٹیسٹ کی یادیں تازہ ہو گئیں کہ جس نے اسی طرح پاکستان کو میچ اور سیریز جیتنے سے محروم کیا تھا۔

پاکستان کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2021ء - پہلا ٹیسٹ

‏12 تا 15 اگست 2021ء

سبائنا پارک، کنگسٹن، جمیکا

ویسٹ انڈیز 1 وکٹ سے جیت گیا

پاکستان (پہلی اننگز) 217
فواد عالم56117جیسن ہولڈر3-2615.3
فہیم اشرف4466جیڈن سیلز3-7016
ویسٹ انڈیز (پہلی اننگز)253
کریگ بریتھویٹ97221شاہین آفریدی4-5921.4
جیسن ہولڈر58108محمد عباس3-4322
پاکستان (دوسری اننگز) 203
بابر اعظم55160جیڈن سیلز5-5515.4
عابد علی3466کیمار روچ3-3019
ویسٹ انڈیز (ہدف: 168 رنز) 168-9
جرمین بلیک ووڈ5578شاہین آفریدی4-5017
کیمار روچ30*52حسن علی3-3716.5

بارش سے متاثرہ یہ مقابلہ ایک 'لو-اسکورنگ افیئر' تھا۔ پاکستان پہلی اننگز میں صرف 217 رنز پر آل آؤٹ ہوا۔ فواد عالم کے 56، فہیم اشرف کے 44 اور 13 فاضل رنز نکال دیں تو باقی پوری ٹیم کے 104 رنز بنتے ہیں۔ بہرحال، ہمیشہ کی طرح باؤلرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کریگ بریتھویٹ کے 97 اور جیسن ہولڈر کے 58 رنز کے باوجود ویسٹ انڈیز کو 253 رنز سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔

پہلی اننگز میں 36 رنز کے خسارے کے بعد پاکستان کو سنبھل کر کھیلنے کی ضرورت تھی۔ جب تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان پانچ وکٹوں پر 160 رنز بنا چکا تھا۔ بابر اعظم اور فہیم اشرف کریز پر موجود تھے۔ دونوں نے چوتھے دن کا آغاز پورے اعتماد سے کیا اور چھٹی وکٹ پر 47 رنز کا اضافہ کر کے 168 رنز تک لے آئے۔ میچ پاکستان کی گرفت میں لگتا تھا جب فہیم اشرف وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے اور پھر دن بلکہ میچ کا سب سے بڑا دھچکا لگا، جب کائل میئرس کی ایک ناقابلِ یقین گیند بابر اعظم کو آؤٹ کر گئی۔ انہوں نے 160 گیندوں پر 55 رنز بنائے۔

کپتان کے جاتے ہی پاکستان نے آل آؤٹ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان کی آخری پانچ وکٹیں صرف 35 رنز کے اضافے سے گریں۔ ان 35 میں سے بھی 28 رنز حسن علی کے تھے، جنہوں نے اپنے فلسفے 'جارحانہ کرکٹ ہی بہترین دفاعی کرکٹ ہے' پر عمل کرتے ہوئے دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 28 رنز بنائے اور آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین بنے۔

ویسٹ انڈیز کے جیڈن سیلز نے 55 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور یہ کارنامہ انجام دینے والے کم عمر ترین ویسٹ انڈین باؤلر بنے۔

بہرحال، اب ویسٹ انڈیز کو 168 رنز کا ہدف ملا تھا، جو بلاشبہ آسان نہیں تھا۔ کم از کم میچ میں اب تک بلے بازوں کا حال دیکھیں تو۔ پھر ہوا بھی یہی پاکستان نے 100 رنز سے پہلے پہلے ویسٹ انڈیز کی پانچ وکٹیں حاصل کر لیں۔

شاہین آفریدی نے عادتاً پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کی اور صرف 16 رنز تک پاکستان کو تین وکٹیں دلائیں۔ میچ اب برابری کی سطح پر آ چکا تھا۔

اس کے بعد روسٹن چَیز اور جرمین بلیک ووڈ کی نصف سنچری شراکت داری مقابلے کو پھر ویسٹ انڈیز کے حق میں جھکا گئی۔ دونوں اسکور کو 84 رنز تک لے آئے جب فہیم اشرف نے چَیز اور آنے والے بلے باز کائل میئرس دونوں کو آؤٹ کر کے میچ ایک مرتبہ پھر کھول کر رکھ دیا۔

چائے کے وقفے سے پہلے پاکستان نے ویسٹ انڈیز پر ایسے وار کیے جو فیصلہ کُن لگتے تھے۔ نیلسن یعنی 111 رنز پر عمران بٹ نے جرمین بلیک ووڈ کا ایک ناقابلِ یقین کیچ لیا اور پاکستان کو ایک قیمتی وکٹ دلائی۔ پھر حسن علی کی ایک گیند نے جیسن ہولڈر کی وکٹیں بکھیر دیں۔ یوں 114 رنز ویسٹ انڈیز کے 7 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ اب پاکستان کو صرف تین وکٹیں درکار تھیں، جبکہ ویسٹ انڈیز 54 رنز دُور تھا اور چائے کا وقفہ ہو گیا۔

آخری سیشن میں پاکستان کا پلڑا واضح طور پر بھاری ہونا چاہیے تھا اور انہیں حتمی ضرب لگا کر میچ کا خاتمہ کرنا چاہیے تھا لیکن لگتا تھا کہ پاکستان اب جیت کو سامنے دیکھ کر مطمئن ہو گیا تھا، اور یہی اطمینان مہنگا پڑ گیا۔

یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جب میچ کے نازک مرحلے پر حسن علی کوئی کیچ چھوڑ دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ جی ہاں! پاکستان ہار جاتا ہے۔ تو اس مقابلے میں حسن علی نے کیمار روچ کا ایک آسان کیچ اس وقت چھوڑا جب ویسٹ انڈیز فتح سے 19 رنز دُور تھا۔ یہ ایک لمحہ بعد میں فیصلہ کن صورت اختیار کر گیا۔

گو کہ محمد رضوان نے جومیل ویریکن کا ایک ناقابلِ یقین کیچ پکڑ کر پاکستان کو صرف ایک وکٹ کے فاصلے پر پہنچا دیا، لیکن کچھ ہی دیر میں وہ ہیرو سے زیرو بن گئے جب گیند روچ کے بلّے کا کنارہ لینے کے بعد رضوان کے دستانوں میں نہ آ سکی اور وکٹوں کے پیچھے چوکے کے لیے چلی گئی۔

کیمار روچ 52 گیندوں پر 30 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ جیڈن سیلز نے بھی 13 گیندوں تک اپنی وکٹ بچائے رکھی، یہاں تک کہ ویسٹ انڈیز ایک وکٹ سے میچ جیت گیا۔

اس شکست کا سب پاکستان کی مایوس کن بیٹنگ تو تھی ہی، لیکن ساتھ ہی نازک مرحلے پر فیلڈنگ کا بھی کردار رہا۔ کیمار روچ کو ملنے والے دو مواقع نے تو گویا شکست پر مہر ہی ثبت کر دی۔

گو کہ پاکستان نے دوسرا ٹیسٹ واضح مارجن سے جیتا اور سیریز برابر بھی کی، لیکن پے در پے ویسٹ انڈیز میں کامیابیوں کا خواب، خواب ہی رہا۔

اس یادگار مقابلے کے آخری دن کی جھلکیاں