چار نصف سنچریاں، نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز میں بھی فتح یاب

0 386

نیوزی لینڈ نے چار بلے بازوں کی نصف سنچریوں اور سونے پہ سہاگہ جمی نیشم کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کو تیسرا اور فیصلہ کُن ون ڈے بھی ہرا دیا ہے۔ پانچ وکٹوں کی اس کامیابی کی بدولت نیوزی لینڈ خسارے کے جانے کے باوجود سیریز ‏2-1 سے جیت گیا ہے، جو ویسٹ انڈین سرزمین پر نیوزی لینڈ کی پہلی سیریز فتح ہے۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2022ء - تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل

ویسٹ انڈیز بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏21 اگست 2022ء

کینسنگٹن اوول، برج ٹاؤن، بارباڈوس

نیوزی لینڈ 5 وکٹوں سے جیت گیا

سیریز ‏2-1 سے نیوزی لینڈ کے نام

ویسٹ انڈیز301-8
کائل میئرس105110
نکولس پورَن9155
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
ٹرینٹ بولٹ101533
مچل سینٹنر100382

نیوزی لینڈ 🏆307-5
ٹام لیتھم6975
ڈیرل مچل6349
ویسٹ انڈیز باؤلنگامرو
جیسن ہولڈر70372
یانک کیریا90772

برج ٹاؤن، بارباڈوس میں اس مقابلے نے کئی مرتبہ پلٹا کھایا۔ ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا لیکن فائدہ ویسٹ انڈیز نے اٹھایا، اوپنرز کی 173 رنز کی شراکت داری کی بدولت۔ شے ہوپ اور کائل میئرس نے متضاد اننگز کھیلتے ہوئے اتنی بڑی پارٹنرشپ کی۔ ایک اینڈ سے شے ہوپ نے 100 گیندوں پر محض 51 رنز بنائے تو دوسرے کنارے سے میئرس نے 110 گیندوں پر 105 جڑ دیے۔ یہ اُن کی دوسرے ون ڈے سنچری تھی۔

ابتدائی تقریباً 35 اوورز تک نیوزی لینڈ ایک وکٹ کے لیے بھی ترستا رہا، لیکن یک نہ شد دو شد، انہیں دو گیندوں پر دونوں سیٹ بلے بازوں کی وکٹیں مل گئیں۔

یہاں باقی ماندہ لگ بھگ 15 اوورز میں نکولس پورَن کا جادو خوب چلا۔ انہیں کسی دوسرے بیٹسمین کا ساتھ میسر نہیں آیا لیکن وہ تنِ تنہا ڈٹے رہے، جمے رہے اور ویسٹ انڈیز کو مقابلے کی دوڑ میں برقرار رکھا۔

پورَن نے صرف 55 گیندوں پر 91 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنی گیارہویں ون ڈے نصف سنچری 33 گیندوں پر مکمل کی۔ بد قسمتی سے وہ بھی بابر اعظم کی طرح 91 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ دوسرے اینڈ سے حال یہ تھا کہ کوئی بلے باز دہرے ہندسے میں داخل نہ ہو سکا، سوائے آخر میں الزاری جوزف کے 6 گیندوں پر 20 رنز کے۔

ویسٹ انڈیز نے آخری 15 اوورز میں 128 رنز ضرور بنائے، لیکن اسکور 301 رنز سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا، اگر ایک بھی بلے باز کپتان کا اچھی طرح ساتھ دے دیتا۔

بہرحال، نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو کھلاڑیوں کو مچل سینٹنر نے آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ نے آغاز لیا تو ابتدا ہی میں فن ایلن کی وکٹ گنوائی۔ وہی بیٹسمین جنہوں نے پچھلے میچ میں کامیابی دلائی تھی، صرف 3 رنز پر میدان سے واپس آ گئے۔

یہاں پر مارٹن گپٹل اور ڈیون کونوے نے معاملات سنبھالے اور مجموعہ 102 رنز تک پہنچا کر نیوزی لینڈ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔ گپٹل نے 64 گیندوں پر 57 رنز بنائے جبکہ کونوے نے بھی نصف سنچری اسکور کی اور 63 گیندوں پر 56 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

نیوزی لینڈ 25 ویں اوور میں 128 رنز پر تین وکٹیں کھو چکا تھا یعنی اب باقی ماندہ اتنے ہی اوورز میں اسے مزید 174 رنز درکار تھے۔

یہاں پر کپتان ٹام لیتھم اور ڈیرل مچل کی کمال کی شراکت داری ہوئی۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر صرف 103 گیندوں پر 120 رنز کا اضافہ کیا اور اننگز کو آخری 10 اوورز کے مرحلے تک لے آئے۔

نیوزی لینڈ ایک آسان فتح کی جانب گامزن تھا، جب میچ میں ایک اور سنسنی خیز موڑ آیا۔ چند گیندوں کے فرق سے مچل اور لیتھم دونوں آؤٹ ہو گئے۔ مچل نے 49 گیندوں پر 63 رنز بنائے جبکہ لیتھم 75 گیندوں پر 69 رنز بنا اس وقت آؤٹ ہوئے جب 40 گیندوں پر 43 رنز کی ضرورت تھی۔

یہاں مائیکل بریسویل اور جمی نیشم نے معاملات اپنے ہاتھوں میں لیے، بلکہ یوں کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ویسٹ انڈیز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ خاص طور پر نیشم نے، جنہوں نے صرف 11 گیندوں پر چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 34 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ 48 ویں اوور کی پہلی گیند پر انہی کے چھکے کی بدولت میچ اور سیریز دونوں جیت گیا۔

میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ٹام لیتھم کو ملا جبکہ مچل سینٹنر سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی ‏2-1 کے مارجن سے جیتی تھی۔