انگلستان کا دورۂ بھارت، ٹیم انڈیا ’انتقام‘ کے لیے تیار

گزشتہ سال یعنی سال2011میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سال ٹیم انڈیا کے لئے ایک کامیاب ترین اور یادگار سال ثابت ہوا تھا۔ عالمی کپ 2011کی فتح، سہواگ کی جارحانہ اننگ، اورعالمی کپ کے سیمی فائنل جیسے اہم ترین مقابلے میں روایتی حریف پاکستان کو دی جانے والی شکست سال گزشتہ کے تاریخی لمحات تھے۔ لیکن عالمی کپ کے عین بعد انگلستان کی سرزمین پر جو ڈرامہ کھیلا گیا اس نے ٹیم انڈیاکے ان تمام کارہائے نمایاں کو پس پشت ڈال دیا۔

بھارت انگلستان کے خلاف 2008ء کی سیریز کی کارکردگی دہرانا چاہے گا (تصویر: Getty Images)

بھارت انگلستان کے خلاف 2008ء کی سیریز کی کارکردگی دہرانا چاہے گا (تصویر: Getty Images)

عالمی کپ فاتح کو ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ملی ہزیمت بھارتی مداحوں کا سر نیچا کر دینے کے لئے کافی تھی۔ چہار جانب بھارتی کرکٹ ٹیم کی اہلیت پر سوالات اٹھنے لگے۔ اگر بھارتی کرکٹ ٹیم عالمی کپ کی فاتح نہ ہوتی تو شاید انگلستان کی سرزمین سے ملنے والے زخم بھی اتنے گہرے نہ ہوتے ۔ عالمی کپ 2011ء کی فتح اور عین اس کے بعدانگلستان کے ہاتھوں ز بردست پسپائی ایک ایسا تضاد تھا جو نہ کرکٹ مبصرین کو ہضم ہو رہا تھا اور نہ شائقین کو۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت تھی جسے طوہاً و کرہاً قبول کرنا تھا۔ اس رسوائی کا تازیانہ لئے جب قومی ٹیم وطن واپس ہوئی تو تمام بھارتی کرکٹ شائقین کی زبان پر ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ اس ہزیمت کا انتقام اسی صورت میں لیا جا سکتا ہے کہ بھارت بھی انگلستان کو جیت کے لئے اسی طرح تڑپائے جس طرح ٹیم انڈیا سرزمین انگلستان پر تڑپی تھی۔

بھارتی شائقین کی امیدیں بر آئیں۔ دورۂ انگلستان کے ٹھیک ایک ماہ بعد انگلینڈ نے بھار ت کا دورہ کیا جہاں ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی گئی۔ اس سیریز میں انگلینڈ بالکل اسی طرح بے بس نظر آیا جس طرح بھارت اس کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد بے یار و مددگار ہو گیا تھا۔ انگریزوں کو بھارتی سرزمین پر ایک فتح بھی نصیب نہ سکی۔ لیکن انگلستان کی سرزمین سے بھارت کو ملنے والے زخم ایسے تھے جو مندمل ہوتے نہ ہوئے، اور ہوتے بھی کیسے؟ قاعدے کے اعتبار سے بھارت کا اصل انتقام ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں تھا، جس کا موقع اسے نصیب نہ ہو سکا۔

اب پورے ایک سال بعد انگلستان کی ٹیم بھارت دورے پرپہنچ چکی ہے۔ جہاں15نومبر سے اسے بھارت کے ساتھ مکمل سیریز کھیلنی ہے۔ یہ دورہ تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل ہے۔

مذکورہ پس منظر میں اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ سیریز ٹیم انڈیا کے لئے کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ انگلستان کی سرزمین سے جو ذلت و رسوائی کے داغ ملے ہیں اسے مٹانے کا یہ پہلا اور بہترین موقع ٹیم انڈیا کو میسر آ رہا ہے۔ لیکن یہ موقع اس قدر آسان نہیں۔ کیونکہ جس طرح بھارت کی یہ تمنا ہے کہ وہ اپنا گزشتہ سال کا حساب برابر کرکے ناقدین کا منہ بند کرے اسی طرح انگلستان کابھی یہ خواب ہے کہ وہ 27سال بعد بھارتی سرزمین پر اپنی پہلی سیریز جیت کر تاریخ رقم کرے۔

موجودہ کپتان ایلسٹر کک کے لئے اس سے بڑی فخر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی کپتانی کے پہلے دورے میں ہی اپنی ٹیم کے لئے یہ کارہائے نمایاں انجام دیں۔ گو کہ یہ ان کے لئے ایک مشکل ترین کام ہوگا لیکن اسے ناممکن قرار دینے والے انگلستان کی اہلیت کا غلط اندازہ کریں گے۔ا نگلستانی ٹیم کے سابقہ تمام تنازعات ختم ہو چکے ہیں۔ کیون پیٹرسن کی ٹیم میں شمولیت کے بعدانگلستانی کھلاڑی مکمل طور پر منظم ہو چکے ہیں۔ انگلستان کے لئے اگر سب سے اہم مسئلہ کوئی ہے تو وہ بھارتی اسپن گیندبازی کا مقابلہ کرنا ہے۔

2012کی ابتدا میں انگریز بلے بازجس طرح پاکستانی اسپن گیند بازی کے آگے سرنگوں نظر آ رہے تھے اس سے اس بات کابخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی پچوں پر انہیں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درحقیقت انگلستان کو بھارتی سرزمین پر سب سے زیادہ اسپن گیندبازوں نے ہی پریشان کیا ہے۔ ماضی میں بھارتی سرزمین پر انگلستانی بلے باز کس طرح اسپنرز کے سامنے بے بس ر ہے ہیں اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ سال2008-09ء کے دور ے پر بھارتی اسپن گیند بازوں نے انگلستان کے خلاف 53.33 فیصد کے ساتھ کل 30 وکٹیں حاصل کیں۔ وہیں سال2005-06ء میں 47.16 فیصد کے ساتھ 53، سال 2001-02ء میں 72.00 فیصد کے ساتھ 50، سال 1992-93ء میں 76.66 فیصد کے ساتھ 60،اور سال 1984-85ء میں 70.00 فیصد کے ساتھ 60 وکٹیں حاصل کیں۔ 1993ء میں کھیلی گئی ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بھارت نے انگلستان کا 3-0 سے صفایا کیا تھا۔ اس پوری سیریز میں انگلستان کی کل 60 وکٹیں گری تھیں، جن میں انیل کمبلے، وینکٹ پتی راجو اور راجیش چوہان پر مشتمل بھارت کے اسپن مثلث کے حصے میں مجموعی طور پر 46وکٹیں آئیں تھیں۔ جس میں تن تنہا انیل کمبلے نے 21 وکٹیں لی تھیں۔

وہیں 2001ء میں ہربھجن سنگھ اور انیل کمبلے نے موہالی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں مشترکہ طور پر 15 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یہ سیریز بھارت نے ایک صفر سے جیتی تھی۔انگلستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز کی فتح میں بھی بھارتی اسپن گیند بازی کا ہی اہم کردار رہا ہے۔1971ء میں لیگ اسپنر بی ایس چندرا شیکھر نے آخری ٹیسٹ جو اوول میں کھیلا گیا تھاکی دوسری اننگ میں انگلستان کے چھ بلے بازوں کو آؤٹ کیا تھا۔ انہوں نے اس میچ میں کل114رنز دے کر 8وکٹیں لی تھیں۔اس طرح انگلستان کی پوری اننگ محض 101 رنوں پر سمٹ گئی تھی اور بھارت یہ ٹیسٹ4وکٹوں سے جیت کر ا نگلستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا تھا۔

بھارت اور انگلستان کی یہ تاریخ صاف طور سے یہ ظاہر کرتی ہے کہ انگلستانی بلے باز اگر بھارتی اسپن گیندبازی کے شکنجے سے خود کومحفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے تو وہ27 سال کے قحط کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وہیں اگر بھارتی اسپنروں کا جادو چل نکلا تو یقینی طور پر دورۂ بھارت انگلستان کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن جائے گا اور عین ممکن ہے کہ انگلستانی کھلاڑیوں کو بھارتی سرزمین سے اسی ذلت و رسوائی کے ساتھ سوئے وطن روانہ ہونا پڑے جس طرح گزشتہ سال بھارتی کرکٹ ٹیم حیران و شکستہ وطن واپس لوٹی تھی۔

Facebook Comments