رضوان اور نواز کا کارنامہ، پاکستان نے بالآخر بھارت کو ہرا دیا

0 307

محمد رضوان اور محمد نواز کی عمدہ بلے بازی کی مدد سے پاکستان نے بالآخر بھارت کو ایشیا کپ میں شکست دے ہی دی۔ دونوں کی دھواں دار بیٹنگ نے وہ بنیاد فراہم کی جس پر خوشدل شاہ اور آصف علی آگے بڑھے اور معاملے کو آخری اوور تک لے آئے، جہاں افتخار احمد نے فاتحانہ شاٹ لگا دیا۔ یوں پاکستان نے جاری ٹورنامنٹ کے پہلے مقابلے کی شکست کا ازالہ کر دیا ہے، وہ بھی سپر 4 جیسے  اہم مرحلے میں اور اپنی فائنل تک رسائی کو بھی آسان بنا لیا ہے۔

ایشیا کپ 2022ء - سپر 4

پاکستان بمقابلہ بھارت

‏4 ستمبر 2022ء

دبئی کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات

پاکستان 5 وکٹوں سے جیت گیا

بھارت 181-7
ویراٹ کوہلی6044
روہت شرما2816
پاکستان باؤلنگامرو
شاداب خان40132
محمد نواز40251

پاکستان 🏆182-5
محمد رضوان7151
محمد نواز4220
بھارت باؤلنگامرو
روی بشنوئی40261
عرشدیپ سنگھ3.50271

دبئی میں پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ ٹاس جیت گیا اور توقعات کے عین مطابق پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بھارت کا آغاز ایسا تھا کہ ایک لمحے کے لیے بابر اعظم بھی گھبرا گئے ہوں گے کہ انہیں پہلے بیٹنگ کیوں دے دی؟۔ خود اندازہ لگا لیں، ابتدائی پانچ اوورز میں بھارت نے 54 رنز بنا لیے تھے۔ کیا نسیم شاہ اور کیا محمد حسنین؟ روہت شرما اور کے ایل راہُل نے دونوں کی خوب خاطر مدارت کی۔ حارث رؤف نے بھی پہلے اوور میں 12 رنز کھائے لیکن دوسرے اوور میں آتے ہی انہوں نے روہت کو آؤٹ کر دیا۔ یہ تو بھلا ہو خوشدل شاہ کا، جنہوں نے فخر زمان نے ٹکرانے کے باوجود کیچ نہیں چھوڑا، ورنہ روہت تو رکنے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔ 16 گیندوں پر 28 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا۔

یہاں پاکستان کے اسپنرز شاداب اور محمد نواز نے داد دینا ہوگی، جنہوں نے رنز کے کو بخوبی روکا اور کے ایل راہُل، سوریا کمار یادَو اور رشبھ پنت کی قیمتیں وکٹیں بھی لیں۔ دونوں کے آٹھ اوورز میں صرف 56 رنز بنے اور تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان کے فاسٹ باؤلرز کا حال بہت بُرا رہا۔ نسیم، حسنین اور حارث نے 12 اوورز پھینکے اور تین وکٹوں کے بدلے میں 121 رنز دیے۔

اسے بھی پاکستان کی خوش قسمتی کہیے کہ ہاردِک پانڈیا آج صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے۔ وہ محمد حسنین کی ایک گیند پر محمد نواز کے ہاتھوں میں کیچ دے گئے۔ نواز نے، جو پہلے ہی سوریا کمار کی وکٹ لے چکے تھے، بعد میں دیپک ہوڈا کا کیچ پکڑ کر کُل تین کیچز بھی لیے، یعنی کہہ سکتے ہیں کہ آج نواز کا دن تھا۔

بہرحال، بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ رنز ویراٹ کوہلی نے بنائے جو 44 گیندوں پر 60 رنز بنانے کے بعد آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے۔ آخری اوور کی آخری دو گیندوں پر فخر زمان کی مایوس کن فیلڈنگ کی وجہ سے بھارت کو مفت کے دو چوکے ملے اور یوں اس کا اسکور 7 وکٹوں پر 181 رنز پر پہنچ گیا۔

اب پاکستان کے سامنے بہت بڑا ہدف تھا، لیکن بابر اعظم کی ایک بار پھر ناکامی نے پاکستان کو ابتدا ہی میں بڑا دھچکا پہنچا دیا۔ وہ روی بشنوئی کے پہلے ہی اوور میں روہت شرما کو آسان کیچ دے بیٹھے۔ یہاں پر محمد رضوان نے ایک اینڈ سنبھال لیا۔ دوسرے اینڈ سے فخر زمان  18 گیندوں پر 15 رنز بنا کر لوٹے  تو اسکور 63 رنز پر دو وکٹ تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں پاکستان نے ایک انوکھا فیصلہ لیا۔ کپتان بابر اعظم نے محمد نواز کو میدان میں اتار دیا اور یہ جوا کام کر گیا!

نواز نے آتے ہی رنز کی رفتار بڑھائی، یعنی جس کام کے لیے بھیجا گيا تھا وہ کام بخوبی انجام دیا۔ رضوان نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے 41 گیندوں پر 73 رنز کا اضافہ کر کے پاکستان کے امکانات کو زندہ کر دیا۔ اس شراکت میں رضوان کے 21 گیندوں پر 30 رنز ہی تھے لیکن نواز نے تو کمال ہی کر دیا۔ صرف 20 گیندوں پر 42 رنز بنائے اور میچ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں پلٹ گئے۔

آخری پانچ اوور کا کھیل شروع ہوا تو پاکستان کو 47 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی آٹھ وکٹیں باقی تھیں۔ یہیں پر روہت بھوونیشور کو لائے، جنہوں نے نواز کو آؤٹ کیا اور اگلے اوور میں ہاردک پانڈیا محمد رضوان کی 71 رنز کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ یوں میچ ایک مرتبہ پھر برابری پر آ گیا۔

پاکستان آخری تین اوورز میں اس طرح داخل ہوا کہ اسے 34 رنز کی ضرورت تھی اور دونوں اینڈز پر نئے بیٹسمین موجود تھے، خوشدل شاہ اور دوسرے پر آصف علی۔

یہاں ایک فیصلہ کن مرحلہ آیا۔ اٹھارہویں اوور کی تیسری گیند کو امپائر نے تو وائیڈ قرار دیا، لیکن بھارت نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ اُن کے خیال میں گیند آصف کے دستانے کو چھو کر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی تھی۔ ری پلے میں الٹرا ایج پر بہت معمولی حرکت بھی نظر آئی، لیکن وہ اتنی کم تھی کہ فیلڈ امپائر کا فیصلہ رد کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ یہاں تھرڈ امپائر نے بالکل درست فیصلہ کیا اور ناٹ آؤٹ قرار دے دیا، جس پر روہت شرما خاصے گرم دکھائی دیے۔ لیکن ذرا ٹھیریے، غصے والامرحلہ تو ابھی باقی تھا، اگلی ہی گیند پر عرشدیپ سنگھ نے آصف علی کا آسان ترین کیچ چھوڑ دیا۔

یوں آصف علی کو دو گیندوں پر دو زندگیاں ملیں اور اس کی انہوں نے بھارت سے پوری پوری قیمت وصول کی۔ جب دو اوورز میں پاکستان 26 رنز درکار تھے تو آصف نے بھوونیشور کو چھکا اور آخری گیند پر چوکا لگا کر بھارت کے زخموں پر نمک بلکہ مرچیں بھی چھڑک دیں۔ پاکستان نے 19 ویں اوور میں 19 رنز لوٹے اور یوں آخری اوور میں اسے صرف 7 رنز کی ضرورت تھی۔

یہاں آصف نے دوسری گیند عرشدیپ کو چوکا لگایا لیکن ایک گیند ضائع کرنے کے بعد وہ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ افتخار احمد آئے تو پاکستان کو دو گیندوں پر دو رنز درکار تھے۔ انہوں نے کہانی میں کوئی نیا موڑ پیدا نہیں کیا اور پانچویں گیند پر پاکستان کو یادگار جیت دلا دی۔

محمد نواز کو 20 گیندوں پر 42 رنز کی پانسہ پلٹ دینے والی اننگز اور ساتھ ہی تین کیچز اور ایک وکٹ حاصل کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا، بلاشبہ وہ اس کے حقدار بھی تھے۔

ایشیا کپ میں اب اگلا مقابلہ بھی بھارت کا ہے، جو منگل 6 ستمبر کو سری لنکا کے مقابل آئے گا۔ پاکستان بدھ کو افغانستان سے کھیلے گا۔