[آج کا دن] اسٹائلش بیٹسمین سعید انور کا یومِ پیدائش

0 369

پاکستان کی تاریخ میں 6 ستمبر کا دن سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے کیونکہ اِس دن جنگ کے میدان میں پاکستان نے بھارت کو شکستِ دی تھی، لیکن دنیائے کرکٹ میں آج کے دن کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ ٹھیک تین سال بعد 1968ء میں اسی دن مایہ ناز بلے باز سعید انور پیدا ہوئے تھے۔ افواجِ پاکستان کی طرح سعید بھی دشمن کو پچھاڑنے اور انہیں زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ان کی خوبصورت بلے بازی شائقین کو ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنے پر مجبور کر دیتی تھی، بس دل چاہتا تھا کہ سعید انور کھیلتے رہیں اور ہم دیکھتے رہیں۔

ویسے تو سعید انور کو وکٹ کے چاروں اطراف رنز بنانے پر عبور حاصل تھا لیکن جس طرح شیر اپنا شکار نہیں چھوڑتا، سعید انور بھی آف سائیڈ پر جاتی گیند کو نہیں چھوڑتے تھے۔ پلک جھپکتے میں گیند تھرڈ مین، گلی، پوائنٹ اور مڈ آف پر نظر آتی تھی۔ اس "سزا" سے بچنے کے لیے چند گیند بازوں نے سعید انور کو لیگ سائیڈ پر گیندیں پھینکنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی، لیکن اِس کوشش میں بھی ناکام رہے کیونکہ وہ بھول جاتے تھے کہ بلے باز کوئی اور نہیں بلکہ سعید انور ہیں۔ ایسی ہی گیندوں کے لیے ان کے فلِک پر لگائے گئے کمال چھکے تھے۔

سعید انور طویل اننگز کے عادی تھے، یعنی اُنہیں ’’لمبی ریس کا گھوڑا’’ کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ ثبوت ایک روزہ میں مسلسل تین سنچریاں بنانے کا اپنے زمانے کا عالمی ریکارڈ برابر کرنا، پھر تین بار مسلسل دو سنچریاں بنانا، ون ڈے میں 20 بار تہرے ہندسے کی اننگز کھیلنا، جو آج بھی سب سے زیادہ سنچریوں کا قومی ریکارڈ ہے، اور پھر سب سے بڑھ کر اپنے زمانے کی سب سے بڑی ون ڈے اننگز کھیلنا، یہ سب سعید انور کی عظمت کا ثبوت ہیں۔

ان کے شاندار کیریئر پر ایک نظر تو ڈالیں: 247 ون ڈے انٹرنیشنل میچز، 20 سنچریاں اور 43 نصف سنچریاں اور 39.21 کے اوسط کے ساتھ 8824 رنز۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں سعید انور انضمام الحق اور محمد یوسف کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔

ون ڈے انٹرنیشنلز: سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستانی بلے باز

میچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
انضمام الحق37511701137*39.531083
محمد یوسف2819554141*42.081562
سعید انور247882419439.212043
شاہد آفریدی393802712423.81639
شعیب ملک287753414334.55944

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سعید انور کے ایک روزہ کیریئر کی بات کی جائے اور بھارت کے خلاف چنئی میں کھیلی گئی 194 رنز کی یادگار اننگز کو نظر انداز کردیا جائے؟ سعید انور نے اِس اننگز کے ذریعے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ایک عظیم بیٹسمین ہیں۔ سعید انور ون ڈے کرکٹ کی پہلی ڈبل سنچری بنانے میں تو ناکام رہے، لیکن ویوین رچرڈز کا ایک بڑا ریکارڈ ضرور توڑا یعنی ون ڈے انٹرنیشنل کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا۔ اگلے 13 سال تک یہ ریکارڈ سعید انور کے ہاتھ میں رہا، اور بالآخر 2010ء میں بھارت کے سچن تنڈولکر نے ون ڈے انٹرنیشنلز کی پہلی ڈبل سنچری کے ذریعے اسے توڑا۔ حق بہ حقدار رسید!

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے ہٹ کر دیکھیں تو ٹیسٹ میں بھی سعید انور کا ریکارڈ شاندار رہا۔ انہوں نے 55 مقابلوں میں11 سنچریوں اور 25 نصف سنچریوں کی مدد سے 4052 رنز بنائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سعید انور کی سب سے بڑی اننگز بھارت کے خلاف ہی کھیلی گئی۔ یہ 1999ء میں کلکتہ کے میدان سعید انور نے ناقابل شکست 188 رنز بنائے تھے۔ اِس سے پہلے سعید کی طویل ترین اننگز 1996ء میں انگلینڈ میں بنائی گئی تھی، جب انہوں نے اوول کے میدان پر 176 رنز بنائے اور عالمگیر شہرت حاصل کی۔ یہی وہ کارکردگی ہے جس کے بعد معروف عالمی جریدے 'وزڈن' نے 1997ء میں سعید انور کو سال کا بہترین کرکٹر قرار دیا۔

سعید انور کئی منازل اور مراحل عبور کرتے، لیکن ان کی قسمت میں نہیں لکھا تھا۔ 2001ء میں ان کی صاحب زادی بسمہ کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا اور اس صدمے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ زندگی کی بے ثباتی کا علم ہونے کے بعد سعید انور نے مذہب کا رخ کر لیا۔

بعد ازاں انہوں نے 2003ء میں پاکستان کے ورلڈ کپ کھیلا اور بھارت کے خلاف ایک یادگار سنچری بھی بنائی لیکن اس ورلڈ کپ کے ساتھ ہی سعید انور کا کیریئر ختم ہو گیا۔ انہوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی مذہب کے لیے وقف کر دی اور انہی کی تبلیغ کی بدولت بعد میں کئی کھلاڑیوں کی زندگیاں بدلیں، یہاں تک کہ یوسف یوحنا بھی مسلمان ہو گئے۔

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی بات بہترین اوپنرز کی ہوگی، یا بیسٹ لیفٹ ہینڈڈ بلے بازوں کا ذکر ہوگا، سعید انور ہمیشہ سب سے نمایاں نظر آئیں گے۔