نسیم شاہ میانداد کے نقشِ قدم پر، شارجہ میں ایک یادگار و جذباتی فتح

0 684

شارجہ کے ساتھ پاکستان کا بڑا ہی جذباتی تعلق ہے اور آج اس تعلق میں ایک کڑی مزید جُڑ گئی، جب نسیم شاہ نے آخری اوور میں دو چھکے لگا کر پاکستان کو ناقابلِ یقین انداز میں جتوایا اور پھر افغانستان کے خلاف کامیابی کا ایسا جشن منایا، جو مدتوں یاد رہے گا۔

صرف ایک وکٹ سے ملنے والی اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان ایشیا کپ 2022ء کے فائنل میں پہنچ گیا ہے، بلکہ اپنے ساتھ سری لنکا کو بھی لے گیا ہے۔ یعنی افغانستان ہی نہیں بلکہ دفاعی چیمپیئن بھارت بھی ایشیا کپ سے باہر ہو گیا ہے۔

ایشیا کپ 2022ء - سپر 4

پاکستان بمقابلہ افغانستان

‏7 ستمبر 2022ء

شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم، شارجہ، متحدہ عرب امارات

پاکستان 1 وکٹ سے جیت گیا

افغانستان129-6
ابراہیم زدران3537
حضرت اللہ زازئی2117
پاکستان باؤلنگامرو
حارث رؤف 40262
نسیم شاہ40191

پاکستان 🏆131-9
شاداب خان3626
افتخار احمد3033
افغانستان باؤلنگامرو
فرید احمد40313
راشد خان40252

ویسے پاکستان یہ میچ جیتا ضرور، لیکن افغانستان کے کھیل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔ انہوں نے صرف 130 رنز کے ہدف کے دفاع میں پاکستان کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ یہاں تک کہ صرف 31 رنز کے اضافے سے پاکستان کی چھ وکٹیں حاصل کر لیں اور مقابلے کو آخری اوور تک پہنچا دیا۔ جہاں پاکستان کو 11 رنز کی ضرورت تھی اور افغانستان کو صرف ایک وکٹ کی۔ یہاں نسیم شاہ کے دو غیر معمولی شاٹس اپنا کام نہ دکھاتے تو افغانستان تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے خلاف جیت ہی جاتا۔

ایک بظاہر آسان ہدف کے تعاقب میں 15 اوورز تک پاکستان کے ہوش و حواس سلامت تھے۔ صرف تین وکٹیں گری تھیں اور اسے آخری پانچ اوورز میں 45 رنز کی ضرورت تھی۔ جو آنے والے بلے بازوں کے نام دیکھتے ہوئے بالکل مشکل نہیں لگتے تھے۔ یہاں افغانستان ہر گزرتے اوور کے ساتھ میچ پر حاوی ہوتا چلا گیا۔ پہلے افتخار احمد کی وکٹ لی، پھر جذبات کی رو میں بہتے شاداب خان کو بھی آؤٹ کیا جو راشد خان کو مسلسل دوسرا چھکا لگانے کی کوشش میں کیچ دے گئے اور پھر فضل حق فاروقی نے ایک ہی اوور میں محمد نواز اور خوشدل شاہ کو آؤٹ کر کے مقابلے کو انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل کر دیا۔

جب آخری دو اوور بچے تو پاکستان کو 21 رنز کی ضرورت تھی اور تین وکٹیں باقی تھیں۔ یہاں حارث رؤف پہلی گیند پر صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے اور پھر آصف علی ایک چھکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر وکٹ دے گئے۔ آصف کے آؤٹ ہوتے ہی گویا میچ کا فیصلہ ہو گیا۔ ساتھ ہی دونوں طرف جذبات بھی عروج پر پہنچ گئے۔ باؤلر فرید احمد اور آصف علی میں تلخ کلامی ہوئی ہوئی، جو بڑھتے ہوئے دھکم پیل تک پہنچی۔ اسی لیے انتہائی بدمزگی کے ماحول میں آخری اوور کا آغاز ہوا، جہاں نسیم شاہ نے ابتدائی دونوں گیندوں پر میچ کا فیصلہ کر دیا۔

جیت کے باوجود پاکستان کی بیٹنگ کو دیکھا جائے تو آج بہت مایوس کُن رہی۔ پہلے ہی اوور میں بابر اعظم کا صفر پر آؤٹ ہونا اور پھر فخر زمان کا رن آؤٹ۔ عالم یہ تھا کہ پاور پلے میں صرف 35 رنز بنے، جو ٹورنامنٹ میں پاکستان کا سب سے سُست آغاز تھا۔

جب محمد رضوان 26 گیندوں پر 20 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو اسکور نویں اوور میں محض 45 رنز تھا۔ یہاں افتخار احمد اور شاداب خان اننگز کو آگے بڑھاتے رہے اور وہاں تک پہنچے، جہاں معاملات بگڑنا شروع ہوئے یعنی 87 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر۔ یہاں کچھ ہی دیر میں میچ ایسا پلٹا کھا چکا تھا کہ پاکستانی شائقین کے دل اچھل کر حلق میں آ گئے تھے۔

گو کہ شاداب خان میچ فنش نہ کر سکے، لیکن ان کے 26 گیندوں پر 36 رنز نے جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی لیے انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔ لیکن دِلوں کے "مین آف دی میچ" تو نسیم شاہ تھے، جو آج جیت کے شہنشاہِ جذبات بن گئے تھے۔

قبل ازیں، پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان نے چھ وکٹوں پر صرف 129 رنز بنائے تھے۔ پاکستانی باؤلرز نے بہت نپی تلی باؤلنگ کی اور افغان اوپنرز کے عمدہ آغاز کے بعد ان کی بیٹنگ لائن کو آخر تک باندھ کر رکھا۔ صرف ابراہیم زدران 37 گیندوں پر 35 رنز بنا کر کچھ نمایاں رہے۔ 20 اوورز مکمل ہوئے تو چھ وکٹوں پر اسکور صرف 129 رنز تھا۔

بہرحال، اب ایشیا کپ کے سپر 4 مرحلے کے باقی ماندہ دو مقابلے یعنی افغانستان-بھارت اور پاکستان-سری لنکا بے معنی ہو چکے ہیں۔ ان کا فائنل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو اتوار 11 ستمبر کو پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہی ہوگا۔