[آج کا دن] شیر دِل لانس کلوزنر نے جنم لیا

0 317

‏90ء کی دہائی بلاشبہ کرکٹ تاریخ کے یادگار ترین ادوار میں سے ایک تھی، اس لیے کیونکہ کرکٹ تاریخ کے کئی عظیم کھلاڑی اِس دہائی میں اپنے عروج پر تھے۔ پاکستان سے وسیم اکرم اور وقار یونس، بھارت سے 'fab four' یعنی سچن تنڈولکر، راہُل ڈریوڈ، سارو گانگُلی اور وی وی ایس لکشمن، آسٹریلیا سے گلین میک گرا اور شین وارن، ویسٹ انڈیز سے برائن لارا، کرٹلی ایمبروز اور کورٹنی واش، سری لنکا سے سنتھ جے سوریا اور مرلی دھرن اور جنوبی افریقہ سے جونٹی روڈز اور لانس کلوزنر۔ وہی کلوزنر جو 1971ء میں آج ہی کے دن یعنی 4 ستمبر کو پیدا ہوئے تھے۔

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ آج کے شائقین لانس کلوزنر کو اس کھلاڑی کی حیثیت سے جانتے ہیں جو ورلڈ کپ 1999ء کے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو نہ جتوا سکا۔ لیکن وہ شاید یہ بات نہیں جانتے کہ اس ٹورنامنٹ میں محض 8 میچز میں انہوں نے 17 وکٹیں حاصل کی تھیں اور صرف 230 گیندوں پر 281 رنز بھی بنائے تھے۔ ان میں نازک ترین مراحل پر کھیلی گئی تین فاتحانہ اننگز بھی شامل تھیں، جس میں وہ پاکستان کو بھی 41 گیندوں پر 46 رنز مار کر جنوبی افریقہ کو جتوا چکے تھے۔

یاد رکھیں کہ یہ آج کی کرکٹ نہیں ہے کہ جس میں اچھا "بلے باز" اُس کو مانا جائے جس کا اسٹرائیک ریٹ 150 سے زیادہ ہو۔ تب تو ون ڈے میں 260 رنز بھی جیت کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے۔ تب آج جیسے بیٹسمین فرینڈلی قوانین بھی نہیں تھے، نہ ہی اُن کے ہاتھوں میں آج کے Thor کے ہتھوڑے جیسے بلّے ہوتے تھے، جن کو گیند چھو بھی جائے تو تماشائیوں میں جا گرے۔ گیند اور بلّے کے درمیان باقاعدہ مقابلہ نظر آتا تھا۔ اور مقابلہ بھی ان عظیم کھلاڑیوں کے درمیان۔ ایسا زمانہ تھا کہ کرکٹ شائقین کے لیے گویا ہر دن روزِ عید اور ہر رات شبِ برات تھی۔

تب جنوری 1996ء کے اوائل میں لانس کلوزنر نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا اور دوسرے ہی ون ڈے اننگز میں آسٹریلیا کے خلاف 99 گیندوں پر 88 رنز کی ناقابلِ شکست اور فاتحانہ اننگز کھیل کر خود کو ثابت بھی کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُسی سال انہیں ٹیسٹ ڈیبیو بھی کروایا گیا، اور کیا یادگار میچ تھا وہ بھی!

کلکتہ کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں بھارت نے جنوبی افریقہ کے 428 رنز کے جواب میں 329 رنز بنائے۔ کلوزنر کے لیے یہ اننگز بہت مایوس کن رہی۔ انہوں نے 14 اوورز میں 5.35 کے بھاری اکانومی ریٹ سے 75 رنز کھائے اور ایک وکٹ تک نہ لے سکے۔ اس اننگز کی خاص جھلک وہ تھی جب محمد اظہر الدین نے اپنی سنچری اننگز کے دوران مسلسل پانچ گیندوں پر کلوزنر کو پانچ چوکے رسید کیے تھے۔

بہرحال، پہلی اننگز کی برتری اور دوسری اننگز کی شاندار بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ نے بھارت کو 467 رنز کا بہت مشکل ہدف دیا۔ تب کلوزنر آئے اور چھا گئے۔ ان کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے بھارت صرف اور صرف 137 رنز پر آل آؤٹ ہوا۔ کلوزنر پر تو گویا جنون طاری تھا۔ اننگز کے ساڑھے 53 اوورز میں سے ساڑھے 21 خود کلوزنر نے پھینکے اور 64 رنز دے کر پوری 8 وکٹیں حاصل کیں۔ جی ہاں! انہوں نے آؤٹ کیا اظہر الدین کو اور سارو گانگُلی اور وی وی ایس لکشمن کو بھی۔  یہ آج بھی کسی ڈیبیوٹنٹ کا اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں بہترین باؤلنگ کا عالمی ریکارڈ ہے۔

بھارت سے ان کی خاص دشمنی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اپنے چوتھے ہی ٹیسٹ میں کلوزنر نے بھارت کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں 100 گیندوں پر 102 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ نویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے تھے اور کسی بھی جنوبی افریقی بلے باز کی تیز ترین ٹیسٹ سنچری بنا کر گئے۔

کلوزنر نے کُل 49 ٹیسٹ میچز کھیلے اور لگ بھگ 33 کے اوسط سے 1906 رنز بنائے البتہ باؤلنگ میں وہ ذرا پیچھے رہے، تقریباً 38 کے بھاری اوسط سے صرف 80 وکٹیں۔

لانس کلوزنر کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگز10050وکٹیںبہترین باؤلنگ
ٹیسٹ49190617448808-64
ون ڈے انٹرنیشنل1713576103*2191926-49
فرسٹ کلاس1979521202*21485088-34
لسٹ اے3246648142*3343346-49
ٹی ٹوئنٹی531014111*14292-8

ٹی ٹوئنٹی تو اُس وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھی، اس لیے مختصر طرز کا ایک ہی فارمیٹ یعنی ون ڈے انٹرنیشنل تھا اور کلوزنر گویا اسی فارمیٹ کے لیے بنائے گئے تھے۔ 171 ایک روزہ مقابلوں میں انہوں نے 41 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 3,576 رنز بنائے، وہ بھی تقریباً 90 کے اسٹرائیک ریٹ سے جو اپنے زمانے کا غیر معمولی اوسط ہے۔ کلوزنر کے ون ڈے کیریئر میں دو سنچریاں بھی شامل تھیں اور ساتھ ہی 19 ففٹیز بھی۔ اپنی فاسٹ باؤلنگ کی بدولت انہوں نے 192 وکٹیں بھی حاصل کیں، 30 سے بھی کم کے اوسط سے۔

کلوزنر کے کیریئر کا بدترین لمحہ تو بلاشبہ 1999ء کے ورلڈ کپ کا وہ سیمی فائنل ہے جس میں وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود جنوبی افریقہ کو جتوا نہیں پائے۔ البتہ اُس ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی ضرور قرار دیے گئے اور 2000ء میں وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا۔

کلوزنر نے ایک یادگار میچ 1999ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی کھیلا تھا۔ میک لین پارک، نیپیئر میں کھیلے گئے اس مقابلے میں جنوبی افریقہ کو آخری گیند پر جیتنے کے لیے 4 رنز کی ضرورت تھی اور کلوزنر سامنا کر رہے تھے۔ باؤلر ڈیون نیش کی فل ٹاس پر انہوں نے گیند کو میدان سے باہر پھینک دیا اور یوں جنوبی افریقہ کے جاوید میانداد بن گئے۔

ہر جارح مزاج کھلاڑی کی طرح کلوزنر کے ساتھ بھی ڈسپلن کے بڑے مسائل تھے۔ انہیں جنوبی افریقہ کا اینڈریو سائمنڈز سمجھ لیں۔ 2003ء کے ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی اور جنوبی افریقہ کے قبل از وقت اخراج کے بعد جب ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی تو گریم اسمتھ کی زیر قیادت نئے سیٹ اپ میں اُن کی جگہ نہیں بنی۔ اسمتھ نے تو یہاں تک کہا کہ کلوزنر اپنی تمام غیر معمولی صلاحیتوں کے باوجود کسی بھی ٹیم کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ایک اچھے ٹیم پلیئر نہیں ہیں۔