اطمینان پاکستان کو لے ڈوبا، سری لنکا نیا ایشین چیمپیئن

0 510

سری لنکا، جس کے ایشیا کپ 2022ء جیتنے کے امکانات شاید 10 فیصد بھی نہ ہوں، وہی سری لنکا جو ٹورنامنٹ کے پہلے مقابلے میں صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا اور افغانستان کے ہاتھوں بد ترین شکست سے آغاز لیا، وہی سری لنکا، جی ہاں! وہی سری لنکا آج پاکستان کے خلاف ایک شاندار کامیابی حاصل کر کے چھٹی مرتبہ ایشین چیمپیئن بن گیا ہے۔

ایشیا کپ 2022ء - فائنل

پاکستان بمقابلہ سری لنکا

‏11 ستمبر 2022ء

دبئی کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی، متحدہ عرب امارات

سری لنکا 23 رنز سے جیت گیا

سری لنکا 🏆170-6
بھانوکا راج پکشا7145
ونندو ہسارنگا3621
پاکستان باؤلنگامرو
حارث رؤف40293
شاداب خان40281

پاکستان 147
محمد رضوان5549
افتخار احمد3231
سری لنکا باؤلنگامرو
پرمود مدوشان40344
ونندو ہسارنگا40273

دوسری جانب پاکستان، جس نے ایشیا کپ میں کئی یادگار میچز کھیلے، بھارت اور افغانستان کے خلاف حوصلہ افزا اور ناقابلِ یقین فتوحات حاصل کیں، فائنل میں توقعات پر پورا نہیں اتر پایا بلکہ یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ سب سے بُرا کھیل پیش کرنے کے لیے جس دن کا انتخاب کیا، وہی فائنل کا دن تھا۔

اب ایسا بھی نہیں کہ یہ ایک یک طرفہ مقابلہ تھا۔ پاکستان نے ٹاس جیتا، جو دبئی میں بہت قیمتی ہوتا ہے اور پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ پھر ابتدائی 10 اوورز میں صرف 67 رنز دیے اور سری لنکا کی آدھی ٹیم کو میدان بدر بھی کر دیا۔ میدان میں موجود تماشائی اور اسکرین پر نظریں جمائے ناظرین، سبھی کو یقین تھا کہ اب پاکستان کو جیت سے کون روک سکتا ہے؟ شاید یہی اطمینان ٹیم میں بھی آ گیا تھا اور یہی سکون لے ڈوبا۔

سری لنکا نے اپنی اننگز کے آخری 10 اوورز کے ذریعے مقابلے میں ایسا واپس آیا کہ پاکستان کو کہیں پناہ نہیں ملی۔ 171 رنز کا ہدف تھا، 147 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور یوں 23 رنز سے ہار گیا۔ ایشین چیمپیئن بننے کا ارمان آنسوؤں میں بہہ گیا۔

فائنل میں سب سے نمایاں کارکردگی تھی سری لنکا کے بھانوکا راج پکشا کی۔ جنہوں نے اُس مرحلے پر 45 گیندوں پر 71 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی، جب سری لنکا کے پانچ کھلاڑی صرف 58 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے۔ قسمت بھی خوب اُن کے ساتھ رہی، آتے ہی پہلے ہی اوور میں انہیں حارث رؤف کی ایک زور دار ایل بی ڈبلیو اپیل کا سامنا کرنا پڑا۔ امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا حالانکہ معاملہ بہت ہی قریبی تھا۔ پاکستان نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا اور یقین کریں اس سے زیادہ 'کلوز' ایل بی ڈبلیو کال آپ نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ پچ اِن لائن، امپیکٹ اِن لائن لیکن نجانے کیسے گیند کا وکٹ کو ہٹ ہونا امپائرز کال پر چلا گیا۔ بھانوکا بال بال بچے، اور پھر پاکستان کا بال بال نوچ ڈالا۔

کہاں سری لنکا جو 10 اوورز میں صرف 67 رنز پر کھڑا تھا، باقی ماندہ 10 اوورز میں 103 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ نسیم شاہ کے ہاتھوں کوسال مینڈس اور حارث رؤف کی گیند پر دنوشکا گوناتھلکا کے کلین بولڈ کے مناظر بھولی بسری یاد بن گئے۔ یہی سے پاکستان نے ایسا مومینٹم کھویا کہ پھر میچ میں واپس نہیں آ سکا۔

سری لنکا نے آخری چار اوورز میں کیا کچھ نہیں ہوا؟ نسیم شاہ کو ایک اوور میں دو چھکے پڑے۔ پاکستان نے ایک کیچ چھوڑا، پھر دوسرا کیچ چھوڑ کر اس کو چھکا بنایا۔ 50 رنز کا اضافہ ہو گیا اور ایسا ہدف بنا لیا جو پاکستان کی پہنچ سے باہر تھا۔

بابر اعظم کے لیے یہ ایشیا کپ انفرادی طور پر ایک ڈراؤنا خواب رہا۔ وہ 6 گیندوں پر صرف 5 رنز بنانے کے بعد ایک ایسی گیند پر آؤٹ ہوئے، جس پر کم از کم بابر کو وکٹ نہیں دینی چاہیے تھی۔ یہی نہیں بلکہ اگلی ہی گیند پر فخر زمان اپنی ہی وکٹوں میں کھیل گئے اور 'گولڈن ڈک' کا "ایوارڈ" لے کر واپس آئے۔

صرف 22 رنز پر دو وکٹیں گرنے سے پاکستان کو دھچکا تو پہنچا، لیکن اتنا نہیں کہ اس کی تلافی کے لیے اگلی 59 گیندوں میں صرف 71 رنز بنائے جاتے۔ یہ شراکت داری تھی محمد رضوان اور افتخار احمد کی۔ جنہوں نے ڈیمیج کنٹرول کرنے کی کوشش اس طرح کی کہ کنٹرول ہی ڈیمیج ہو گیا۔ ان کی موجودگی میں ہی درکار رن ریٹ آسمان کو پہنچ گیا اور اس مقام پر پہنچ گیا کہ کسی کی بھی برداشت سے باہر ہو گیا۔

جب یہ شراکت داری ٹوٹی تو 40 گیندوں پر 77 رنز کی ضرورت تھی جو پاکستان کے "مڈل آرڈر" کے لیے بہت زیادہ تھے۔ آصف علی، شاداب خان اور خوشدل شاہ سے یہ توقع تو رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ڈیڑھ، دو اوور میں 24 رنز بنا کر دے دیں گے لیکن یہ امید رکھنا کہ یہ 6 سے زیادہ اوورز کھیل کر آپ کو 77 رنز بنا کر دیں گے؟ عبث تھا اور یہ ثابت بھی ہوا۔

بلاشبہ اس غلطی کا ذمہ نہ رضوان کو ٹھیرایا جا سکتا ہے اور نہ افتخار کو لیکن اس طرح کی صورت حال میں کھیلنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک اینڈ سے اگر کوئی 'رن اے بال' کھیل رہا ہے تو دوسرے اینڈ سے اس کی کسر پوری ہونی چاہیے۔ یہاں تو دونوں اینڈ سے ہی 'one-dimensional ' کارروائی چلتی رہی۔ نتیجہ تو یہی نکلنا تھا۔

‏110 رنز پر اسکور پہنچا تو رضوان کی 49 گیندوں پر 55 رنز کی اننگز تمام ہوئی اور ونندو ہسارنگا نے اسی اوور میں گویا میچ کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے آصف علی کو صفر پر کلین بولڈ کیا اور پھر خوشدل شاہ کو بھی کیچ آؤٹ کروا کر پاکستان کی شکست پر مہر لگا دی۔

آخری امید شاداب خان 18 ویں اوور کی آخری گیند پر مہیش تھیکشانا کی واحد وکٹ بنے۔ پاکستانی اننگز کی دوسری سب سے بڑی پارٹنرشپ آخری وکٹ پر تھی، جب محمد حسنین اور حارث رؤف نے 11 گیندوں پر 22 رنز بنائے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن نے کیا بھیانک کارکردگی دکھائی تھی۔

اس کے مقابلے میں سری لنکا کی شراکت داریاں دیکھیں: پانچ وکٹیں گرنے کے بعد بھانوکا راج پکشا اور ہسارنگا ڈی سلوا نے 36 گیندوں پر 58 رنز کا اضافہ کیا اور اُس کے بعد راج پکشا نے چمیکا کرونارتنے کے ساتھ مل کر 31 گیندوں پر مزید 54 رنز بنائے۔ جہاں پاکستان نے اپنے آخری 8 اوورز میں صرف 59 رنز بنائے اور آٹھ وکٹیں دیں، وہیں سری لنکا نے اتنے ہی اوورز میں 85 رنز کا اضافہ کیا تھا، وہ بھی صرف اور صرف ایک وکٹ دے کر۔

یہ 2014ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ سری لنکا ایشین چیمپیئن بنا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2014ء کے بعد اس نے اپنے پہلے فائنل میں بھی پاکستان کو ہی شکست دی۔ جبکہ پاکستان آخری بار 2012ء میں ایشیا کپ جیتا تھا یعنی 10 سال کے انتظار بعد بھی وہ صرف دل ہی جیت پایا، کپ نہیں۔