پاک-زمبابوے آخری ایک روزہ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ سیریز کا فیصلہ کن میچ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ زمبابوے کے کھلاڑیوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاجاً ہڑتال کردی ہے۔

زمبابوے کے کھلاڑیوں نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر آج تربیتی سیشن کا بائیکاٹ کیا (تصویر: AFP)

زمبابوے کے کھلاڑیوں نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر آج تربیتی سیشن کا بائیکاٹ کیا (تصویر: AFP)

پاکستان کے خلاف جاری سیریز کے آغاز سے قبل زمبابوے کے کھلاڑیوں نے تنخواہیں ادا نہ کرنے کے خلاف متحد ہو کر بورڈ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بقایا جات ادا کرنے کے ساتھ ساتھ میچ فیس میں اضافہ بھی کرے۔ کھلاڑیوں کا مطالبہ تھا کہ ٹیسٹ کی میچ فیس 5 ہزار ڈالرز، ایک روزہ کی 3 ہزار ڈالرز اور ٹی ٹوئنٹی کی 1500 ڈالرز کی جائے لیکن بعد ازاں اس سے کم ادائیگی پر معاملات طے ہو گئے اور بورڈ نے یقین دہانی کروائی کہ 28 اگست تک انہیں لازماً بقایا جات ادا کردیے جائیں گے، جو 30 اگست تک ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں منتقل ہو جائیں گے لیکن آج صبح کے تربیتی سیشن میں کھلاڑیوں کو معلوم ہوا کہ کسی ایک کو بھی ادائیگی نہیں کی گئی، جس پر انہوں نے تربیتی سیشن کا بائیکاٹ کر دیا۔

حالیہ مذاکرات سے قبل زمبابوے کے کھلاڑیوں کو بورڈ کی جانب سے 2 ہزار ڈالرز ماہانہ معاوضہ ملتا تھا اور اس کی ادائیگی بھی سال میں صرف 7 ماہ کی جاتی ہے۔ اب اس معمولی سی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو تو کھلاڑیوں کا احتجاج بجا ہے۔

ویسے زمبابوے کے پاس پاکستان جیسی بہتر ٹیم کے خلاف ایک روزہ سیریز جیتنے کا نادر موقع ہے۔ اس وقت پاکستان کے خلاف سیریز 1-1 سے برابر ہے اور زمبابوے آخری ایک روزہ جیت کر ایک یادگار فتح حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن اب اگر کھلاڑیوں کو بقایا جات نہ ملے اور وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو ہو سکتا ہے کہ کل کے ایک روزہ کے ساتھ ساتھ آنے والی ٹیسٹ سیریز بھی منعقد نہ ہو سکے۔

Facebook Comments