عمر گل کا کیریئر مسلنے کی کوشش

سلیکشن کمیٹی نے جب دو ون ڈے مقابلوں کی کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے عمر گل کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا تو یہ فیصلہ ہضم نہیں ہورہا تھا کہ تقریباً9 ماہ تک بین الاقوامی کرکٹ سے باہر رہنے والے جس باؤلر نے فٹ ہونے کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے علاوہ صرف ایک فرسٹ کلاس مقابلہ کھیلا ہے، اسے کس طرح ٹیسٹ کرکٹ کے لیے فٹ قرار دے دیا گیا ہے؟

پاکستان کی توجہ عمر گل کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک مکمل فٹ کرنے پر ہونی چاہیے (تصویر: AFP)

پاکستان کی توجہ عمر گل کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک مکمل فٹ کرنے پر ہونی چاہیے (تصویر: AFP)

سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں تبصرہ کار کی خدمات انجام دینے والے سابق عظیم باؤلر وقار یونس نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ عمر گل ٹیسٹ میچ کے لیے مکمل فٹ نہیں، اور انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھلانے کا خطرہ مول نہیں لیا جانا چاہیے۔ ٹیم انتظامیہ نے بھی تجربہ کار باؤلر کو میچ فٹنس کی کمی کے سبب فائنل الیون کے ساتھ میدان میں نہیں اتارا اور یوں "گل" کو کھلنے سے پہلے ہی مرجھا دیا۔

اب گزشتہ شب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ عمر گل کو پاکستان واپس بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر ٹیسٹ کے لیے مطلوبہ فٹنس حاصل کرسکیں۔ 6 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم میں حبیب بینک اور پاکستان ٹیلی وژن کے 4روزہ مقابلے میں عمرگل کی فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا اور "خدشہ" ہے کہ اس مقابلے کے بعد عمرگل کو ایک مرتبہ پھر عجلت میں متحدہ عرب امارات روانہ کیا جائے گا تاکہ وہ تیسرے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کا حصہ بن سکیں۔

عمر گل کو وطن واپس بھیجنے کی وجہ بھی مضحکہ خیز ہے۔ سری لنکا کے خلاف آخری ون ڈے میں جب ان کی فٹنس کا پول کھل گیا تھا، اس کے باوجود ان کو پانچ روزہ مقابلوں کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا گیا اور اب پہلے ٹیسٹ کے وسط میں قومی ٹیم کے نئے ٹرینر ڈیل نائلر نے یہ "انکشاف" کیا ہے کہ عمر گل ٹیسٹ میچ کے لیے مکمل فٹ نہیں۔ یہ انکشاف ٹیسٹ ٹیم کے اعلان سے قبل بھی ہوسکتا تھا اور ممکن ہے کہ انہوں نے ٹیم انتظامیہ کے کان میں یہ بات ڈالی بھی ہو مگر ایسا لگتا ہے کہ چند حلقے عمرگل کو ہر قیمت پر ٹیسٹ کھلانا چاہ رہے تھے، جس کی وجہ سے تیز باؤلر کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا اور اگر عمر گل پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے ایک مرتبہ پھر زخمی ہوجاتے تو ممکن تھا کہ پاکستان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء مختصر ترین طرز کے تجربہ کار و کامیاب ترین اس باؤلر کے بغیر کھیلنا پڑتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی بے ڈھنگی پالیسیاں ہی اس پر تنقید کا سبب بنتی ہیں کیونکہ عمر گل کی فٹنس سے ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی مکمل طور پر آگاہ تھی مگر پھر بھی باؤلنگ لائن کو مضبوط کرنے کے لیے عمر گل کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا اور ان کی فٹنس کے خوف کی وجہ سے بلاول بھٹی کو اضافی کھلاڑی کے طور پر روک لیا۔ بلاول بھٹی کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت پر تنقید بھی اسی لیے ہوئی کیونکہ ان کو منتخب کرنے کا طریقہ کار غلط تھا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ٹیم انتظامیہ عمر گل کی فٹنس سے آگاہ تھی تو اس کے لیے یہ ناٹک کرنے کے بجائے اگر بلاول کو براہ راست اسکواڈ میں شامل کرلیا جاتا تو کسی کوتنقید کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ لیکن جان بوجھ کر اختیار کیے گئے اس طریقے سے نہ صرف عمر گل کا کیریئر داؤ پر لگ سکتا تھا بلکہ بلاول بھٹی جیسے باصلاحیت باؤلر کو بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جو اسکواڈ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود ٹیسٹ میچ کھیل گیا۔

بہرحال، عمر گل کی فٹنس کے معاملے پر دوبارہ واپس آتے ہیں کہ ڈیل نائلر کی ہدایت پر عمر گل وطن واپس بھیجے جا رہے ہیں اور اب وہ نیشنل اکیڈمی میں اپنی فٹنس بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں گے۔ اگر ٹیم انتظامیہ عمر گل کو تیسرا ٹیسٹ کھلانے کے لیے تیار کرنے کی خاطر پاکستان بھیج رہی ہے تو یہ ایک اور غلط فیصلہ ہوگا کیونکہ عمر کو ابھی ٹیسٹ کرکٹ کے ردھم میں واپس آنے کے لیے کچھ وقت دکرار ہے اور انہیں آنے والے دنوں میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ کے لیے بچانا چاہیے کیونکہ وہ اس فارمیٹ میں بہت کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔

پی سی بی ایک طرف تو عمر گل کو ڈیل نائلر سے "دور" کررہا ہے اور دوسری جانب محمد عرفان کو فٹنس حاصل کرنے کے لیے نائلر کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔ بہتر یہی تھا کہ ٹیم کے ساتھ رہ کر ہی عمر گل کی فٹنس پر بھی کام کیا جاتا جہاں انہیں ڈیل نائلر جیسے ٹرینر کی خدمات حاصل ہوتیں لیکن اگر ٹیم انتظامیہ یہ سمجھ رہی ہے کہ عمر گل ایک فرسٹ کلاس میچ کھیل کر ٹیسٹ کے لیے درکار فٹنس حاصل کرلیں گے اور تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے تو یہ محض ان کی خام خیالی ہے بلکہ اسے تجربہ کار تیز باؤلر کے کیریئر کے ساتھ کھیلنے کی کوشش سمجھا جائے گا۔

Facebook Comments