سعید اجمل پر پابندی، آئی سی سی اور پی سی بی کی نااہلی

بالآخر سعید اجمل کی باؤلنگ پر پابندی کا اعلان ہو ہی گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا پرستار ہوتے ہوئے ظاہر ہے مجھے اس اعلان پر بہت افسوس ہوا ۔ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی نااہلیوں کی طویل فہرست میں ایک اور باب کا اضافہ ہے۔ اگلے مہینے 37 ویں سالگرہ منانے والے سعید اجمل نے چھ ساد پہلے 2 جولائی 2008ء کو بھارت کے خلاف کراچی میں اپنے ایک روزہ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اس کے ٹھیک ایک سال بعد 4 جولائی 2009ء کو گال کے میدان پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کی شروعات کی۔ اب تک سعید اجمل تینوں طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں 446 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ جس میں ٹیسٹ میں 35 میچز میں 28.01 کے اوسط سے 178 وکٹیں اور 111 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں 22.18 کے اوسط سے 183 وکٹیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 134 فرسٹ کلاس مقابلوں میں 25.91 کے شاندار اوسط سے حاصل کردہ 546 وکٹیں بھی شامل ہیں۔

آف اسپنرز کے خلاف تازہ بساط میں سعید اجمل کے گرنے کے بعد اب دوسرے مہروں کی خیر نہيں (تصویر: AFP)

آف اسپنرز کے خلاف تازہ بساط میں سعید اجمل کے گرنے کے بعد اب دوسرے مہروں کی خیر نہيں (تصویر: AFP)

ان اعدادوشمار کو دیکھیں اور پی سی بی اور آئی سی سی کی نااہلی کا ماتم کریں۔ یہ اعدادوشمار دونوں موقر اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ اگر سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن غیر قانونی ہے تو پھر ریکارڈ بک میں اِن کی کیا حیثیت ہے؟ اگر گیند پھینکتے ہوئے سعید اجمل قانونی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو غیر قانونی ایکشن کے ساتھ آخر سعید اجمل کس طرح اور کیوں چھ سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے رہے اور اس مقام تک پہنچے جہاں تک بہت کم آف اسپنر پہنچے ہیں۔

چلیں تھوڑی دیر کے لیے یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن مشکوک بلکہ غیر قانونی ہے لیکن یہ سوال تو جوں کا توں موجود رہے گا کہ فرسٹ کلاس میں 500 اور بین الاقوامی کرکٹ میں 400 سے زیادہ وکٹیں لینے والے سعید پر پابندی کا خیال اب کیوں آیا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کے مشکوک باؤلنگ ایکشن کا نوٹس تک نہیں لیا۔ کیا پی سی بی کے پاس ایسا کوئی داخلی نظام موجود نہیں جس کے ذریعے مشکوک باؤلنگ ایکشن کے حامل گیندبازوں کو بین الاقوامی کرکٹ میں بھیجنے سے پہلے ان کی چھان بین خود کی جا سکے؟

سعید اجمل پر پابندی کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ ایک کھلاڑی نے اپنی پوری زندگی کرکٹ کو دے دی۔ جب پاکستان کی نمائندگی کرنےکا خواب تک دھندلا گیا تو اسے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کا موقع ملا اور اب جبکہ کرکٹ اس کا واحد ذریعہ معاش بن چکا ہے تو اس کا سب کچھ داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ پچھلے 6 سالوں میں سعید اجمل نے اپنے کھیل کے ذریعے پاکستانی قوم کو بے شمار ایسے یادگار لمحات سے نوازا ہے جو تاعمر ہر پاکستانی شائق کی یادوں میں زندہ رہیں گے۔ لیکن آج ان تمام کارناموں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

درحقیقت آئی سی سی مشکوک باؤلنگ ایکشن کے معاملے پر خود واضح ذہن نہیں رکھتا۔ یا تو سارے ہی باؤلرز کے ایکشن کلیئر، یا سارے کے سارے ہی دھر لیے گئے، یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ قانون میں سقم ہے۔جو سعید 2009ء میں پہلی مرتبہ ایکشن رپورٹ ہونے کے بعد جانچ کی چھلنی سے باآسانی گزر گیا، آج ایسا پکڑا گیا کہ 'دوسرا' تو کجا، اس کی ہر گیند غیر قانونی قرار پائی ہے۔

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے معاملے پر سختی کرنے کی ضرورت ہے اور کسی باؤلر کو ناقص ایکشن کے ساتھ گیندبازی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بازو میں 15 درجے سے زیادہ کے خم کو معیار بنایا گیا ہے تو اس کا اطلاق انصاف کا تقاضہ ہے۔ لیکن مقامی کرکٹ عہدیداران اور آئی سی سی کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ کرکٹ قوانین کو لاگو کرنے میں تسلسل کا مظاہرہ کریں۔ ایسا ہرگز نہ ہو ایک باؤلر کی سالوں کی محنت پر بیک جنبشِ قلم پانی پھیر دیا جائے۔

Article Tags

Facebook Comments